Get Adobe Flash player

اقوام متحدہ کی طرف سے پاک بھارت مذاکرات کی تجویز

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے ایک بار پھر کہا ہے کہ مسئلہ کشمیر پر پاکستان اور بھارت کو مذاکرات کرنے چاہئیں اور دونوں ملکوں کے درمیان کشیدگی کو ختم ہونا چاہیے سکرٹری جنرل کے ترجمان کے مطابق اقوام متحدہ حالات کی سنگینی سے آگاہ ہے اسی لئے اس نے ہمیشہ مذاکرات پر زور دیا ہے ادھر پاکستان کی وزارت خارجہ کے ترجمان نے اقوام متحدہ کی طرف سے مذاکرات کی تجویز کا خیر مقدم کیا ہے اور کہا ہے کہ پاکستان ہمیشہ مذاکرات کا خواہاں اور بھارت گریزاں رہا ہے انہوں نے کہا کہ پاکستان کشمیر سمیت تمام تصفیہ طلب امور پر بات چیت کیلئے تیار ہے مگر بھارت اقوام متحدہ کی قراردادوں سے مسلسلے انکار کررہا ہے ترجمان نے کہا کہ بھارت کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں میں ملوث ہے نہتے کشمیریوں کی آواز دبانے کیلئے طاقت کا استعمال کیا جارہا ہے اور بیلٹ گن کے استعمال سے نوجوانوں کو اندھا کیا جارہا ہے۔ یہ امر یقیناً اطمینان بخش ہے کہ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل حقائق کا بخوبی ادراک رکھتے ہیں اور انہیں معلوم ہے کہ مسئلہ کشمیر کے باعث دونوں ملکوں کے درمیان پائی جانے والی کشیدگی خطے میں عدم استحکام کا باعث بن سکتی ہے چنانچہ وہ مسئلہ کے حل کیلئے بار بار مذاکرات پر زور دیتے ہیں لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا اقوام متحدہ کی اس اعلیٰ سطح سے محض مذاکرات کی تجویز پیش کردینا ہی کافی ہے؟ ایسی صورت میں جب ایک فریقن مذاکرات ہی سے انکاری ہے کیا اقوام متحدہ کی ذمہ داری نہیں کہ اسے مذاکرات کی میز پر لانے کیلئے دیگر اقدامات بی کرے بلاشبہ طاقت کا استعمال مسئلہ کا حل نہیں ہے لیکن جو فریق مذاکرات سے گریزاں ہے اسے میز پر لانے کیلئے بھی تو کوششیں ہونی چاہئیں بات محض اس کے انکار پر ختم نہیں ہونی چاہیے اقوام متحدہ کو مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی روک تھام کیلئے بھی اقدامات کرنے چاہئیں اگر اقوام متحدہ  نہتے کشمیریوں پر بھارتی فورسز کی طرف سے طاقت کے استعمال کو رکوانے میں کامیاب ہوتی ہے تو یہ بھی اسکی ایک بڑی کامیابی ہوگی مقبوضہ کشمیر کے عوام عالمی برادری اور اقوام متحدہ کی طرف دیکھ  رہے ہیں کیا یہ عالمی ایوان ان پر بھارتی مظالم بند کروا سکیں گے؟