سابق صدر کا یوٹرن اور عمران خان کی طرف سے پورے الیکشن کے آڈٹ کا مطالبہ

پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین اور سابق صدر آصف علی زرداری نے اچانک تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کے موقف کی حمایت اور حکومت کی مخالفت کے حوالے سے بیان جاری کر کے سیاسی حلقوں کو حیران وششدر کر دیاہے انہوں نے عمران خان کی طرف سے چار حلقوں میں ووٹوں کی تصدیق کے مطالبے کی حمایت کرتے ہوئے کہاہے کہ چار حلقوں میں دوبارہ گنتی یا تصدیق کروانے میں کیا ہرج ہے وزیراعظم دوبارہ گنتی سے کیوں خوفزدہ ہیں انہیں خوفزدہ نہیں ہوناچاہیے آصف علی زرداری کا کہناتھا کہ ہم نے اورملک اور جمہوریت کے مفاد میں عام انتخابات میں ہونے والی دھاندلی کے باوجود انتخابی نتائج کو تسلیم کیاہے عوام نے نوازشریف کو وزارت عظمے کے لئے منتخب کیاہے بادشاہت کے لئے نہیں مسلم لیگ ن کی حکومت عوام کے مسائل حل کرنے میں ناکام ہوچکی ہے نوازشریف صوبوں کے معاملات میں مداخلت نہ کریں عوام اور صنعتکار بجلی اور پانی کو ترس رہے ہیں۔پاکستان پیپلزپارٹی کے شریک چیئرمین کا بدلا ہوا لہجہ معنی خیز ہے انہوں نے غیر متوقع طور پر عمران خان کے موقف کی حمایت کی ہے جن کے ساتھ ان کے شدید اختلافات رہے ہیں جبکہ دوسری طرف وہی آصف علی زرداری جو کل تک حکومت کو یہ یقین دلا رہے تھے کہ وہ جمہوری استحکام کے حامی ہیں اور جمہوریت کو ڈی ریل نہیں ہونے دیں گے اب انہی کے لہجے میں بات کرنے لگے ہیں جو موجودہ حکومت کو تسلیم کرنے سے انکاری ہیں اور اعلانیہ اس کے گرانے کی باتیں کر رہے ہیں پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین کے اس یوٹرن نے عمران خان کو شہ دی ہے چنانچہ آصف علی زرداری کے بیان کے بعد عمران خان نے جس موقف کا اظہار کیا وہ یکسر مختلف ہے اب انہوں نے مطالبہ کیاہے کہ پورے الیکشن کا آڈٹ کرایاجائے اس ضمن میں ان کا کہنا ہے کہ اگر افغانستان میں تمام ووٹوں کی دوبارہ جانچ پڑتال ہوسکتی ہے تو پاکستان میں کیوں نہیں ہوسکتی سابق صدر کے اچانک اس یوٹرن کے بارے میں مختلف آراء سامنے آئی ہیں ایک نقطہ نظر یہ ہے کہ وزیر خزانہ اسحاق ڈار کی طرف سے سوئس بنکوں سے دو سو ارب ڈالر کی واپسی کے حوالے سے اعلان نے آصف علی زرداری کو برہم کر دیاہے جن کے وہاں بنک کھاتے موجود ہیں جبکہ دوسری رائے یہ ہے کہ وزیراعظم نوازشریف نے اپنے کراچی کے حالیہ دورے کے دوران کراچی اور سندھ کی تعمیر وترقی کے سلسلے میں جن منصوبوں کے اعلانات کئے انہیں پیپلزپارٹی کے رہنما اپنی پارٹی کی سیاست کے لئے خطرہ اور اپنے صوبے کے معاملات میں مداخلت سے تعبیر کرتے ہیں سندھ میں آئی جی پولیس کی تقرری کے معاملے پر وفاقی اور سندھ حکومت کے درمیان اختلافات بھی آصف علی زرداری کے بیان سے جھلکتاہے اگرچہ وزیراعظم نوازشریف نے اپنی پارٹی کے رہنمائوں کو آصف علی زرداری کے بیان پر ردعمل سے روک دیاہے تاہم یہ بات واضح ہے کہ پیپلزپارٹی کی مسلم لیگ ن کے ساتھ جمہوریت کے استحکام کے حوالے سے موجودہ ہم آہنگی اب ٹوٹ رہی ہے جس کے باعث عمران خان کے حکومت پر دبائومیں مسلسل اضافہ ہونے لگاہے اور اب وہ سارے انتخابی عمل کی ازسر نو گنتی کامطالبہ کرنے لگے ہیں ہم وزیراعظم نوازشریف کے اس موقف سے اتفاق کرتے ہیں کہ چند ہزار لوگ کروڑوں افراد کا مینڈیٹ نہیں تبدیل کر سکتے لیکن حکومت کو یہ بھی دیکھنا چاہیے کہ اس ایک سال کے دوران اس نے مینڈیٹ دینے والوں کو کس حد تک مطمئن کیاہے بجلی کی تباہ کن لوڈشیڈنگ اور خوفناک مہنگائی نے عوام کی پریشانیوں میں شدید اضافہ کیاہے اور اس کے باعث حکومتی ساکھ کو شدید جھٹکا لگاہے وزیراعظم جن چند ہزار افراد کا ذکر کرتے ہیں ان میں پریشان حال اور غیر مطمئن عوام بھی شامل ہوسکتے ہیں اس لئے معاملات کو اس سطح تک جانے سے روکنے کے لئے یہ لازم ہے کہ حکومت عوام کے نقطہ نظر سے اپنی کارکردگی میں اضافہ کرے اگر عوام حکومتی کارکردگی سے مطمئن ہوں گے تو حکومت اور جمہوریت کے خلاف سازشیوں کو منہ کی کھانی پڑے گی بصورت دیگر کسی غیر اہم ایشو پر بھی عوام کا غصہ کسی بھرپور عوامی تحریک کا رخ اختیار کر سکتاہے ہم سیاسی جماعتوں کے قائدین سے یہ اپیل کرنا ضروری سمجھتے ہیں کہ انہیں موقع کی نزاکت کا ادراک کرناچاہیے آج پاکستان بھر سے اقتصادی بحالی اور جمہوری استحکام کی جس منزل کی جانب رواں دواں ہوا ہے اس میں کسی قسم کی بھی رکاوٹ مملکت کے مفاد کے سراسر منافی ہے یہ وقت جماعتی مفادات یا پوائنٹ سکورنگ کا نہیں بلکہ مملکت کے مفاد میں اپنے حصے کا کردار ادا کرنے کا ہے اس لئے ہر ایک کو اپنی قومی ذمے داریاں انجام دینی ہوں گی۔