Get Adobe Flash player

وزیراعظم کو جی ایچ کیو کے دورے کی دعوت،جمہوریت مخالفوں کے لئے ایک پیغام

 آرمی چیف جنرل راحیل شریف کی دعوت پر وزیراعظم محمد نوازشریف کا جی ایچ کیو کا دورہ بعض حلقوں کی طرف سے ملک کی سیاسی اور عسکری قیادت کے درمیان فاصلوں کی سختی سے نفی کرتاہے حقیقت یہ ہے کہ سیاسی وعسکری قیادت کے متفقہ فیصلے کے نتیجے میں ہی شمالی وزیرستان میں آپریشن ضرب عضب شروع ہوا اور اس کے فوری بعد وزیراعظم کی طرف سے اس امر کا اعلان کیاگیا کہ حکومت دہشت گردی کے خاتمہ کے سلسلے میں نہ صرف پاک فوج کی تمام ضرورتیں پوری کرے گی بلکہ متاثرین کو بھی بھرپور امدادفراہم کی جائے گی اور انہیں تمام بنیادی سہولتیں دی جائیں گی جہاں تک کہ وزیراعظم نے یہ بھی اعلان کیا کہ آپریشن کے خاتمہ کے بعد متاثرین کے گھروں کی از سر تعمیر نو کے لئے بھی حکومت اپنا کردارادا کرے گی مذکورہ فیصلے اور اعلانات پاک فوج اور حکومت کے درمیان مکمل ہم آہنگی کو ظاہر کرتے ہیں وزیراعظم نوازشریف نے جی ایچ کیو کے دورے کے موقع پر شہداء کی یادگار پر پھول چڑھائے اور انہیں خراج عقیدت پیش کیا جبکہ ڈائریکٹر جنرل ملٹری آپریشنز نے انہیں آپریشن ضرب عضب کے بارے میں بریفنگ دی یہ امر قابل ذکر ہے کہ اس دورے کے موقع پر وزیر دفاع خواجہ محمد آصف وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان وزیراعظم کے مشیر برائے داخلہ سیکورٹی امورسرتاج عزیز اور خارجہ امور کے معاون خصوصی طارق فاطمی بھی ان کے ہمراہ تھے وزیراعظم کا جی ایچ کیو پہنچنے پرآرمی چیف جنرل راحیل شریف اور دیگر اعلی فوجی حکام نے استقبال کیا اس موقع پر انہیں گارڈ آف آنر بھی پیش کیاگیا اگرچہ ابھی چند روز قبل ہی وزیراعظم ہائوس میں آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے وزیراعظم سے ملاقات کر کے انہیں آپریشن کے بارے میںبریفنگ دی تھی اس لئے اس کے فوری بعد اب آرمی چیف کی دعوت پر وزیراعظم کا جی ایچ کیو کا دورہ اور ڈی جی ملٹری آپریشنز کی طرف سے انہیں بریفنگ بادی النظر میں بے حد معنی خیز معلوم ہوتی ہے ہماری دانست میں وزیراعظم کو آرمی چیف کی طرف سے دورے کی دعوت ان سیاسی عناصر کے لئے ایک پیغام ہے جو یہ دعوی کرتے ہیں کہ یوم آزادی کے موقع پر اسلام آباد تک ان کا لانگ مارچ حکومت کے خاتمے کا سبب بنے گا اور جمہوریت کو ڈی ریل کرنے کے سلسلے میں ان کے خواب شرمندہ تعبیر ہوسکیں گے بریفنگ کے بعد وزیراعظم کا کہناتھا کہ ہماری مسلح افواج طے شدہ اہداف اور مقاصد مطلوبہ رفتار کے مطابق حاصل کر رہی ہیں انہوں نے کہا کہ آپریشن کا مقصد ریاست کی حکمرانی قائم کرناہے وزیراعظم نے کہا کہ ہماری مسلح افواج قانون نافذ کرنے والے ادارے اور انٹیلی جنس ادارے دہشت گردوں کا اس وقت تک تقاقب جاری رکھیں گے جب تک وہ مکمل طور پر نیست ونابود نہیں ہوجاتے اجلاس میں اس بات پر اطمینان کا اظہار کیاگیا کہ لاہور میں رائے ونڈ کے قریب پولیس نے جو آپریشن کیا اس کے لئے ایک انٹیلی جنس ایجنسی نے معلومات فراہم کی تھیں تاہم وزیراعظم نے اس موقع پر تشویش کا اظہار کیا کہ دہشت گردوں کے خلاف عدالتوں میں استغاثہ کی کارروائی موثر طور پر چلانے کی ضرورت ہے کیونکہ دہشت گردوں کو عدالتوں سے سزائیں نہ ملنے کے باعث دہشت گردی کے خلاف جنگ میں فورسز کی کوششوں پر منفی اثر پڑ رہاہے ادھر رائے ونڈ میں وزیراعظم کی رہائش گاہ کے قریب ایلیٹ فورس نے کامیاب آپریشن کر کے وزیراعظم ہائوس رائے ونڈ پر حملے کی سازش ناکام بنا دی وزیراعظم کی رہائش گاہ سے ڈھائی کلو میٹر کے فاصلے پر پنڈارائیاں میں واقع جنت کالونی میں دہشت گردوں نے کچھ عرصہ سے ایک مکان کرائے پر حاصل کر کے اس میں رہائش اختیار کر رکھی تھی عینی شاہدین کے مطابق ان کا کسی سے ملناجلنا نہیں تھا تاہم رات گئے ان کے ہاں افراد کی آمدورفت رہتی تھی انٹیلی جنس اطلاعات کی بنیاد پر جب ایلیٹ فورس نے آپریشن شروع کیا تو گھر کے اندر سے جوابی فائرنگ کی گئی ایک خاتون اور بچیوں کی موجودگی کی اطلاعات پرپولیس محتاط تھی کہ کارروائی کے دوران انہیں گزند نہ پہنچے تاہم اس کی وارننگ اور انتباہ کے باوجود جب دہشت گردوں نے اپنے آپ کو پولیس کے حوالے نہ کیا تو ایلیٹ فورس نے آپریشن شروع کر دیا جس کے نتیجے میں ایک دہشت گرد ہلاک اور دوسرا زخمی ہوا جو کچھ دیر کے بعد چل بسا مکان سے جدید اسلحہ جہادی لٹریچر دو موٹر سائیکلیں اور اہم دستاویزات برآمد کی گئیں اس نقطہ نظر کو مسترد نہیں کیاجاسکتاکہ ان دہشت گردوں کا ہدف رائے ونڈ میں واقع وزیراعظم کی رہائش گاہ تھی اور ان کے بعض دوسرے ساتھی بھی تھے جوآپریشن کے وقت گھر میں موجود نہ تھے شمالی وزیرستان کے آپریشن کے ردعمل میں ملک کی اہم شخصیات پر حملوں کے امکانات کو مسترد نہیں کیاجاسکتا ضرورت اس امر کی ہے کہ عوام مستعد رہیں اور وہ اپنے علاقے کے نئے رہائشی افرادکی سرگرمیوں پر کڑی نظر رکھیں مذکورہ واقع پر اب عینی شاہد جو کچھ کہہ رہے ہیں اگر انہوں نے متعلقہ حکام کو محض ایک فون کال کے ذریعے ہی اطلاع دی ہوتی تو یہی کارروائی بہت پہلے کی جاسکتی تھی اور دہشت گردوں کے اس گروپ کے دیگر ارکان کو بھی گرفتار کیاجاسکتاتھا اب جبکہ ایک دہشت گرد مختلف علاقوں میں پھیل چکے ہیں عوام کا مستعد ہونا انتہائی ضروری ہے۔