Get Adobe Flash player

خیبر پختونخواہ اور وفاقی حکومت کے درمیان بجلی کا تنازعہ حل ہوناچاہیے

بدھ کے روز خیبر پختونخواہ کے وزیر اعلی پرویز خٹک کی قیادت میں صوبائی وزراء مشیروں ارکان اسمبلی اور تحریک انصاف کے کارکنوں نے بجلی کی غیر معمولی لوڈشیڈنگ کے خلاف آرمی اسٹیڈیم سے واپڈاہائوس تک احتجاجی مارچ کیا مظاہرین نے مسلسل واپڈا اور وفاقی حکومت کے خلاف نعرے بازی کی وزیر اعلی پرویز خٹک نے اپنے خطاب میں کہا کہ اگر واپڈا نے اپنا قبلہ درست نہ کیا تو ہم بھی اس سے تعاون نہیں کریں گے اور واپڈا تنصیبات کے لئے جتنی سیکورٹی دی گئی ہے واپس لے لی جائے گی انہوں نے کہا کہ ہمارا حصہ دوہزار میگاواٹ بجلی بنتی ہے لیکن اس کے برعکس ہمیں چودہ سو میگاواٹ بجلی دی جارہی ہے انہوں نے کہا کہ ہمیں ضرورت سے بہت کم بجلی دی جارہی ہے انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخواہ چار روپے فی یونٹ کے حساب سے بجلی پیدا کر کے مرکز کو دے رہاہے جبکہ مرکز سے ہم سولہ سے اٹھارہ روپے فی یونٹ بجلی خرید رہے ہیں ان کا کہناتھا کہ سسٹم کو اپ گریڈ کرنا صوبائی حکومت کی ذمے داری نہیں یہ وفاق کی ذمے داری ہے وزیر اعلی نے وفاقی حکومت کو دھمکی دی کہ اگر ایک ہفتے کے اندر اندر پانچ گرڈ اسٹیشنوں کے لئے تین ارب نہ دیئے گئے تو نتائج کی ذمے داری ہم پر نہیں ہوگی۔وزیر اعلی کی زیر قیادت مذکورہ جلوس کے شرکاء کا زبردستی پیسکو کے گیٹ کھلواکر اندر داخل ہونا سراسر غیر قانونی اقدام ہے جو صوبے کے منتظم اعلی کی موجودگی میں کیاگیا صوبہ کتنی بجلی پیدا کرتاہے اس کی ضروریات کتنی ہیں اسے کتنی بجلی فراہم کی جارہی ہے اور گرڈ اسٹیشنوں کے اپ گریڈکرنا کس حکومت کی ذمے داری ہے یہ ایسے معاملات ہیں جو سڑکوں پر یا میڈیا کے ذریعے طے نہیں ہوسکتے وفاقی اور خیبر پختونخواہ حکومت کی متعلقہ شخصیات مل بیٹھ کر ہی طے کر سکتی ہیں مگر یوں محسوس ہوتاہے کہ خیبر پختونخواہ کی حکومت کو متعلقہ مسائل حل کرنے سے زیادہ انہیں ایشو بناکر وفاقی حکومت کے ساتھ تعلقات میں کشیدگی پیدا کرنا مقصود ہے یہ درست ہے کہ خیبر پختونخواہ جتنی بجلی پیدا کررہاہے وہ اس کی ضروریات سے زائد ہے یہ بجلی اس سے حاصل کر کے اسے اس کی ضرورتوں سے کم بجلی فراہم کی جارہی ہے مگر اس حقیقت کو بھی پیش نظر رکھا جاناچاہیے کہ خیبر پختونخواہ میں مجموعی طور پر کتنی بجلی چوری ہوتی ہے اور بلوں کی ادائیگی کی شرح کیاہے وزیراعلی نے اپنے خطاب میں اس پہلو کو دانستہ نظر انداز کر دیا اس کے علاوہ بھی بجلی کے حوالے سے بہت سے امور ہیں جنھیں دونوں حکومتوں کو مل بیٹھ کر طے کر لیناچاہیے وفاقی وزیر پانی وبجلی خواجہ محمد آصف کی وزیر اعلی پرویز خٹک سے ملاقات خوش آئند ہے تاہم صوبے کے تحفظات جلد ازجلد دور کئے جانے چاہیں اگر وفاقی وزیر اس سے قبل وزیر اعلی سے ملاقات کر لیتے تو ان کے احتجاجی مظاہرے اور اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والی کشیدگی سے بچا جاسکتاتھا۔