خیبر پختونخواہ حکومت کے محکمہ اطلاعات کا پبلسٹی ونگ اور علاقائی دفاتر بند کرنے کے فیصلے

خیبر پختونخواہ کی صوبائی حکومت نے میڈیا کے حوالے سے جو فیصلہ کیاہے اسے صوبے کی تمام سیاسی جماعتوں نے مسترد کر دیاہے اس فیصلے کے تحت صوبائی محکمہ اطلاعات کا پبلسٹی ونگ اور وزارت اطلاعات کے چھ ڈویژنل دفاتر بھی ختم کر دیئے گئے ہیں اس طرح فارغ ہونے والے141 افسروں کو دیگر محکموں میں بھیجاجارہاہے ستم ظریفی تو یہ ہے کہ گریڈ اٹھارہ کے انفارمیشن افسروںکو گریڈ سترہ میں ایڈجسٹ کیاجارہاہے جس سے ان کا سارا کیریئر تباہ ہوگیاہے بتایاگیاہے کہ یہ سارے اقدامات تحریک انصاف کے چیئرمین کے ایک زبانی حکم کے تحت کئے جارہے ہیں انہیں یہ شکوہ تھا کہ پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا پر حکومت اور پارٹی کی پبلسٹی موثر طریقے سے نہیں کی گئی خیبر پختونخواہ کے سابق وزیراطلاعات نے عمران خان کے مضحکہ خیز حکم کی مخالفت کرتے ہوئے اسے واپس لینے کا مطالبہ کیاہے ادھر یہ اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں کہ پی ٹی آئی کی حکومت اپنا ایک اطلاعاتی سیل قائم کرنے جارہی ہے جس میںپارٹی کارکن بھرتی کئے جائیں گے مرکزی یا صوبائی محکمہ اطلاعات میں میڈیا کے حوالے سے پیشہ وارانہ صلاحیت اور مہارت کے حامل افسران موجود ہوتے ہیں جو حکومت کی کارکردگی کو اجاگر کرنے اور اس کی عوامی ساکھ میں اضافہ کے لئے اپنے مخصوص طریقہ کار کے تحت کام کرتے ہیں اگر کوئی حکومت اس محکمہ کے کسی شعبہ سے شاکی ہوتی ہے تو اس کا یہ مطلب ہوتاہے کہ اس کا متعلقہ وزیر محکمے کی رہنمائی کرنے اور اسے رہنما اصول دینے کی اہلیت نہیں رکھتا اطلاعات کے افسران پیشہ وارانہ طور پر اتنے مضبوط ہوتے ہیں کہ ہر حکومت کی خواہشات کے مطابق میڈیا کے ذریعے نتائج حاصل کرنے میں کامیاب ہوتے ہیں خیبر پختونخواہ کے محکمہ اطلاعات کے افسران برسہا برس سے میڈیا کے شعبہ میں کام کر رہے ہیں اور انہوں نے ماضی کی ہر حکومت کے تابع بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کیاہے تحریک انصاف کی صوبائی حکومت کا مسئلہ یہ ہے کہ اس نے ایک سال میں دو وزیر اطلاعات تبدیل کئے ہیں اوراب تیسرے کو لایا جارہاہے بنیادی بات یہ ہے کہ صوبائی وزیر اعلی اپنے کسی وزیر اطلاعات پر یہ واضح ہی نہ کرسکے کہ اسے محکمہ اطلاعات کے ذریعے کیانتائج حاصل کرنے ہیں اور یہی ابہام وزیر اطلاعات اور محکمے کے افسران درمیان بھی موجود رہاہے اگر صوبائی حکومت ان باصلاحیت افسروں سے کام نہیں لے سکی جنھوں نے اپنی کارکردگی کے حوالے سے متعدد حکومتوں کو مطمئن کیاہے تو اس میں افسروں کا قصور نہیں حکومت کی نااہلی ہے ہمیں خدشہ ہے کہ محکمہ اطلاعات میں اس اکھاڑ پچھاڑ سے پرنٹ میڈیا کو صوبائی محکموں کی طرف سے اشتہارات کی فراہمی بھی متاثر ہوگی اور اشتہارات کو بھی میرٹ کے بغیر نوازشات کے طور پر تقسیم کیاجائے گا میڈیا کے مفاد میں یہ ضروری ہے کہ تحریک انصاف کے چیئرمین اس فیصلے کو واپس لیں جسے ایک سابق وزیر اطلاعات نے مضحکہ خیز قرار دیاہے۔