Get Adobe Flash player

جعلی ایجنٹوں کی لوٹ مار وزارت داخلہ کیلئے چیلنج

ایک اطلاع کے مطابق گزشتہ تین برسوں کے دوران دو لاکھ 66ہزار چار سو بارہ پاکستانیوں کو مختلف ممالک سے ڈی پورٹ کرکے پاکستان بھیجا گیا کویت ساڑھے انیس  ہزار اور ملائیشیا سے ساڑھے دس ہزار سے زائد پاکستانی بے دخل ہوگئے گزشتہ دنوں سعودی عرب سے بھی بہت سے پاکستانیوں کو محض اس وجہ سے نکالا گیا کہ وہ غیر قانونی طور پر مقیم تھے اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان میں انسانی سمگلنگ کی صورتحال سنگین سے سنگین تر ہوتی جارہی ہے۔ غیر قانونی طور پر یورپی یونین اور مشرق وسطیٰ جانے والے پاکستانیوں کی شرح میں 18فیصد اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ یہ امر قابل ذکر ہے کہ بہت سے ممالک میں غیر قانونی طور پر مقیم افراد جب پکڑے جاتے ہیں تو انہیں وہاں ملکی قوانین کے تحت سزا دی جاتی ہے اس کے بعد ڈی پورٹ کیا جاتا ہے پاکستان میں واپس آنے والے متعلقہ ملکوں سے سزا بھگتنے کے بعد جب یہاں ائیر پورٹ پر اترتے ہیں تو انہیں ملکی قوانین کے تحت حراست میں لے لیا جاتا ہے اس تمام تر صورتحال کا افسوسناک پہلو یہ ہے کہ جو لوگ اپنے ان ہم وطنوں کو غیر قانونی طور پر ملک سے باہر بھیجتے ہیں وہ انہیں لوٹ کر بھی آزادانہ زندگی گزارتے ہیں اور قانون کی زد سے محفوظ رہتے ہیں۔اگرچہ ملک کے مختلف حصوں میں ایسے جعلی ایجنٹ موجود ہیں جو بیرون ملک روزگار کی تلاش کے لئے جانے کے خواہشمند افراد سے بھاری رقمیں لے کر انہیں لانچوں' ٹرکوں' کنٹینروں اور کشتیوں میں بٹھا کر دوسرے ملکوں میں بھیجواتے ہیں مگر پنجاب میں ایسے جعلی ایجنٹوں کی تعداد کچھ زیادہ ہے ہمیں یہ کہنے میں کوئی تامل نہیں کہ موجودہ حکومت نے لوگوں کو لوٹنے والے ان جعلی ایجنٹوں کے خلاف کوئی موثر کارروائی نہیں کی' بعض حلقوں کے مطابق ان جعلی ایجنٹوں کی  پشت پر بااثر افراد اور بعض ارکان اسمبلی کا ہاتھ ہے چنانچہ ان کے خلاف کوئی بھی کارروائی نہیں کی جاتی یہ صورتحال وزارت داخلہ کے لئے کسی چیلنج سے کم نہیں وزیر داخلہ چوہدری نثار علی ایک بہت باصلاحیت شخصیت اور موجودہ حکومت کے ایک طاقتور وزیر ہیں لیکن بدقسمتی سے انہوں نے ابھی تک جعلی ایجنٹوں کی روک تھام اور انہیں قانون کے سپرد کرنے کے معاملات پر توجہ نہیں دی ہمیں یقین ہے کہ جونہی انہوں نے اس معاملے پر توجہ دی ہفتوں اور دنوں میں عوام کو لوٹنے اور انہیں بیرون ملک مصائب میں مبتلا کرنے والے یہ ایجنٹ قانون کے شکنجے میں ہوں گے۔ ہم نے جو اعدادوشمار پیش کئے ہیں اور اقوام متحدہ کی طرف سے پاکستان میں انسانی اسمگلنگ کی صورتحال پر جس تشویش کی نشاندہی کی ہے یہ حکومت کے لئے ایک چیلنج ہے اقوام متحدہ کی رپورٹ کے مطابق  پاکستان کی انسانی سمگلنگ میں 18فیصد اضافہ ہوا ہے یہ اضافہ اس امر کی علامت ہے کہ حکومت نے اس معاملے کو مسلسل نظرانداز کر رکھا ہے وزیر داخلہ کو اب اس برائی کے سدباب کے لئے حرکت میں آجانا چاہیے ان کی ایف آئی اے تو بظاہر ناکام ہوچکی ہے۔