Get Adobe Flash player

لوڈشیڈنگ میں غیر معمولی اضافہ،عوام پریشان اور حکومتی لاتعلقی

رمضان المبارک سے قبل وفاقی حکومت کی طرف سے سحری افطاری اور تروایح کے اوقات میں بجلی کی لوڈشیڈنگ نہ کرنے کے سلسلے میں جو دعوے کئے گئے تھے ان کی حقیقت یہ ہے کہ آج ملک بھر کے عوام لوڈشیڈنگ کے خلاف شدید احتجاج کر رہے ہیں نہ صرف سحری اور افطاری کے اوقات میں بھی بہت سے شہروں اور علاقوں میں لوڈشیڈنگ جاری ہے بلکہ چوبیس گھنٹوں کے دوران اس کے مجموعی دورانیہ میں بھی زبردست اضافہ ہوگیاہے گویا حکومت روزہ داروں کو جو سہولت دے سکتی تھی اس میں بھی ناکام رہی ستم ظریفی تو یہ ہے کہ وزارت پانی وبجلی کے دونوں وزراء میں سے کوئی بھی عوام کو اس بات کی یقین دہانی کرانے کے لئے تیار نہیں ہے کہ جلد از جلد اس لوڈشیڈنگ کے دورانیہ میں کب تک کمی کی جاسکے گی ان کی طرف سے بہ بھونڈا موقف سامنے آتاہے کہ شدید گرمی کے دوران بجلی کی ڈیمانڈ میں زبردست اضافہ ہوگیاہے مگر ان کے پاس عوام کے اس سوال کا جواب نہیں کہ اسی نوعیت کی گرمی گزشتہ سال بھی پڑی تھی مگر رمضان المبارک کے دوران لوڈشیڈنگ کا یہ حال نہ تھا بعض اطلاعات کے مطابق گردشی قرضہ ایک بار پھر تین سو ارب تک جا پہنچاہے جس کے باعث بجلی پیدا کرنے والی کمپنیوں نے پیداوار میں کمی کر دی ہے جو کمپنیاں فرنس آئل سے بجلی پیدا کرتی ہیں ان کا موقف ہے کہ انہیں پی ایس او کو ادائیگی کرنی ہے انہیں ادائیگی کی جائے تو وہ مطلوبہ پیداوار دے سکتی ہیں جبکہ گیس کے ذریعے بجلی پیداوار کرنے والی کمپنیوں کا کہناہے کہ انہیں ان کی ضروریات کے مطابق گیس فراہم کی جائے تو ان کی پیداوار بڑھ سکتی ہے ادھر حکومت کی طرف سے سی این جی سیکٹر کو بھی ہفتے میں محض سولہ گھنٹے گیس فراہم کی جاتی ہے گرمیوں کے موسم میں جب گیس کا بحران نہیں ہوتا یہ صورتحال ناقابل فہم ہے باخبر حلقوں کا موقف ہے کہ حکومت اپنے چہیتے کارخانے داروں کوگیس فراہم کررہی ہے جس کے باعث یہ تمام ترمسائل پیداہوئے ہیں اس کی زیادہ توجہ صنعتی پہیہ چلانے پر مرکوز ہے وفاقی حکومت کے ایک ترجمان کی طرف سے یہ نیا شوشہ چھوڑاگیاہے کہ ہمارا سسٹم تیرہ ہزار میگاواٹ بجلی سے زیادہ برداشت کرنے کی صلاحیت ہی نہیں رکھتا تاروں کے پرانے نظام کو بدلنے اور فیڈرز کی صلاحیت میں اضافے کی ضرورت ہے اگر ایک لحظہ کے لئے اس موقف کو درست تسلیم کر لیاجائے تب بھی یہ سوال پیدا ہوتاہے کہ حکومت نے بجلی کے نظام کی صلاحیت میں اضافہ کے لئے کیاکیاہے اگر اقتدار سنبھالتے ہی فیڈرز کی صلاحیت میں اضافے اور متعلقہ علاقوں میں بوسیدہ تاروں کی تبدیلی کے لئے ہنگامی بنیادوں پر کام کیاجاتاتو آج صورتحال بہت بہتر ہوتی ہم سمجھتے ہیں کہ بجلی کی پیداوار میں اضافے کا مسئلہ متعلقہ ادارے کے حکام کی ناقص حکمت عملی اور بدانتظامی کا نتیجہ ہے وزیراعظم کو تمام متعلقہ حکام کا ہنگامی اجلاس طلب کر کے عوام کے اس اہم ترین مسئلہ پر توجہ دینی چاہیے یہ امر خوش آئند ہے کہ آخر کار وزیراعظم نے عوامی ردعمل کا نوٹس لیاہے دو وزیروں کی موجودگی میں ان کے نوٹس کی ضرورت کیوں پیش آئی لوڈشیڈنگ کے دورانیہ میں فوری طور پر کمی ہونی چاہیے