Get Adobe Flash player

کشمیریوں کی جدوجہد اور اقوام متحدہ کی قراردادیں

متحدہ جہاد کونسل کے چیئرمین سید صلاح الدین نے مظفرآباد میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے امریکہ کی طرف سے پابندیوں کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ کشمیر کی آزادی کے لئے ان کی جدوجہد جاری رہے گی اور اس میں وہ مزید شدت لائیں گے انہوں نے یہ موثر استدلال پیش کیا کہ مجھ جیسے آزادی کے لئے جدوجہد کرنے والے کو محض بھارت کی خوشنودی  میں سی پیک کے منصوبوں اور اس کے ایٹمی قوت ہونے کی وجہ سے دہشت گرد قرار دیا گیا امریکی صدر کا اصل مسئلہ پاکستان  دشمنی ہے۔درحقیقت صلاح الدین کو دہشت گرد قرار دینے کا کوئی بھی جواز نہیں ہے کشمیر کے لئے ان کی جدوجہد اب شروع نہیں ہوئی جبکہ یہ جدوجہد برسوں پر محیط ہے لیکن تعجب کی بات ہے کہ اچانک امریکہ کو انہیں دہشت گرد قرار دینے کا خیال آیا ہے اس کی وجہ محض بھارت کی خوشنودی اور اس سے تجارتی مفادات ہیں سید صلاح  الدین نے کہا کہ ہم اقوام متحدہ کے چارٹر کے تحت جدوجہد کر رہے ہیں اور یہ جدوجہد حق خودارادیت  کے لئے ہے اقوام متحدہ کے آئین میں درجہ ہے کہ غاصب ملک اور فوج کے خلاف مغلوب عوام اپنی آزادی کے لئے کسی بھی طرح کی جدوجہد کریں وہ ان کا حق ہے 1947ء میں بھارت نے جموں و کشمیر میں اپنی فوجیں اتار کر قبضہ کیا جبکہ کشمیر کے ایک حصہ کو ریاستی عوام نے خود آزاد کروایا بھارت نے اقوام متحدہ میں جا کر حق خودارادیت کا وعدہ کیا اور قرارداد پر دستخط کئے جس کے بعد 5جنوری 1949ء کو سیز فائر لائن معرض وجود میں آئی پنڈت نہرو نے خود وعدہ کیا کہ کشمیریوں کو حق خودارادیت دیا جائے گا۔بلاشبہ تاریخ کے ان حقائق کو ہرگز نہیں بھلایا جاسکتا مگر بھارت اقوام متحدہ کی قراردادوں کی مسلسل نفی کر رہا ہے اقوام متحدہ کی یہ عالمی ذمہ داری ہے کہ وہ قراردادوں کی مسلسل نفی کر رہا ہے اقوام متحدہ  کی یہ عالمی ذمہ داری ہے کہ وہ قراردادوں پر عملدرآمد کے لئے اقدامات کرے  انہیں چند ہفتے قبل ہی امریکہ نے مسئلہ کشمیر کو حل کرنے کے لئے ثالثی کی پیشکش کی مگر بھارت نے اسے مسترد کر دیا جبکہ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے کہا کہ پاکستان اور بھارت کو مذاکرات کے ذریعے مسئلہ کشمیر حل کرنا چاہیے۔ اس نوع کے بیانات تنازعہ کی موجودگی کو ظاہر کرتے ہیں عالمی ایوانوں میں اکثر یہ نئی صورتحال بھی زیر بحث رہتی ہے کہ دونوں ملک ایٹمی طاقتیں ہیں مسئلہ کشمیر کے حوالے سے کشیدگی اور تصادم کسی لمحے بھی  ایٹمی تصادم کا رخ اختیار کر سکتا ہے اس لئے اس مسئلہ کو حل ہونا چاہیے خطے کے امن و استحکام کا یہ تقاضا ہے کہ اس کے حل کے لئے کوششیں کی جائیں لیکن صلاح الدین پر پابندیوں کشمیری لیڈروں کی نظر بندیوں یا مقبوضہ کشمیر میں فوجی طاقت کے استعمال سے اسے حل نہیں کیا جاسکتا اسے محض مذاکرات کے ذریعے ہی حل کیا جاسکتا ہے۔ سینیٹر جان مکین کی قیادت میں پاکستان کا دورہ کرنے والے وفد نے بھی تنازعہ کشمیر کو بات چیت کے ذریعے حل کرنے پر زور دیا ہے خالی قولی  بیانات سے مسئلہ حل نہیں ہوسکتا اس کے لئے انہیں عملی کردار ادا کرنا ہوگا اور امریکی حکومت پر زور دینا ہوگا کہ وہ سیاسی مصلحتوں سے باہر نکل کر تنازعہ کے حل کے لئے عملی کوششیں کرے۔