غزہ پر اسرائیلی جارحیت،اسلامی کانفرنس کا ہنگامی اجلاس طلب کیاجائے

غزہ میں تازہ اسرائیلی بربریت کو ایک ہفتے سے زائد عرصہ گزر چکاہے فضائی بمباری کے بعد اب زمینی کارروائی کا سلسلہ بھی شروع کر دیاگیاہے جس میں اب تک ایک سو پچاس سے زائد فلسطینیوں کو شہید کیاجاچکاہے اسرائیل کی طرف سے شمالی غزہ کے رہائشیوں کو گھروں سے نکلنے کے لئے کہاگیاہے ٹینکوں کے ذریعے زمینی کارروائی کے نتیجے میں بیگناہوں کی کی مزید ہلاکتیں خارج امکان نہیں ہیں پاکستان کے مشیر خارجہ سرتاج عزیز نے اسرائیلی بربریت اور جارحیت کی مذمت کرتے ہوئے عالمی برادری سے اپیل کی ہے کہ وہ اس بربریت کو رکوانے کے لئے اپنا کردار ادا کرے اسلامی کانفرنس تنظیم اور عرب لیگ نے ایک ہفتہ پہلے شروع ہونے والی اس بربریت پر جس معنی خیز خاموشی اور لاتعلقی کا مظاہرہ کیا اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے جس عدم دلچسپی کا مظاہرہ کیا اس کے نتیجے میں یہودی حکومت کے حوصلے مزید بڑھے اور اسرائیلی فوجیوں کے ظلم وستم میں اضافہ ہوا اگر غزہ کے فلسطینیوں پر اسرائیل کی تازہ بربریت کے شروع ہوتے ہی اقوام متحدہ اور اسلامی کانفرنس تنظیم موثر طور پر اپنی آواز بلند کرتیں اور اسرائیل کو انتباہ کیاجاتا تو اس کی جارحیت کے قدم روکے جاسکتے تھے معصوم انسانوں کی مزید ہلاکتوں کو روکا جاسکتاتھا مزید گھروں اور مائوں کی گودوں کو اجڑنے سے روکا جاسکتاتھامختلف مسلم ریاستوں میں اسرائیل کے خلاف شدید احتجاج جاری ہے لیکن مسلم ریاستوں کے حکمرانوں کے لہجے میں جو شدید سختی اور احتجاج ہوناچاہیے اس کا فقدان ہے جبکہ مغربی دنیا جو جانوروں کے حقوق کے معاملے میں بھی ہمیشہ پرجوش ہواکرتی ہے غزہ کے مسلمانوں کی ہلاکتوں پر اس کے کان پر جو تک نہیں رینگی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے بارے میں اس کے اصول اور اس کا ردعمل ہمیشہ تعصبات کے گرد گھومتاہے جہاں مسلمانوں پر مظالم کا معاملہ ہو ان کے انسانی حقوق کی پامالی کا معاملہ ہو اور جارحیت کرنے والا اسرائیل ہو وہاں مغربی برادری کی زبانیں گنک ہوجاتی ہیں اور اس کے سیاسی معاشی اور دیگر مفادات حاوی ہوجاتے ہیںپاکستان اسلامی کانفرنس کا ایک اہم رکن ہے کانفرنس میں اس کے دوستوں کی بھی کمی نہیں اس لئے یہ ضروری ہے کہ ان کی مشاورت سے اسلامی کانفرنس کا ہنگامی اجلاس طلب کرنے کے لئے اقدامات کئے جائیں سلامتی کونسل کی طرف سے جس انداز سے اس معاملے میں پریس ریلیز جاری کی گئی وہ محض رسمی نوعیت سے زیادہ اہمیت نہیں رکھتا وقت کی ضرورت ہے کہ سلامتی کونسل فوری طور پر اسرائیلی جارحیت کو روکنے کے سلسلے میں اقدامات کرے لیکن اس طرف توجہ نہ دی گئی گویایہودی جارحیت کی بالواسطہ حوصلہ افزائی کی گئی اہم سوال یہ ہے کہ اگر سلامتی کونسل اپناعالمی کردار ادا نہیں کرتی تو کیا مسلم امہ کو بھی اپنی ذمے داریاں پوری نہیں کرنی چاہیں؟ضرورت اس امر کی ہے کہ امت مسلمہ فلسطینیوں کے حقوق کے معاملے میں بھرپور یکجہتی اور قوت کے ساتھ آواز بلند کرے اور تمام مطلوبہ اقدامات بھی کرے اہل فلسطین کے خلاف یہودیوں کی آئے روز کی بربریت کو روکنے کے لئے اس کے سوا کوئی طریقہ کار نہیں ہے وہ مسلمان تنظیمیں جو کبھی بغداد میں خلافت قائم کرنے کے لئے مسلمانوں کے خون سے ہولی کھیلتی ہیں کبھی افغانستان اور پاکستان میں مسلمانوں کا خون بہاتی اور دہشت گردی کا تمغہ گلے میں سجاتی ہیں انہیں اسرائیل کی جارحیت اور اس کی بربریت کیوں نظر نہیں آتی وہ یہودیوں کے خلاف کیوں سرگرم عمل نہیں ہوتیںیہ ایک بہت بڑا سوال ہے جس کا خواب ان کے لئے شرمندگی کے سوا کچھ نہیں اسلام کے ازلی دشمن کو نظر انداز کر کے امت مسلمہ کو کمزور کرنے کی کوششیں کرنے والے ہرگز اپنے آپ کو اسلام کے بہی خواہ نہیں کہہ سکتے پاکستان کو اسرائیلی جارحیت کے خلاف بھرپور طریقے سے احتجاج کرناچاہیے ملک بھر کے عوام جس شدت کے ساتھ اپنے جذبات کا اظہار کر رہے ہیں حکومتی احتجاج میں اس کی بھرپور ترجمانی اور نمائندگی ہونی چاہیے فلسطین کے صدر محمود عباس نے اقوام متحدہ سے فلسطین کو بین الاقوامی تحویل میں لینے کی درخواست کی ہے ادھر بعض اطلاعات میں بتایا گیاہے کہ امریکی وزیر خارجہ نے اسرائیلی وزیراعظم کو فون کر کے تل ابیب اور غزہ کے درمیان جنگ بندی کی پیشکش کی ہے ان کا کہناہے کہ وہ غزہ سے راکٹ حملے رکوانے کے سلسلے میں علاقائی رہنمائوں سے رابطے میں ہیں اسرائیلی وزیراعظم کا یہ اعلان تشویشناک ہے کہ ان کے حملے حماس کے خاتمے تک جاری رہیں گے اور جنگ کے خاتمہ کی تاریخ نہیں بتائی جاسکتی عالمی برادری کو نہتے فلسطینیوں کے خلاف صہونی جارحیت رکوانے کے لئے اپنی ذمے داریاں فوری طور پر پوری کرنی چاہیں