امریکہ افغانستان کے ذریعے بھارتی مداخلت روکے

امریکی سینٹ کی آرمڈ سروسز کمیٹی کے سربراہ سینیٹر جان مکین کی قیادت میں امریکی سینیٹروں کے وفد سے ملاقات کے موقع پر وزیراعظم نوازشریف نے جہاں دیگر متعدد امور پر بات چیت کی وہاں مقبوضہ کشمیر میں بھارتی بربریت اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا ذکر بھی کیا کہ بھارتی فورسز کے وحشیانہ تشدد پر ہمیں بے حد تشویش ہے امریکہ اور عالمی برادری کو مقبوضہ کشمیر میں مظالم بند کرانے کے لئے اپنا کردار ادا کرنا چاہیے  پاک امریکہ تعلقات کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ دونوں ملک مضبوط شراکت دار اور گہرے دوست ہیں دونوں ملکوں کے درمیان پائیدار اور مستحکم شراکت داری خطے کے لئے اہم ہے ان کا مزید کہنا تھا کہ گزشتہ چار برسوں کے دوران ہم نے دہشت گردی کے  خلاف جنگ میں اہم کامیابیاں حاصل کیں جن کے نتیجے میں  سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال ہوا اور ملک میں معاشی استحکام رہا ۔ وزیراعظم نے کہا کہ ہماری حکومت ہمسائیوں کے ساتھ بہتر تعلقات ک خواہاں ہے افغانستان اور بھارت کے ساتھ تعلقات بہتر کرنے کے لئے اقدامات کئے پاکستان اور افغانستان میں امن و استحکام کے لئے پرعزم ہیں افغانستان میں امن اور خوشحالی کے لئے پاک افغان امریکہ شراکت داری اہم ہے انہوں نے افغانستان مصالحتی عمل میں سہولت کے لئے چار فریقی رابطہ گروپ کی اہمیت پر زور دیا امریکی سینٹ کے وفد نے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کے ہمراہ جنوبی وزیرستان کا بھی دورہ کیا۔ وفد کو پاک افغان بارڈر کی سیکورٹی' باڑ لگانے اور نگرانی بڑھا کر اس میں بہتری کے اقدامات کے بارے میں بریفنگ دی گئی وفد کو ایجنسی میں سماجی و اقتصادی ترقی کی کوششوں سے بھی آگاہ کیا گیا وفد نے ہیلی کاپٹر کے ذریعے بارڈر کا جائزہ لیا نئے تعمیر شدہ قلعوں' پوسٹوں' سکولوں' کالجوں' ہسپتالوں' سپورٹس سٹیڈیم ' واٹر سپلائی سکیموں ' سڑکوں اور مواصلاتی نیٹ ورک کے ترقیاتی کاموں کو بھی دیکھا وفد نے علاقے میں امن و امان کی خاطر پاک فوج اور مقامی قبائل کی کوششوں اور قربانیوں کو سراہا۔سینیٹر جان مکین نہ صرف آرمڈ سروسز کمیٹی کے سربراہ ہیں بلکہ ایک بے حد موثر شخصیت ہیں پاک فوج' مشیر خارجہ اور وزیراعظم نے انہیں دہشت گردی کے خلاف جنگ میں قربانیوں اور کامیابیوں سے لے کر ہمسائیوں کے ساتھ تعلقات میں حائل رکاوٹوں کے بارے میں تفصیل کے ساتھ آگاہ کیا ہے بھارت کے ساتھ تعلقات میں رکاوٹ مسئلہ کشمیر ہے بھارت کی خواہش ہے کہ پاکستان اس معاملے سے لاتعلق ہو جائے اور خاموشی اختیارات کرے جو ناممکن ہے چنانچہ ردعمل کے طور پر وہ ورکنگ بائونڈری اور ایل او سی پر کشیدگی پیدا کرتا ہے دوسری طرف افغانستان ہے جہاں بھارتی لابی پاکستان دشمنی میں فعال  ہے افغانستان میں بھارتی قونصلیٹ کی آڑ میں  ''را'' کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے سوات سے فرار ہونے والے ملا فضل اللہ اور ان کے ساتھیوں کی پشت پناہی کرکے پاکستان میں دہشت گردی کروا رہی ہے پاکستان کے  بار بار کے مطالبات کے باوجود افغان حکومت کی طرف سے ان دہشت گردوں کے خلاف کارروائی نہیں کی موجودہ افغان حکومت اگر نئی دہلی کا آلہ کار نہ بنے اور اپنے عوام و اپنی مملکت کے مفاد کو پیش نظر رکھے تو کوئی وجہ نہیں کہ دونوں ملکوں کے تعلقات میں سرد مہری ختم نہ ہوسکے۔ پاکستان مخالف دہشت گردوں کے خلاف موثر کارروائی کی جائے اور بھارتی قونصیلٹ کو محض سفارتی سرگرمیوں تک محدود کیا جائے یہ امر غور طلب ہے کہ بھارت اور تباہ حال افغانستان کے درمیان کیا اس حد تک آمدورفت ہے کہ آٹھ سے زائد قونصلیٹ قائم کرنے کی ضرورت پیش آئی ہے ان کی آڑ میں ''را'' کام کر رہی ہے اور افغان حکومت اس صورتحال سے پوری طرح باخبر ہے حامد کرزئی کے دور میں اضافی قونصلیٹ قائم کرنے کی خصوصی اجازت دی گئی' پاکستان اور افغانستان کے تعلقات اس وقت تک بہتر نہیں ہوسکتے جب تک پاکستان مخالف دہشت گردوں کے خلاف نتیجہ خیز کارروائی نہیں کی جاتی سینیٹر جان مکین کو افغانستان کے ذریعے بھارت کی پاکستان مخالف سرگرمیوں کے تدارک کے لئے اپنا کردار ادا کرنا چاہیے ایسی صورت میں یقینا  پاکستان بھی افغانستان کے دیرپا امن کے لئے اپنا  موثر کردار ادا کرسکے گا۔