Get Adobe Flash player

غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ میں اضافہ متعلقہ حکام کی غفلت کا نتیجہ

ملک بھر میں شدید گرمی کی وجہ سے غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کا دورانیہ بڑھا دیا گیا ہے جس کے نتیجے میں مختلف علاقوں سے عوام کے احتجاج اور مظاہروں کی اطلاعات منظر عام پر آرہی ہیں سب سے زیادہ دکھ کی بات یہ ہے کہ اس صورتحال میں پانی و بجلی کے دونوں وزراء کے پاس کہنے کے لئے کوئی معقول بات نہیں ہے اور وہ یہی کہہ کر تسلی دے رہے ہیں کہ اپریل کے آخر یا مئی کے اوائل تک صورتحال نارمل ہو جائے گی یعنی اضافی غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ نہیں ہوگی تاہم شہروں میں چھ اور دیہی علاقوں میں اس سے زائد کی لوڈشیڈنگ کا شیڈول بحال ہو جائے گا۔وزیراعظم نواز شریف نے اس غیر معمولی لوڈشیڈنگ پر سخت برہمی کا اظہار کیا ہے اور یہ سوال اٹھایا ہے کہ متعلقہ حکام نے قبل از وقت منصوبہ بندی کیوں نہیں کی انہوں نے کہا ہے کہ ہنگامی بنیادوں پر تمام وسائل بروئے کار لا کر بجلی کی کمی کو پورا کیا جائے۔ سرکاری موقف ہے کہ اس وقت بجلی کا شارٹ فال سات ہزار میگاواٹ  کے لگ بھگ ہے' بنیادی بات یہ ہے کہ  یہ صورتحال اچانک پیدا نہیں ہوئی محکمہ موسمیات کی طرف سے یہ واضح کہا گیا تھا کہ اس بار زیادہ گرمی پڑے گی اپریل کے آغاز میں ہی مختلف علاقوں کے درجہ حرارت بڑھ گئے تھے حالات کا تقاضا تھا کہ دونوں وزراء اور متعلقہ وزارت کے متعلقہ حکام سرجوڑ کر بیٹھ جاتے اور شارٹ فال کی کمی  کو پورا کرنے کی حکمت عملی وضع کرتے اس کے برعکس صورتحال کا مضحکہ خیز پہلو یہ ہے کہ ایک طرف عوام لوڈشیڈنگ کا دورانیہ بڑھنے سے بے حال ہو رہے ہیں دوسری طرف دونوں وزراء فخریہ انداز میں کہہ رہے ہیں کہ صنعتی شعبہ میں زیرو لوڈشیڈنگ ہے۔یہ درست  ہے کہ پن بجلی کی پیداوار میں کمی واقع ہوئی ہے لیکن بجلی پیدا کرنے والی کمپنیوں کو گردشی قرضہ کی ادائیگی کرکے ان سے زیادہ پیداوار حاصل کی جاسکتی تھی ان کا یہ وطیرہ ہے کہ حکومت کی طرف زیادہ واجبات ہونے  کی صورت میں وہ دانستہ پیداوار میں کمی کر دیتی ہیں۔ حالیہ بحران ایسا نہیں ہے کہ بہتر حکمت عملی کے ذریعے اسے حل نہ کیا جاسکے بدقسمتی سے متعلقہ شخصیات نے اسے حل کرنے کے سلسلے میں سنجیدگی کا مظاہرہ ہی نہیں کیا حکومت 2018ء کے اوائل میں بجلی کی لوڈشیڈنگ کے خاتمہ کے وعدے کر رہی ہے اگر 2017ء کی اس  دوسری شمشاہی میں اس کی کارکردگی کا یہ عالم ہے تو چھ سات ماہ بعد یہ کیونکر معجزے دکھا سکے گی۔