حکومت اور تحریک انصاف کے درمیان مکالمہ وقت کی اہم ضرورت

وفاقی حکومت کا یہ فیصلہ مستحسن ہے جس کے تحت اس بار جشن آزادی مسلسل دو ہفتے تک منایا جائے گا اور یوم آزادی کے موقع پر سب سے بڑی تقریب پارلیمنٹ ہائوس کے سامنے واقع ڈی چوک میں منعقد ہوگی اس موقع پر وزیراعظم پرچم کشائی کے بعد قوم سے خطاب کریں گے جشن آزادی کی اس تقریب کے باعث اسلام آباد میں کسی مظاہرے اور دھرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ یہ ایک واضح بات ہے کہ وفاقی حکومت کا محولہ فیصلہ تحریک انصاف کے چیئرمین کے لاہور سے اسلام آباد تک لانگ مارچ کو روکنے کے سلسلے میں کیا گیا ہے یوم آزادی کے موقع پر قبل ازیں پرچم کشائی کی تقریب اکثر اسلام آباد کے جناح کنونشن سنٹر میں منعقد ہوتی تھی تاہم اس بار اس کے ڈی چوک میں انعقاد کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ ہمارے نزدیک اس فیصلے پر بظاہر کسی کے اعتراض کی کوئی وجہ نہیں یوم آزادی اس امر کا تقاضا کرتا ہے کہ اس روز سرکاری یا غیر سرکاری سطح پر وفاقی دارالحکومت میں زیادہ سے سے زیادہ تقریبات منعقد کی جائیں ماضی میں جنرل ضیاء کی فوجی حکومت کے دور میں یوم آزادی کی تقریبات اور جشن کا سلسلہ یکم اگست سے ہی شروع ہو جاتا تھا تاہم بعدازاں اس میں کمی آتی گئی اور یہ محض 14اگست کے دن تک محدود ہو کر رہ گیا یہ اچھی بات ہے کہ موجودہ حکومت نے جشن آزادی کے اس سلسلے کو بحال کیا ہے کاش اس نے عمران خان کے 14اگست کے لانگ مارچ کے اعلان سے قبل جشن آزادی کے شیڈول کا اعلان کیا ہوتا موجودہ صورتحال میں حکومت یہ مثبت اور اچھا فیصلہ بھی ایک اپوزیشن جماعت کے فیصلے کا ردعمل دکھائی دیتا ہے۔ اصولی طور پر تحریک انصاف کی طرف سے  یوم  آزادی کے موقع پر اسلام آباد تک لانگ مارچ کا فیصلہ کوئی بھی اخلاقی جوازنہیں رکھتا۔  یوم آزادی کے موقع  پر قومیں متحد ہوکر جشن مناتی اور تقریبات منعقد کرتی ہیں اس روزوہ  اپنے باہمی اختلافات  کوایک طرف رکھ کر محض یوم آزادی  کے حوالے سے  اپنے اکابرین کی جدوجہد کا تذکرہ کرتیں اور ملک کو ترقی وخوشحالی سے ہمکنار کرنے کے عزم کااظہار کرتی ہیں  اس حوالے سے تحریک انصاف کا حکومت کیخلاف  لانگ مارچ کا اعلان سراسر بے معنی  اور بے مقصد ہے۔ مناسب یہی ہے کہ تحریک انصاف اپنے لانگ مارچ کے شیڈول پر نظرثانی کرے اور وفاقی حکومت کی طرف سے  پرچم کشائی  کی تقریب کے انتظامات  کو سبوتاژ کرنے سے گریز کرے ہم اس موقع پر  تمام سیاسی جماعتوں کے سربراہوں کو اس جانب متوجہ کرنا ضروری سمجھتے ہیں کہ یوم آزادی سمیت  دیگر قومی دنوں کے حوالے سے  خصوصی تقریبات کا انعقاد قوم  کی ذمہ داری ہے۔  ان قومی دنوں کو بھرپور جوش و خروش کے ساتھ منانے کے لئے اجتماعی کوششوں کو بروئے کار لایا جانا چاہئے یوم آزادی کے اہم قومی دن کو جماعتی اختلافات  کی نذر   نہیں ہونا چاہئے بلکہ اس کے حقیقی جذبے اور  روح کے ساتھ   منانا چاہئے اس موقع پر  ہم یہ تجویز پیش کرنا ضروری سمجھتے ہیں کہ حکومت کو مستقل  بنیادوں پر یہ اعلان کرناچاہئے کہ آئندہ ہر سال  جشن  آزادی  دو ہفتوں تک منایا جائے گا اور اس سلسلے میں  تقریبات کا  آغاز یکم اگست  سے ہوگا تاہم اس سے قطع نظر  حکومت کو اس سوال پر بھی سنجیدگی سے  غور کرنا ہوگا کہ یوم آزادی سے  ہٹ کر لانگ مارچ کے کسی اعلان کا کیونکر مقابلہ کر سکے گی؟ اسے مخالف سیاسی جماعتوں کے دبائو کا مقابلہ کرنے کے لئے اس قسم کا عارضی ریلیف ڈھونڈنے کی بجائے ان کے ساتھ مقابلہ کی کوششیں کرنی چاہئیں۔ جمہوریت میں مکالمے کی اہمیت سے انکار نہیں کیا جاسکتا کوئی جماعت چاہے کتنا ہی انتہا پسندانہ رویہ کیوں نہ رکھتی ہو اسے بہرحال مذاکرات کے راستے پر لایا جاسکتا ہے' تاہم اس کے لئے یہ ضروری ہے کہ حکومت بھی تدبر' تحمل اور موثر حکمت عملی کو بروئے کار لائے' تحریک انصاف میں معاملہ فہم اور سمجھدار لیڈروں کی کمی نہیں ان کے ساتھ رابطے اور مکالمے کے ذریعے مسائل کا حل تلاش کیا جاسکتا ہے اور ملک میں موجود کشیدگی میں کمی لائی جاسکتی ہے ہم تحریک انصاف کے قائدین سے بھی اپیل کرتے ہیں کہ انہیں مذاکرات کی حکومتی پیشکشوں پر مثبت ردعمل کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔