امریکی سینیٹروں اور امریکی انتظامیہ کے موقف میں تضاد کیوں؟

امریکی سینیٹ کی آرمڈ سروسز کمیٹی کے چیئرمین سینیٹر جان مکین کی قیادت میں سینیٹروں کے وفد نے گزشتہ روز آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ اور مشیر خارجہ سرتاج عزیز سے ملاقاتیں کیں افغانستان میں امن اور مسئلہ کشمیر دونوں ملاقاتوں کے اہم موضوعات تھے' سینیٹر جان مکین نے ان ملاقاتوں کے دوران یہ یقین دلانے کی کوشش کی کہ کشمیر پر امریکی پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں ہوئی امریکہ مقبوضہ کشمیر میں تشدد کا خاتمہ چاہتا ہے اور اس موقف پر قائم ہے کہ مذاکرات کے ذریعے تنازعہ کو حل کیا جائے۔افغانستان میں قیام امن کے حوالے  سے امریکی وفد کا کہنا تھا کہ پاکستان اس سلسلے میں موثر کردار ادا کر سکتا ہے اس کے بغیر افغانستان میں امن قائمنہیں ہوسکتا سینیٹر جان مکین نے کہا کہ خطے میں رونما ہونے والی تبدیلیوں کے تناظر میں  پاک افغان تعلقات کی اہمیت پہلے سے زیادہ بڑھ گئی ہے انہوں نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کے کردار اور قربانیوں کو سراہا دفتر خارجہ کے ترجمان کے مطابق مشیر خارجہ کے ساتھ مذاکرات کے دوران پاکستان اور امریکہ نے خطے میں امن و استحکام کے لئے دوطرفہ قریبی تعاون پر اتفاق کیا۔ مشیر خارجہ نے واضح کیا کہ ہم افغانستان میں دیرپا امن کے لئے پرعزم ہیں۔ مفاہمی عمل اور استحکام کے لئے چار ملکی رابطہ گروپ موثر ذریعہ ہے ہم دہشت گردی سے نمٹنے کے لئے امریکہ سے سٹریٹجک شراکت داری کے  خواہاں ہیں  اور خوشحال افغانستان کے لئے امریکہ سے تعمیری تعاون چاہتے ہیں انہوں نے وفد کو آپریشن ضرب عضب اور ردالفساد کے ذریعے پاکستان کی دہشت گردی کے خلاف کامیابیوں کے بارے میں بتایا جبکہ انہوں نے سینیٹروں کو مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کی جانب بھی متوجہ کیا اور کہا کہ پاکستان حق خودارادیت کے لئے کشمیریوں کی پرامن جدوجہد کی حمایت کرتا ہے۔ مسئلہ افغانستان اور مسئلہ کشمیر کے بارے میں امریکی سینیٹروں کے وفد کے خیالات بلاشبہ اطمینان بخش ہیں۔ سینیٹر جان مکین کا یہ موقف بھی اہم ہے کہ خطے کے حالات کے تناظر میں پاک امریکہ تعلقات کی اہمیت بڑھ گئی ہے مگر امریکی صدر اور انتظامیہ کے رویے سے ہرگز ایسا محسوس نہیں ہوتا اگر امریکہ نے کشمیر پالیسی تبدیل نہیں کی تو بھارتی وزیراعظم کے دورے اور ان سے ملاقات کے موقع پر انہوں نے مذاکرات کے ذریعہ تنازعہ کشمیر کے حل پر زور کیوں نہیں دیا اور مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے معاملے پر خاموشی کیوں اختیار کی؟ بھارتی وزیراعظم کے دورے کے بعد بھی اس حوالے سے امریکی محکمہ خارجہ صورتحال واضح کر سکتا تھا سینیٹر جان مکین کشمیر پالیسی کے حوالے سے جو کچھ کہتے ہیں جب تک امریکی محکمہ خارجہ ایسے ہی موقف کا اظہار نہیں کرتا اس پر یقین نہیں کیا جاسکتا امریکی انتظامیہ کو واضح کرنا ہوگا کہ اس کی  کشمیر پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں آئی جہاں تک افغانستان میں قیام امن کا معاملہ ہے پاکستان نے متعدد بار کہا ہے کہ اس ضمن میں اس سے جو کچھ ہوسکا وہ ضرور کرے گا کیونکہ اسے یہ ادراک ہے کہ افغانستان کا امن اس کے لئے کتنا ضروری ہے لیکن جوں ہی چین نے افغانستان میں امن کے قیام میں دلچسپی ظاہر کی امریکی رویے میں سرد مہری پیدا ہوگئی دراصل امریکہ کو افغانستان میں اپنی مرضی کے امن سے دلچسپی ہے سینیٹر جان مکین اور ان کے وفد میں شامل سینیٹروں کو اپنی حکومت سے اس کے رویوں کے بارے میں استفسار کرنا چاہیے۔ ٹرمپ انتظامیہ نے مسئلہ کشمیر اور مسئلہ افغانستان کے حوالے سے جو ابہام پیدا کیا ہے اس پر اس سے وضاحت کرنی چاہیے وفد کے موقف سے یہی محسوس ہوتا ہے کہ امریکی سینٹ جو موقف رکھتی ہے امریکی انتظامیہ کا موقف یکسر اس کے برعکس ہے اگر ایسا نہیں ہے تو کشمیر پالیسی میں تبدیلی نہ ہونے اور افغانستان میں امن کے حوالے سے امریکی حکومت کو مذکورہ وفد کے موقف کی تائید میں بیان جاری کرنا چاہیے۔