Get Adobe Flash player

صدر ٹرمپ کے مشیر کا دورئہ اسلام آباد لیکن پرانا مطالبہ

صدر امریکہ ڈونلڈ ٹرمپ کے قومی سلامتی کے مشیر لیفٹیننٹ جنرل آرنلڈ ریمنڈ میک ماسٹر کابل کے دورے کے بعد گزشتہ روز اسلام آباد پہنچے جہاں انہوں نے وزیراعظم' مشیر خارجہ اور آرمی چیف سے ملاقاتیں کیں امریکہ میں نئی حکومت کی کسی اعلیٰ شخصیت کا یہ اسلام آباد کا پہلا دورہ ہے وزیراعظم ہائوس میں ہونے والی ملاقات میں وزیراعظم نے امریکی صدر کی جانب سے پاک بھارت تعلقات میں ثالثی کی پیشکش کا خیر مقدم کیا  اور کہا کہ امریکی صدر کے اقدامات سے خطے میں پائیدار امن اور خوشحالی آئے گی پاکستان دنیا اور امریکہ کے ساتھ مل کر کام کرنا چاہتا ہے اور خطہ میں امن و ترقی کے لئے ٹرمپ انتظامیہ کے ساتھ کام کرنے کا خواہشمند ہے انہوں نے کہا کہ پاکستان بھارت اور افغانستان کے ساتھ تعلقات کی بہتری کے لئے کوششیں کر رہا ہے انہوں نے کہا کہ حکومت نے ملک سے انتہا پسندی اور دہشت گردی کے خاتمہ کے لئے اتفاق رائے پیدا کیا اس موقع پر امریکی مشیر نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا نیک خواہشات کا پیغام بھی وزیراعظم کو پہنچایا جس میں کہا گیا کہ امریکہ پاکستان کے ساتھ روابط کو مضبوط دیکھنا چاہتا ہے اور افغانستان میں امن اور خطے کی سلامتی کے لئے مل کر کام کرنا چاہتے ہیں۔صدر امریکہ کے قومی سلامتی کے مشیر نے اسلام آباد میں امریکی صدر کی طرف سے مل کر کام کرنے  کے جن جذبات کا اظہار کیا  یقینا اطمینان بخش ہیں تاہم کابل میں اپنے انٹرویو کے دوران انہوں نے جو کچھ کہا کہ حقائق سے بعید ہے انہوں نے کہا کہ پاکستان کہیں بھی پراکسی میں نہ پڑے اور سفارتکاری کی راہ اپنائے دہشت گردوں کے خلاف بلاتفریق کارروائی پاکستان کے مفاد میں ہے جو مصالحت کی طرف نہیں آئے گا اسے شکست دینا ہوگی داعش جیسے عناصر مہذب دنیا کے لئے خطرہ ہیں۔محولہ گفتگو سے یہی واضح ہوتا ہے کہ جنرل میک ماسٹر کو کابل میں صورتحال کی جو بریفنگ دی گئی وہ محض کابل کا موقف تھا اور اس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں امر واقع یہ ہے کہ پاکستان کی یہ بلاتفریق کارروائی ہی کا نتیجہ ہے کہ اس کی سرزمین سے دہشت گردوں کے برسوں پرانے اور مضبوط ٹھکانے ختم کئے گئے ہیں بلاتفریق کارروائی کے مطالبے آج  بے معانی ہوچکے ہیں دہشت گردوں کا کوئی بھی گروہ پاکستان کی کارروائیوں سے محفوظ نہیں ہے اگر ایسا ہوتا تو اب تک امریکہ یا کابل کی طرف سے شواہد کے ساتھ اسے آشکار کر دیا گیا ہوتا اہم بات یہ ہے کہ افغانستان میں جہاں حکومتی رٹ مسلسل سکڑ رہی ہے مکالمے کے لئے ماحول بنایا جائے اور مزاحمتی گروپوں کو اس  کے لئے آمادہ کیا جائے۔