Get Adobe Flash player

کیا اب ٹرمپ انتظامیہ غیر مسلم دہشتگردوں کو تحفظ دے گی ؟

اسلام آباد کے امریکی سفارتخانے کی طرف سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کو پابندیوں کا شکار ہونے والے سات مسلم ممالک میں شامل کرنے پر غور نہیں کیا جارہا اور پاکستان کے لئے امریکی ویزا پالسی میں کوئی تبدیلی نہیں کی جارہی ترجمان نے کہا کہ پاکستانیوں کو معمول کے مطابق ویزے جاری کئے جارہے ہیں اور پاکستان سے ویزا پالیسی سے متعلق کوئی رابطہ نہیں کیا گیا جبکہ امریکی انتظامیہ نے پاکستان سے متعلق کوئی خصوصی ہدایت بھی جاری نہیں کی۔ امریکی سفارتخانے کی محولہ وضاحت  کے نتیجے میں یقیناً بہت سے خدشات کا خاتمہ ہوا ہے لیکن واشنگن  میں ان دنوں انتہا پسندی کے حوالے سے جو کھچڑی پک رہی ہے  وہ پاکستان سمیت تمام مسلم دنیا کے لئے تشویش کا باعث ہو سکتی ہے  امریکی حکام کے مطابق انسداد دہشتگردی کے پروگرام  کا نام بدیل کر کے انسداد اسلامی  دہشتگردی  رکھا جائے گا اور اس کے لئے مطلوبہ  اقدامات کئے جارہے ہیں  رائٹر کے مطابق آئندہ اس پروگرام  کے ذریعے امریکہ میں ان سرگرم سفید فام  نسل پرست  اور قوم پرست گروہوں پر نظر نہیں رکھی جائے گی  جو بم دھماکوں اور فائرنگ  کے واقعات میں ملوث  ہیں مبصرین کے مطابق یہ تبدیلی ٹرمپ کی انتخابی مہم کے دوران سابق صدر اوبامہ پر شدید تنقید کی عکاسی کرتی ہے جس میں انہوں نے صدر اوبامہ پر داعش  کے خلاف جنگ میں کمزوری دکھانے اور اس کے لئے بنیاد پرست  اسلام کی اصلاح استعمال  کرنے میں ہکچاہٹ کا مظاہرہ کرنے پر تنقید کی تھی مسلم پبلک آفیئرز  کونسل کی ڈائریکٹر ۔۔۔کے مطابق  انہیں محکمہ داخلہ کے اہلکاروں کی طرف سے بتایا گیا کہ اس پروگرام میں تمام پر تشدد نظریات کے بجائے تمام تر توجہ محض اسلامی انتہا پسندی پر مرکوز کی جارہی ہے اور یہ ہمارے لئے ایک اہم معاملہ ہے کیونکہ وہ  ایک مذہب کے ماننے والوں کو ٹارگٹ کررہے ہیں یہ اطلاعات  بھی منظر  عام پر آئی ہیں کہ کانگرس کے ذریعے پہلے سے  جاری پروگرام  کے لئے فنڈنگ  روک دی گئی ہے  ادھر اس تبدیلی کے حامیوں کا کہنا ہے کہ بنیاد پرست  اسلام کی اصطلاح استعمال کرنے سے متعدد  پرتشدد حملوں پر نظر رکھنے اور انہیں روکنے کی کوشش میں مدد ملے گی جبکہ مخالفین کے مطابق اسلامی  انتہا پسندی کی اصلاح استعمال کرنے  سے امریکہ میں موجود 30 لاکھ سے زائد وہ مسلمان خود کو تنہا محسوس کریں گ جو پرامن اسلام پر عمل پیرا ہیں۔ ٹرمپ انتظامیہ انسداد دہشتگردی  پروگرام کو تبدیل کر کے جس طرح انسداد اسلامی  دہشتگردی  کے مقاصد کے تحت آگے بڑھانے کی خواہاں ہیں ہم سمجھتے ہیں علمی اور عقلی اعتبار سے  بھی اس کا کوئی جواز نہیں ہے  کیا اس کا یہ مطلب ہے کہ مسلمانوں کے علاوہ جس مذہب  رنگ  اور نسل کے لوگ دہشتگردی کا ارتکاب کریں انہیں یکسر نظرانداز کردیا جائے اور ان کے خلاف کوئی کارروائی نہ کی جائے؟ بادی نظر میں یہی صورتحال  سامنے آئی ہے کہ مذکورہ  انتہا پسند  گروہوں  کی مانیٹرنگ بھی نہیں کی جائے گی اور تمام تر توجہ اس دہشتگردی پر مرکوز رکھی جائے گی جس کا ارتکاب کوئی مسلمان  فرد یا گروہ کرے گا۔ اس سے زیادہ مضحکہ خیز تصور اور کوئی نہیں ہو سکتا کہ جس جرم پر مسلمانوں کیخلاف کارروائی کی جائے اس کے مرتکب غیر مسلموں کوتحفظ فراہم کیا جائے یہ رویہ سراسر قانون کی بنیادی اساس کیخلاف ہے جو عمل جرم کے زمرے میں آتا ہے اس میں انسانوں کی تخصیص نہیں کی جا سکتی وہ جرم ہے چاہے اس کا ارتکاب کوئی بھی کرے ٹرمپ انتظامیہ جس روش پر چلنے کی خواہاں ہے یہ اسلام اور مسلمانوں کیخلاف اس کے تعصب کا نتیجہ ہے اسلام تو ایک ایسا دین ہے جس نے دہشتگردی کی نفی اور مذمت کی ہے اور یہ واضح طور پر کہا ہے کہ بے گناہ  انسانوں کو قتل کرنے والوں کی اس کے دامن میں کوئی جگہ اور تحفظ نہیں ہے۔ اس کے باوجود اسلامی انتہا پسندی اور دہشتگردی کی اصطلاح کا استعمال محض  مخصوص اور مذموم مقاصد  کا نتیجہ ہے۔  دہشتگردی  اسی طرح ایک جرم ہے جس طرح چوری اور ڈکیتی  جرم ہے کسی بھی جرم کو کسی مذہب کے پیروکاروں سے منسلک نہیں کیا جا سکتا ۔ ٹرمپ انتظامیہ کیا اس حقیقت کو نظرانداز کر سکتی ہے کہ مسلم دنیا خود اس دہشتگردی کے خلاف جنگ کررہی ہے جس کے مرتکب اپنے آپ کو مسلمان قرار دیتے ہیں ہم سمجھتے ہیں اس معاملہ میں تعصب سے بالاتر ہو کر سوچنے کی ضرورت ہے  امریکہ سمیت مغرب کے تمام ممالک  کو دہشتگردی کے خاتمے کے لئے  مربوط اور مشترکہ کوششیں کرنی چاہیں دہشتگرد چاہے کوئی بھی ہے وہ انسانیت کا دشمن ہے  اور اس کے ساتھ  وہی سلوک ہونا چاہیے جس کا وہ مستحق ہے۔