Get Adobe Flash player

افغانستان میں امن کا واحد راستہ مذاکرات ہیں

صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے قومی سلامتی کے مشیر جنرل میک ماسٹر افغانستان' پاکستان اور بھارت کے دورے کے بعد واپس واشنگٹن پہنچ گئے ہیں وہ ڈو نلڈ ٹرمپ کے برسراقتدار آنے کے بعد کسی اعلیٰ امریکی عہدیدار کا اس خطے کا یہ پہلا دورہ تھا اس کا بنیادی مقصد مذکورہ تینوں ملکوں کی قیادت کو یہ یقین دلانا تھا کہ امریکہ کی نئی حکومت ان کے ساتھ مل کر علاقے کے امن و استحکام اور ترقی کے لئے کام کرنے کی خواہاں ہے' تاہم پاکستان کے لئے جنرل میک ماسٹر کا وہ انٹرویو ناقابل فہم تھا جو انہوں نے کابل کی بریفنگ کے بعد دیا تھا اور جس میں پاکستان پر پراکسی وار میں ملوث ہونے کا الزام عائد کرتے ہوئے یہ مشورہ دیا گیا تھا کہ وہ پراکسی میں ملوث نہ ہو یہ بھی کہا گیا کہ پاکستان کو دہشت گردی کے خلاف بلاتفریق کارروائی کرنی چاہیے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے امریکی مشیر سے ملاقات کے دوران ان تمام معاملات پر کھل کر بات کی اور ان پر واضح کیا کہ پاکستان کا کوئی پراکسی  نہیں انہوں نے اس حوالے سے الزام کو یکسر مسترد کر دیا اور کہا کہ پاکستان خود ریاستی دہشت گردی کا شکار ہے آئی ایس پی آر کے مطابق آرمی چیف نے امریکی مشیر کو خطے اور عالمی دنیا میں امن و استحکام اور دہشت گردی کے  خلاف جنگ میں پاکستان کے کردار سے آگاہ کیا ملاقات میں واضح کیا گیا کہ پاکستان کی انسداد دہشت گردی کی کارروائیوں کا مقصد ہر رنگ و نسل کے دہشت گردوں کا صفایا ہے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا کہ پاکستان خود ریاستی دہشت گردی کا شکار ہے اور دہشت گردوں کے خلاف بلاتفریق کارروائی کر رہا ہے ہم اپنی سرزمین کسی بھی ملک یا ریاست کے خلاف استعمال نہیں ہونے دیں گے اس موقع پر امریکہ کے قومی سلامتی کے مشیر نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاک فوج کے کردار اور کوششوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ دہشت گردوں اور ان کے ڈھانچے کے خاتمے کے لئے پاک فوج کا کردار مثالی ہے امریکہ خطے اور دنیا میں امن واستحکام کے لئے پاکستان کے ساتھ مل کر کام کرے گا۔امریکی مشیر نے آرمی چیف کے ساتھ ملاقات کے دوران دہشت گردی کے خلاف پاک فوج کی کوششوں کے حوالے سے بھی جذبات کا اظہار کیا یہ پاک فوج کی بریفنگ کا نتیجہ تھے  بدقسمتی سے نئی دہلی کابل اور واشنگٹن پاکستان پر دہشت گردی کے خلاف مزید کارروائیوں کے حوالے سے ماضی میں جو مطالبات کرتے رہے وہی اب بھی اٹھ رہے ہیں یوں محسوس ہوتا ہے کہ ہماری وزارت خارجہ امریکہ اور بعض مغربی ممالک میں دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کے کردار اور کامیابیوں کو زیادہ اجاگر نہیں کر سکی دہشت گردوں کے خلاف بلاتخصیض کارروائی یا مزید کارروائی کے مطالبے آج کے دور میں سراسر مضحکہ خیز محسوس ہوتے ہیں' آپریشن ضرب عضب کی تاریخ ساز کامیابیوں کو مستحکم کرنے کے لئے پاک فوج نے 22 فروری سے ردالفساد کے نام سے جو آپریشن شروع کیا ہے اس کے نتیجے میں 108 دہشت گرد مزید ہلاک کئے گئے جبکہ  پانچ سو سے زائد گرفتار کئے گئے گزشتہ روز کالعدم تنظیم الاحرار کے ترجمان احسان اللہ احسان نے بھی اپنے آپ کو پاک فوج کے حوالے کر دیا یہ ایسی کامیابیاں ہیں جو دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کے موثر کردار کی علامت ہیں پاکستان کسی کو بھی اپنی سرزمین کو کسی بھی ملک کے خلاف استعمال  کرنے کی اجازت نہیں دے سکتا لیکن اس کے برعکس یہ بھارت ہے جس کے اعلیٰ افسر اور جاسوس پاکستان سے پکڑے جارہے ہیں' امریکہ سمیت مغربی دنیا کو ان واقعات سے بھی آنکھیں بند نہیں کرنی چاہئیں' پاکستان اپنی سرحدوں کے اندر دہشت گردی کے خاتمے کا  ذمہ دار ہے اور اس نے اس حوالے سے اپنی رٹ قائم کرلی ہے جبکہ افغانستان کے حالات مسلسل دگرگوں ہیں افغان حکومت اور امریکہ افغانستان میں امن و استحکام کے لئے جو بھی سنجیدہ کوششیں کریں گے پاکستان سمیت خطے کے تمام ممالک ان میں تعاون کرنے کے لئے تیار ہوں گے تاہم اس حقیقت کو بہرحال مدنظر رکھا جانا چاہیے کہ طاقت کے استعمال سے افغانستان میں امن قائم نہیں ہوسکتا اگر ہونا ہوتا تو بہت پہلے قائم ہوچکا ہوتا' امن مذاکرات ہی قیام امن کا واحد راستہ ہیں تمام سٹیک ہولڈروں کو اس حقیقت کا ادراک کرنا ہوگا۔