لٹیروں اور بدعنوانوں کو حکم امتناعی کا حق نہیں ملنا چاہئے

پبلک اکائونٹس کمیٹی کی مانیٹرنگ و عملدرآمد کمیٹی نے بدعنوان عناصر کی جانب سے قومی خزانہ لوٹ کر عدالتوں سے حکم امتناعی لینے کے معاملے کا سختی سے نوٹس لیتے ہوئے حکومت سے کہا ہے کہ ان کرپٹ افراد کے عدالتوں سے رجوع کرنے پر پابندی لگانے کے لئے قانون میں ترمیم کرے کمیٹی نے پی ایس او میں  سنگین مالی بے قاعدگیوں میں ملوث افسران  کے خلاف بھی کارروائی کا حکم دیا ہے بلاشبہ کمیٹی  نے حکومت کی توجہ ایک بہت اہم نکتے کی جانب مبذول کروائی ہے  ہمارے ہاں یہ رجحان عام  ہے کہ چاہے کوئی شخص کسی نوعیت کی بدعنوانی   جعلسازی اور  فراڈ  میں ملوث ہو جب اس کے خلاف قانونی حرکت میں آتا ہے تو وہ شخص فوری طورپر عدالت سے  رجوع کرتا ہے اور اپنے حق میں حکم امتناعی لے کر آجاتا ہے اس کے بعد برسوں حکم امتناعی  کے جاری اور خارج ہونے کاچکر چلتا رہتا ہے اور اصل مسئلہ وہیں کا وہی رہتا ہے اس تناظر میں پبلک اکائونٹس کمیٹی  کی عملدرآمد کمیٹی کی یہ تجویز  بے حد اہم ہے کہ حکومت کو  قومی خزانہ  لوٹنے والے  بدعنوان عناصر کے حکم امتناعی کے لئے عدالتوں سے رجوع کرنے پر پابندی کی غرض سے  قانون میں ترمیم کرنی چاہئے ہم سمجھتے ہیں وزارت قانون کو اس معاملہ میں جلد ہی قانون میں ترمیم کے لئے مسودہ لانا چاہئے موقع کی مناسب سے ہم عدلیہ کے ارکان  سے بھی یہ اپیل کرتے ہیں کہ حکم امتناعی  کے حق کو  جس طرح ہمارے معاشرے میں غلط مقاصد کے لئے استعمال کیاجارہا ہے  اس کے جاری رہنے سے  ہم انصاف کے تقاضے پورے نہیں کر سکتے۔ اس کے اجراء کے فیصلے سے قبل دوسرے متعلقہ فریق کا موقف بھی جاننا چاہئے اس امر کا اہتمام ہوسکتا ہے کہ کم سے کم  وقت میں دوسرے فریق بھی عدالت میں پیش ہو کر اپنی ہر معروضات پیش کرے۔ بعض قانونی حلقوں کی اس رائے میں بھی وزن ہے کہ اگر متعلقہ جج صاحب خود بھی حکم امتناعی کی خواہش رکھنے والے سائل سے دوچار سوالات کر لیں تو وہ بھی معاملہ کی حقیقت تک پہنچ سکتے ہیں کہ سائل اپنے موقف میں کس قدر درست یا غلط ہے  بہرحال بنیادی بات یہی ہے کہ حکم امتناعی کے حق کو بدعنوانوں  لٹیروں  اور جعلسازوں کے مفاد میں ہرگز استعمال نہیں ہونا چاہئے۔ قانون میں ترمیم اور فیصلہ سے قبل چھان بین کے ذریعے حکومت اور عدلیہ دونوں کو اپنا اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔