ووٹوں کی دوبارہ گنتی اور تصدیق کا اختیار الیکشن کمیشن کو ہے حکومت کو نہیں

وفاقی وزیر اطلاعات ونشریات سینیٹر پرویز رشید نے ایک انٹرویو میںبجا طور پر کہاہے کہ حکومت کے پاس چار حلقوں کے ووٹوں کی دوبارہ گنتی کا کوئی اختیا نہیں ہے اگر کسی کو کوئی شکایت ہے تو اسے الیکشن کمیشن سے رابطہ کرنا ہوگا انہوں نے کہا کہ حکومت لانگ مارچ سے خوفزدہ نہیں ہے دراصل لانگ مارچ کرنے والی جماعتیں آئندہ سال مارچ میں متوقع سینٹ انتخابات سے فرار چاہتی ہیں انہوں نے کہا کہ عمران خان کو احساس کرناچاہیے کہ مسلح افواج ہمارے مستقبل کو محفوظ بنانے کے لئے شمالی وزیرستان میں جنگ لڑ رہی ہیں اور اس اہم مرحلے پر کسی قسم کا اختلاف قوم کے لئے نیک شگون نہیں ہوگا پرویز رشید نے عمران خان پر زور دیا کہ وہ متاثرین کی مدد کے لئے مشترکہ کوششیں کریں کیونکہ ان کے پاس اگلے چار برسوں میں سیاست کے لئے بہت وقت موجود ہے انہوں نے کہا کہ جمہوریت کی قدر عمران خان کو معلوم نہیں یہ ہم جانتے ہیں کہ جمہوریت کیاہے جنھوں نے اس کی خاطر قید اور جلاوطنی کاٹی وزیراطلاعات نے کہا کہ پرویز مشرف کو پھنسانے والی تحریک انصاف ہی ہے حامد خان کی درخواست پر ان کا نام ای سی ایل میں ڈالا گیا جبکہ ہم نے صرف عدالتی حکم پر عمل کیا انہوں نے کہا کہ عمران خان کا ایجنڈاپاکستان مخالف ہے وہ طالبان کو مضبوط کرناچاہتے ہیں۔وزیراطلاعات کی محولہ گفتگو تاریخ کے سیاق وسابق میں بے حد اہمیت کی حامل ہے یقیناً جمہوریت کی اہمیت وافادیت وہی بہتر جانتے ہیں جنھوں نے اس کے لئے جدوجہد کی ہوتی ہے اور قربانیاں دی ہوتی ہیں اس اعتبار سے عمران خان کو جمہوریت کی اہمیت کا ادراک نہیں ہے انہوں نے مشرف کی آمریت کو دوام دینے کے سلسلے میں ان کے ریفرنڈم کی حمایت کی اور اس کے بعد کا تمام عرصہ آمر کی خوشنودی میں مصروف رہے تاہم ان کی بدقسمتی کہ پرویز مشرف نے انہیں کسی بڑے منصب پر لانے کے سلسلے میں اپنا وعدہ پورا نہ کیا ان کے بارے میں طالبان کے حامی ہونے کا تاثر بھی غلط نہیں ہے اگر ایسی بات نہ ہوتی تو آپریشن کے متاثرین کی امداد اور نگہداشت کے معاملے میں وہ وفاقی حکومت کے ساتھ کھڑے ہوتے اور ملک بھر کے عوام کوآپریش کے ردعمل کا مقابلہ کرنے کے سلسلے میں چوکس اور بیدار کرتے مگر حقیقت یہ ہے کہ متاثرین کی امداد کے سلسلے میں ان کی صوبائی حکومت کی دلچسپی محض برائے نام سی ہے ان کا سارا زور اس بات پر ہے کہ وفاقی حکومت متاثرین کی امداد کے لئے تمام فنڈز ان کی صوبائی حکومت کے سپرد کر دے جبکہ وفاقی حکومت کا موقف ہے کہ فاٹا وفاقی حکومت کے ماتحت ہے اس لئے متاثرین کی امداد کے سلسلے میں اس پر سب سے زیادہ ذمے داری عائد ہوتی ہے اور وہ اپنی یہ ذمے داری پاک فوج کے تعاون سے احسن طور پر نبھارہی ہے چار حلقوں میں ووٹوں کی گنتی کے معاملے میں وزیراطلاعات نے سو فیصد درست کہا ہے یہ حکومت کا نہیں بلکہ الیکشن کمیش کا دائرہ اختیار ہے اب تک جہاں کہیں بھی ووٹوں کی دوبارہ گنتی یاتصدیق ہوتی ہے حکومت کا اس میں کوئی عمل دخل نہ تھا بلکہ یہ الیکشن کمیشن کے احکامات کا نتیجہ تھی تحریک انصاف کا الیکشن کمیشن سے رابطہ کرنے کی بجائے حکومت سے مطالبہ اور اس پر الزامات کا رویہ چار حلقوں میں ووٹوں کی تصدیق کامعاملہ نہیں بلکہ اس کی آڑ میں جمہوریت کو ڈی ریل کرنے کے مذموم عزائم ہیں جن کا ساتھ دینے کے لئے عوام ہرگز تیار نہیں ہیں۔