Get Adobe Flash player

جمہوری نظام نہیں بلکہ چند سیاستدان ناکام ہوئے

سابق صدر جنرل (ر) پرویزمشرف نے ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ موجودہ سیاسی نظام ملک کے کام نہیں آرہاہے ملک کو اچھے خاصے وقت کیلئے ایسے عبوری سیٹ اپ کی ضرورت ہے جسے فوج کی بھرپور حمایت حاصل ہو انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن عوام کو ڈیلیور کرنے میں ناکام رہی ہیں جبکہ وہ عمران خان سے بھی زیادہ پرامید نہیں ہیں اس ماحول میں جتنے چاہیں انتخابات کروا کردیکھ لیں یہی لوگ بار بار آئیں گے انہوں نے مزید کہا کہ اب فوجی قبضے کا دور گزر چکا ہے۔سابق صدر نے کسی حد تک درست رائے کا اظہار کیا ہے اس میں کوئی شک نہیں کہ ہمارے ہاں مخصوص خاندانوں سے وابستہ افراد یا ان کے حمایت یافتہ حواری ہی بار بار منتخب ہو کر ایوانوں میں پہنچتے ہیں یہ بھی درست ہے کہ دونوں جماعتوں پاکستان پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن نے ہمیشہ روایتی انداز میں حکومتیں کیں اور قوم کی خواہشات کے مطابق گورننس نہیں دی تاہم یہ نقطہ نظر درست نہیں ہے کہ موجودہ سیاسی نظام ناکام ہو چکا ہے جمہوری نظام ناکام نہیں ہوا بلکہ اسے چلانے والے افراد ناکام ہو چکے ہیں جنہوں نے قوم کی امنگوں کے مطابق پالیسیاں وضع نہیں کی اور مخصوص طبقات کے مفادات کے مطابق پالیسیاں مرتب کیں سابق صدر نے تجویز دی ہے کہ ایک خاصے وقت کیلئے عبوری سیٹ اپ قائم کیا جائے جسے فوج کی حمایت حاصل ہو مگر یہ سوال ہنوز موجود ہے کہ اس سیٹ اپ کی کارکردگی کے بارے میں کیونکر کوئی خوش فہمی کی جا سکتی ہے یہ سیٹ اپ بھی تو ان ہی سیاسی خاندانوں اور مخصوص طبقات میں سے لیا جائے گا جہاں فوج کی طرف سے مجوزہ سیٹ اپ کی حمایت کا سوال ہے ہمارے نزدیک سابق صدر کی تجویز آئین سے مکمل طور پر متصادم ہے وہ ایک بار پھر قوم کو آئین کے بالاتر نظام کی طرف لے جانا چاہتے ہیں قوم سابق صدر سے یہ پوچھنے میں بھی حق بجانب ہے کہ نو سال تک اقتدار کے کلی اور بلاشرکت غیرے مالک ہونے کے باوجود انہوں نے قوم کو کیسی گورننس دی ہے اور کیا ڈیلیور کیاہے؟قوم کی معاشی خوشحالی اور تعمیر وترقی کے معاملے میں ان کے سامنے کیا رکاوٹ تھی؟ملک میں باصلاحیت افراد کی کمی بھی نہیں اس کے باوجود وہ معاشی ترقی بدعنوانی کے خاتمہ اور مخصوص استحصالی نظام کو کمزور کرنے میں کیوں ناکام رہے بدقسمتی سے انہوں نے بھی انہی روایتی سیاستدانوں کو پشت پناہی کی جنھیں وہ تعمیر وترقی میں رکاوٹ قرار دیتے ہیں سابق صدر اگرچہ بظاہر ترقی پسندانہ اور روشن خیال فکر رکھتے تھے لیکن جس مسلم لیگ ن کو وہ برا کہتے ہیں اس میں سے نقب لگواکر انہوں نے اپنے لئے سیاسی گروپ تخلیق کروایا جن کرداروں کو آج وہ دوش دے رہے ہیں انہی کے سہارے انہوں نے طویل عرصہ تک حکمرانی کی سیاستدانوں کو بھی اس بارے میںسنجیدگی سے سوچناچاہیے اگر ان کی مایوس کن کارکردگی کا سلسلہ جاری رہا تو جمہوریت کو پٹڑی پر رواں رواں رکھنا مشکل ہوجائے گا اور اس کی تمام تر ذمے داری ان پر عائد ہوگی جمہوریت کے استحکام کے لئے مرکزی اور صوبائی حکومتوں کو اپنی کارکردگی کو بہت زیادہ بہتر بناناہوگا۔