Get Adobe Flash player

چین کا مشترکہ خوشحالی کا وژن اور بھارت کی منفی سوچ

بیجنگ میں منعقدہ ون بیلٹ ون روڈ فورم میں بھارت کی عدم شرکت نے اسے جہاں عالمی برادری میں تنہا کر دیا ہے وہاں بھارت کے اندر بھی سیاسی حلقوں اور میڈیا کی طرف سے بھارت سرکار پر شدید تنقید کی جارہی ہے یاد رہے کہ بھارت نے مذکورہ فورم میں سرکاری وفد بھیجنے سے انکار کر دیا تھا اس کا موقف تھا کہ پاکستان اور چین کے درمیان جاری ون بیلٹ ون روڈ کا فلیگ شپ پاک چین اقتصادی راہداری منصوبہ بھارتی خودمختاری کی خلاف ورزی ہے اس لئے اسے تسلیم نہیں کیا جاسکتا بھارت کے تین اہم خبر رساں اداروں نے اپنے اداریوں میں حکومت کی عدم شرکت کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اسے خارجہ پالیسی اور سفارت کاری کی ناکامی قرار دیا ہے انڈین ایکسپریس نے لکھا ہے کہ ہم خودمختاری کے اہم سوال پر کسی عالمی طاقت کو ساتھ نہیں ملاسکے چین کی جانب سے منعقد کیا گیا فورم  جس میں جدید دور میں رابطے اور تعاون کے منصوبوں سے متعلق معلومات منظر عام پر لائی گئیں ہیں بھارت کی عدم شرکت خارجہ پالیسی کی سب سے بڑی ناکامی اور نئی دہلی کی تنہائی کو واضح کرتی ہے کانفرنس میں شرکت کرکے اپنی آواز اور موقف پیش کرنے کی بجائے اس کا بائیکاٹ کرکے بھارت نے یہ پیغام دیا ہے کہ جو ہوا وہ اس نے تسلیم کر لیا ہے ''دی ہندو'' نے لکھا ہے بھارت کے اعتراضات  درست  میں گلگت بلتستان کے حوالے سے بھارتی اعتراض دورہونے تک ون بیلٹ ون روڈ کا حصہ نہیں بننا سمجھ میں آتا ہے تاہم بحیثیت مبصر بھی فورم میں شرکت نہ ہونا سفارتکاری کے دروازے بند کرنے جیسا ہے امریکہ اور جاپان اگرچہ چین کے منصوبے کا حصہ نہیں اس کے باوجود انہوں نے فورم میں اپنے سرکاری وفود روانہ کئے ٹائمز آف انڈیا کا کہنا ہے کہ بیجنگ کانفرنس میں شرکت نہ کرکے بھارت نے عام روش کے برخلاف ایک دلیرانہ خارجہ پالیسی کا اقدام کیا ہے تاہم اس فورم میں شرکت نئی دہلی اور وزارت خارجہ کے لئے چینی مذاکراتی تکنیک پر غور کے لئے بہتر ہوتی۔ ہندوستان ٹائمز کے مطابق چین کے اہم ترین تعمیراتی منصوبے پر بھارت واضح حریف  بن کر سامنے آیا ہے چین کیوں اس بات پر زور دے دیا ہے کہ بھارت اس منصوبے کی تائید کرے جبکہ چین خود نیوکلیئر سپلائر گروپ سمیت ہر فورم پر بھارت کی مخالفت کرتا رہا ہے۔بھارت کی یہ نادان سوچ ہے کہ وہ ون بیلٹ ون روڈ منصوبے کو محض چین کے مفادات کی عینک سے دیکھتا ہے ملکوں کے درمیان باہمی رابطوں اور ایک دوسرے کی صلاحیتوں و مہارتوں سے استفادے کا مطلب مشترکہ خوشحالی کے لئے کوشش ہے' چین نے واضح طور پر کہا ہے کہ اس کے منصوبوں کا مقصد مشترکہ خوشحالی کا حصول ہے اس لئے تمام ممالک کو اس کے ساتھ شریک ہونا چاہیے۔ اگرچہ 29سربراہان مملکت و حکومت نے فورم میں شرکت کی ہے تو اسکا یہ مطلب ہے کہ انہوں نے مشترکہ خوشحالی کے لئے چین کے وژن پر غور کرکے اس کی اہمیت کو تسلیم کیا ہے بدقسمتی سے بھارت سرکار جو تعصبانہ اور منفی سوچ رکھتی ہے حقائق کا ادراک نہیں کر سکی اور تنہا ہو  کر رہ گئی۔