Get Adobe Flash player

مسئلہ کشمیر پراقوام متحدہ کاخصوصی نمائندہ مقرر کرنے کی تجویز

مسئلہ کشمیر کے حل کے سلسلے میں برطانوی ارکان پارلیمنٹ کی سفارتی کوششیں لائق تحسین ہیں ان کوششوں کے نتیجے میں جہاں مسئلہ کے حل کے سلسلے میں بھارت پر عالمی دبائو میں اضافہ ہو رہاہے وہاں اس کے اس بے بنیاد اور مضحکہ خیز موقف کی بھی سختی سے نفی ہو رہی ہے جس کے تحت وہ گاہے گاہے کشمیر کے اٹوٹ انگ ہونے کی رٹ لگاتاتھا برطانوی پارلیمنٹ کے پندرہ سے زائد ارکان نے اپنے دستخطوں سے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کو ایک خط ارسال کیاہے جس میں انہیں مسئلہ کشمیر پر اقوام متحدہ کا خصوصی نمائندہ مقرر کرنے کی تجویز دی ہے خط میں یہ بھی کہاگیاہے کہ اقوام متحدہ کے سابق سیکرٹری جنرل کوفی عنان یا جنوبی افریقہ کے سابق صدر بشپ ڈسمیل ٹوٹو کو اقوام متحدہ کا خصوصی نمائندہ برائے امور کشمیر مقرر کیاجاسکتاہے خط میں اقوام متحدہ سے کہاگیاہے کہ وہ مسئلہ کشمیر حل کرانے کے سلسلے میں ثالثی کا کردار اداکرے خط میں کہاگیاہے کہ جنوبی ایشیاء کے امن استحکام اور خوشحالی کے لئے مسئلہ کشمیر کا حل کیاجانا ضروری ہے یہ امر قابل ذکر ہے کہ برطانوی ارکان پارلیمنٹ نے اس سے قبل بھی اقوام متحدہ کو مسئلہ کشمیر کے حل کے سلسلے میں اس کے کردار کی طرف متوجہ کیاہے تاریخی صداقت تو یہ ہے کہ کشمیریوں کے حق خودارادیت کے معاملے میں اقوام متحدہ کی قراردادیں ہنوز حل طلب ہیں اور اقوام متحدہ کے ایجنڈے پر موجود ہیں اگر اقوام متحدہ بعض طاقتوں کی عدم دلچسپی یا بعض فنی نکات کے باعث ان قراردادوں پر عمل نہیں کرواسکتی تو کم ازکم مسئلہ کے حل کے سلسلے میں ثالثی کی کوششیں تو کرسکتی ہے اس ضمن میں ارکان پارلیمنٹ کی یہ تجویز غیر معمولی اہمیت کی حامل ہے جس میں اقوام متحدہ کے سیکرٹری کو مسئلہ کشمیر کے بارے میں اپنا خصوصی نمائندہ مقررکرنے کے لئے کہاگیاہے اقوام متحدہ کا خصوصی نمائندہ مقرر ہونے سے جہاں پاکستان اور بھارت کے درمیان مسئلہ کشمیر پر بالواسطہ اور براہ راست مذاکرات کو مددمل سکتی ہے وہاں اقوام متحدہ کے نمائندے مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی روک تھام میں بھی اہم کردار ادا کر سکتے ہیں برطانوی ارکان پارلیمنٹ کا اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کو خط خطے میں امن واستحکام اور خوشحالی کے تناظر میں غیر معمولی اہمیت کا حامل ہے اب عالمی ادارے کے سربراہ پر ذمے داری عائد ہوتی ہے کہ وہ عالمی برادری کے اہم ملک کے منتخب نمائندوں کی تجاویز پر بلاتاخیر عمل درآمد کو یقینی بنائیں جس مسئلہ پر اقوام متحدہ نے قراردادیں تک منظور کر رکھی ہیں اس کے بارے میں اسے کچھ تو اپنی ذمے داریاں پوری کرنی چاہیں۔