Get Adobe Flash player

نجی شعبہ کو تعلیم کے فروغ کے لئے مراعات دی جائیں

وطن عزیز میں کم و بیش تمام ہی سیاسی قائدین تعلیم کی اہمیت کا ذکر کرتے ہیں اور شد و مد کے ساتھ یہ کہتے ہیں کہ تعلیم کو فروغ دئیے بغیر ملک ترقی نہیں کر سکتا' یہ بھی دعویٰ کیا جاتا ہے کہ جب ان کی جماعت اقتدار میں آئے گی تو تعلیم ان کی حکومت کی ترجیحات میں سرفہرست ہوگی لیکن اقتدار میں آنے کے بعد تعلیم ان کی ترجیحات میں بہت پیچے چلی جاتی ہے پاکستان پیپلزپارٹی نے اپنے پانچ سالہ دور اقتدار میں تعلیم کے فروغ کے لئے کوئی بھی قابل ذکر منصوبہ نہیں بنایا جبکہ مسلم لیگ (ن) کی کارکردگی بھی مایوس کن ہے اعدادوشمار کے مطابق گزشتہ تین برسوں میں ایک بھی سرکاری یونیورسٹی قائم نہیں کی گئی جبکہ اس کے برعکس پڑوسی ملک بھارت میں گزشتہ چار برسوں کے دوران 52 سرکار یونیورسٹیوں کا قیام عمل میں لایا گیا پاکستان کی یونیورسٹیوں میں زیر تعلیم طلباء کی تعداد13لاکھ55ہزار ہے جس میں 7لاکھ53ہزار لڑکے اور 6لاکھ لڑکیاں شامل ہیں جبکہ بھارتی یونیورسٹیوں میں زیر تعلیم طلباء کی تعداد دو کروڑ96لاکھ ہے جس میں ایک کروڑ60لاکھ لڑکے اور ایک کروڑ30لاکھ لڑکیاں شامل ہیں۔گزشتہ تین برسوں کے دوران پاکستان کے نجی شعبہ میں دو یونیورسٹیوں کے قیام کے بعد پاکستان میں یونیورسٹیوں  کی کل تعداد163ہوگئی ہے جس میں 91سرکاری اور 72پرائیویٹ  ہیں بھارت میں یونیورسٹیوں کی کل تعداد785ہوگئی ہے نجی شعبہ کی یونیورسٹیوں کی تعداد258ہے پاکستان میں یونیورسٹیوں میں پڑھانے والے اساتذہ کی تعداد83ہزار 375ہے جس میں 80فیصد سرکاری یونیورسٹیوں میں پڑھا رہے ہیں۔اس میں شک نہیں کہ بھارت کی آبادی بہت زیادہ  ہے اس اعتبار سے اس کی تعلیمی ضروریات بھی بہت زیادہ ہیں لیکن پاکستان میں اس کی ضروریات کے مطابق بھی یونیورسٹیاں نہیں ہیں صوبے ہمیشہ زیادہ سے زیادہ حقوق کا مطالبہ کرتے رہے لیکن 18 ویں ترمیم کے نتیجے میں صوبوں کو جو حقوق دئیے گئے  انہوں نے ان کی بھی پاسداری نہیں کی تعلیم کا شعبہ صوبوں کے زیرانتظام ہے اور یہ ان کی ذمہ داری ہے کہ وہ تعلیم کے فروغ کے لئے زیادہ بجٹ مختص کریں مگر بدقسمتی سے کسی صوبے نے اس شعبے پر وہ توجہ نہیں دی جس کا یہ متقاضی ہے طرفہ تماشا تو یہ ہے کہ ملک میں سات یونیورسٹیوں کے سرے سے وائس چانسلر ہی مقرر نہیں کئے گئے اس ضمن  میں یہ ضروری ہے کہ نجی شعبہ کی زیادہ سے زیادہ حوصلہ افزائی کی جائے تاکہ وہ مزید یونیورسٹیاں قائم کر سکے' ہمیں یہ کہنے میں کوئی تامل نہیں کہ اس وقت ملک میں تعلیمی معاملات میں جو بھی تھوڑی بہت بہتری دکھائی دیتی ہے یہ نجی شعبہ کی مرہون منت ہے' نجی شعبہ کے تعلیمی ادارے اگر موجود نہ ہوتے تو وطن عزیز میں تعلیمی شعبہ تباہی سے دوچار ہوتا اب بھی یہ لازم ہے کہ نئی یونیورسٹیوں کے قیام کے سلسلے میں اس شعبہ کو مراعات اور سہولتیں دی جائیں' حکومت کو اپنے طور پر بھی مرکز اور صوبوں میں اس شعبہ کے لئے بجٹ میں اضافہ کرنا ہوگا تو کوئی مضائقہ نہیں سیاسی قائدین اور جمہوری حکومتوں کو اعلیٰ تعلیم  کے فروغ کے لئے اپنی قومی ذمہ داریاں پوری کرنی چاہئیں۔