Get Adobe Flash player

آپریشن ضرب عضب میں مسلسل کامیابیاں اور افغانستان کا مسلسل عدم تعاون

 آپریشن ضرب عضب غیر معمولی کامیابی کے ساتھ آگے بڑھ رہاہے اطلاعات کے مطابق اب تک پانچ سو سے زائد دہشت گرد ہلاک کئے جاچکے ہیں دو درجن سے زائد گرفتار کر لئے گئے ہیں جبکہ کم وبیش اتنے دہشت گردوں نے ہی ہتھیارپھینک کر اپنے آپ کو فوج کے حوالے کر دیاہے اگرچہ مسلسل فضائیوں کارروائیوں کے بعد زمینی دستوں نے بھی دہشت گردوں کے بعض ٹھکانوں کاگھیرائو کر کے ان کے بہت سے ٹھکانے اور اسلحہ کے ذخیرے تباہ کر دیئے ہیں اس کے باوجود اب بھی گاہے گاہے پاک فضائیہ کے جیٹ طیارے دشوار گزار علاقوں میں دہشت گردوں کے بعض ٹھکانوں کو ملیامیٹ کرنے میں مصروف ہیں گزشتہ روز شمالی وزیرستان کی وادی شوال میں جیٹ طیاروں نے ایک زبردست کارروائی کے نتیجے میں مزید35دہشت گردوں کو ہلاک اور ان کے ٹھکانے تباہ کئے ہیں آئی ایس پی آر کے مطابق سیکورٹی فورسز نے لاشیں قبضے میں لے لی ہیں جبکہ اس بمباری کے باعث بہت سے دہشت گرد زخمی بھی ہوئے ہیں بدھ کے روز کی جانے والی اس کارروائی کا اہم پہلو یہ ہے کہ وادی شوال میں محصور دہشت گردوں کا ایک گروہ اپنی کمین گاہوں سے نکل کر فرار ہونے کی ناکام کوشش کر رہاتھا کہ پاک فضائیہ کے جیٹ طیاروں نے انہیں نشانہ بنایا میرانشاہ کو کلیئر کرنے کے بعد اب سیکورٹی فورسز نے دہشت گردوں کے ایک اور گڑھ میر علی کے بیشتر علاقے کو بھی کلیئر کر دیاہے افغان سرحد کے قریبی علاقوں بویا اور دنگان میں بھی زمینی آپریشن شروع کر دیاگیاہے ان علاقوں کے بارے میں یہ تاثر عام ہے کہ یہ علاقے دہشت گردوں کی اہم کمین گاہیں ہیں گزشتہ روز امریکی ڈروں حملوں کے باعث شمالی وزیرستان کے علاقے دتہ خیل میں بیس دہشت گرد ہلاک اور پانچ زخمی ہوگئے اطلاعات کے مطابق تحصیل دتہ خیل کے علاقے زوئی سیدگی کے مقام پر ایک کمپائونڈ اور گاڑی کو چارمیزائیلوں سے نشانہ بنایاگیا۔ آپریشن ضرب عضب کے نتیجے میں اگرچہ دہشت گردوں کی ہلاکتیں اتنی نہیں جتنی ان کی توقع کی جارہی تھی گمان کیاجاتاہے کہ بہت سے دہشت گرد آپریشن کی تیاریوں کے باعث افغانستان کی جانب فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے تاہم کامیابی کا یہ پہلو غیر معمولی اہمیت کا حامل ہے کہ شمالی وزیرستان جسے دہشت گردوں نے اپنے بیس کیمپ اور آپریشنل ہیڈ کوارٹرز کی حیثیت دے رکھی تھی وہاں سے دہشت گردوں کا تمام تر انفراسٹرکچر ختم کر دیاگیاہے ان کے تربیتی مراکز اسلحہ خانے بارودی سرنگیں اور بم بنانے کی فیکٹریاں خود کش بمبار تیار کرنے کے خصوصی مقامات زیر زمین سرنگیں اور حفاظتی کمرے سب کچھ ملیا میٹ ہوچکاہے یہ تمام تر آپریشنل نظام اور انفراسٹرکچر انہوں نے ایک طویل عرصے کی محنت سے قائم کیا تھا جہاں سے پاکستان کے مختلف شہروں اور علاقوں میں دہشتگروں کی کارروائیوں کے لئے ایکشن کا آغاز ہوتاتھا اس انفراسٹرکچر کی تباہی پاکستان کی بہت بڑی کامیابی ہے اب بچے کچھے دہشت گردوں کی علاقے میں واپسی یا ان کی پھر سے فعالیت ناممکنات میں سے ہے تاہم یہ پہلو یقیناًتشویشناک ہے کہ آپریشن کے دوران افغانستان کی طرف سے کسی قسم کا تعاون نہیں کیاگیا اصولی طور پر افغان حکومت اور نیٹو فورسز کو پاکستان سے فرار ہونے والوں کو افغانستان میں داخل ہوتے ہی گرفتار کرلینا چاہیے تھا آپریشن کے بعد سرحد پار سیکورٹی فورسز کو چوکس ہونا چاہیے تھا کہ بعض دہشت گرد کسی نہ کسی روپ میں افغانستان کے اندر بھی داخل ہوسکتے ہیں مگر اس حوالے سے کوئی پیش بندی نہیں کی گئی جہاں تک پاکستان کو مطلوب دہشت گرد ملافضل اللہ اور اس کے ساتھیوں کے خلاف کارروائی کا معاملہ ہے یقین دہانیوں کے باوجود افغان حکومت نے اس ضمن میں کوئی کارروائی نہیں کی ان کے محفوظ ٹھکانوں کے خلاف جب تک سرحد پار سے کوئی کارروائی نہیں ہوتی دہشت گردی کے خلاف افغان حکومت کی سنجیدگی سوالیہ نشان ہی رہے گی ان خدشات کو بھی مسترد نہیں کیاجاسکتا کہ دہشت گردوں نے جس طرح کا مرکز شمالی وزیرستان میں قائم کر رکھا تھا اسی طرح کا مرکز نورنستان اور کنڑ میں قائم کرنے کی کوشش کریں جو مستقبل میں پاکستان کے لئے مسائل پیدا کرے پاکستان کی عسکری اور سیاسی قیادت کو تصویر کے اس رخ کو بھی پیش نظر رکھناہوگا اور اس معاملے میں افغان حکومت سے دوٹوک بات کرنی ہوگی۔