Get Adobe Flash player

سپریم کورٹ کا فیصلہ' جے آئی ٹی تشکیل دینے کا حکم

سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں جے آئی ٹی تشکیل دینے کا حکم دیا ہے جو سات روز کے اندر بنائی جائے اور 60دنوں میں اپنی رپورٹ سپریم کورٹ میں پیش کرے پاکستان پیپلزپارٹی کے بانی چیئرمین ذوالفقار علی بھٹو کے خلاف نواب محمد احمد خان قتل کیس کے بعد پانامہ کیس پاکستان کی تاریخ کا دوسرا بڑا کیس تھا 23فروری کو سپریم کورٹ نے اس کا فیصلہ محفوظ کیا تھا دو مراحل میں اس کی 35سماعتیں ہوئیں پانچ رکنی بنچ کی سربراہی جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کی اراکین میں جسٹس عظمت سعید شیخ' جسٹس اعجاز الاحسن' جسٹس اعجاز افضل اور جسٹس گلزار احمد شامل تھے تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان' جماعت اسلامی کے امیر سراج الحق اور شیخ رشید نے پانامہ کیس انکشافات کے بعد وزیراعظم کی نااہلی کے لئے سپریم کورٹ میں نااہلی کی درخواستیں دائر کی تھیں عدالت نے 23فروری کو فیصلہ محفوظ کیا جو 20اپریل کو سنایا گیا پاکستان کی تاریخ کا یہ منفرد فیصلہ تھا جو تقریباً دو ماہ تک محفوظ رکھا گیا۔تحریک انصاف کے چیئرمین کی طرف سے موقف اختیار کیاگیا کہ  لندن فلیٹس1993سے 1996 کے دوران خریدے گئے اور یہ شریف خاندان کی ملکیت ہیں وزیراعظم نے پارلیمنٹ کی تقریر میں جھوٹ بولا ہے اس لئے وہ صادق اور امین نہیں رہے سراج الحق کا  کہنا تھا کہ تمام ثبوت عدالت میں آگئے ہیں لہٰذا وزیراعظم کی نااہلی کا فیصلہ سنایا جائے شیخ رشید کا بھی موقف تھا کہ وزیراعظم صادق اور امین نہیں رہے دوران سماعت وزیراعظم کے وکیل مخدوم علی خان نے موقف اپنایا کہ وزیراعظم کی قومی اسمبلی میں تقریر بیان حلفی نہ تھا انہوں نے تقریر میں جھوٹ نہیں بولا ان کا نام پانامہ کیس میں نہیں آیا عدالت ٹھوس شواہد کے بغیر منتخب نمائندے کو نااہل قرار نہیں دیا جاسکتا۔مذکورہ فیصلے کے بارے میں جج صاحبان نے کہا تھا کہ اسے صدیوں یاد رکھا جائے گا قطری شہزادے کا خط مذکورہ کیس میں غیر معمولی اہمیت کا حامل تھا پانامہ پیپرز میں نام نہ ہونے کے باوجود وزیراعظم نے اپنے آپ کو احتساب کے لئے پیش کیا۔سپریم کورٹ میں پانامہ کیس ختم نہیں ہوا بلکہ مزید تحقیقات کا حکم دیا گیا ہے تین ججوں نے مزید تحقیقات کا حکم دیا ہے جبکہ دو نے وزیراعظم کو نااہل کرنے کا حکم دیا ہے وزیراعظم نے سپریم کورٹ کے فیصلے پر اطمینان کا اظہار کیا ہے اور اللہ کا شکر ادا کیا ہے جبکہ تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے وزیراعظم سے استعفیٰ کا مطالبہ کیا ہے ان کا کہنا ہے کہ سپریم کورٹ کے دو ججوں نے وزیراعظم کو صادق اور امین قرار نہیں دیا۔سپریم کورٹ کے اس منقسم فیصلے کے معاشریپر جو اثرات مرتب ہوں گے اس کا اندازہ لگانا دشوار نہیں ہے تاہم جے آئی ٹی کی تشکیل کے مراحل سے معاملات کم از کم ساٹھ دنوں کے لئے مزید التواء میں جائیںگے۔قوم کی خواہش تھی کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد ملک سے بدعنوانی کے خاتمے کے سلسلے میں کوئی روڈ میپ دیا جاسکے گا لیکن اس حوالے سے کوئی لائحہ عمل سامنے نہیں آسکا' وزیراعظم جے آئی ٹی کے سامنے پیش ہوں گے اور جے آئی ٹی کا طریقہ کار کیا ہوگا اس بارے میں سردست کچھ کہنا قبل از وقت ہے۔بہرحال یہ امر اطمینان بخش ہے کہ ججوں کی اکثریت نے وزیراعظم کو صادق اور امین  قرار دیا ہے اور ان کی اہلیت کو تسلیم کیا ہے سپریم کورٹ کے مذکورہ فیصلے کی قانونی موشگافیاں کچھ بھی کیوں نہ ہوں یہ حقیقت ہے کہ اس فیصلے نے جمہوریت اور عوامی مینڈیٹ کو مستحکم کیا ہے حکومت کسی خوف و خدشے کے بغیر اپنی پالیسیاں جاری رکھ سکے گی۔ہم سمجھتے ہیں اب جبکہ انتخابات ایک سال کی مدت کے فاصلے پر ہیں پوری قوم اور تمام سیاسی جماعتوں کو اگلے انتخابات پر توجہ مرکوز کرنی چاہیے حکومت کی کارکردگی کا سب سے بڑا احتساب عام انتخابات کے موقع پر ہوتا ہے وزیراعظم نواز شریف سپریم کورٹ کے اس مرحلے کے سرخرو ہو کر نکلے ہیں ان کے خلاف درخواست دھندوں نے جو الزامات عائد کئے تھے انہیں وہ ثابت کرنے میں ناکام رہے ہیں ججوں کا فیصلہ اسی حقیقت کو ظاہر کرتا ہے سپریم کورٹ نے فیصلہ دے دیا جبکہ مزید فیصلے کے لئے تحقیقات کا حکم دیا اطمینان' ابہام' خوشی اور مایوسی فیصلے میں سب کچھ موجود ہے۔