Get Adobe Flash player

پانامہ لیکس میں شامل تمام افراد کا احتساب ہونا چاہیے

آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے سندھ اپیکس کمیٹی کے اجلاس سے خطاب کے دوران بہت بامعانی گفتگو کی ہے انہوں نے کہا کہ ملک میں مستحکم امن وامان ، ملکی قوانین پر عمل درآمد اور تیزی کے ساتھ انصاف کی بلا تخصیص فراہمی کے ذریعے ہی ممکن ہے انہوں نے پولیس سمیت قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارکردگی ، کراچی کور اور سندھ رینجرز کی دیگر ایجنسیوں کے ساتھ مشترکہ کاوشوں کو سراہا اور تمام متعلقہ فریقین کو ہدایت کی کہ اپنی کارکردگی اور فیصلہ سازی کے عمل کو مزید بہتر بنایا جائے اور عوامی عہدہ رکھنے والوں کو جوابدہ بنایا جائے۔درحقیقت یہ جوابدہی کا عمل ہے جو ملکوں اور قوموں کو مضبوط اور خوشحال بناتا ہے جوابدہی کے اس عمل کو جدید دور میں احتساب کے نام سے موسوم کیا جاتا ہے لیکن یہ ضروری ہے کہ اس عمل کو بلا تخصیص سرانجام دیا جائے اور یہ اسی وقت ممکن ہے جب قانون و انصاف پر یکساں عمل درآمد کیا جائے اور کسی سے تخصیص نہ کی جائے حضرت علی علیہ السلام کا مشہور قول ہے کہ معاشرے کفر کی بنیاد پر تو قائم رہ سکتے ہیں ظلم کی بنیاد پر قائم نہیں رہ سکتے ظلم معاشروں کو توڑ کر رکھ دیتا ہے تعصبات اور نفرتیں پیدا کرتا ہے کمزور مزید کچلے جاتے ہیں اور انسانی حقوق و انسانیت کا کوئی پرسان حال نہیں ہوتا اس کے برعکس انصاف مظلوموں کی داد رسی کرتا ہے معاشرے کو منظم اور مضبوط بناتا ہے اور اسے ترقی و خوشحالی کی جانب لے جاتا ہے۔ آج جو احتساب ہورہا ہے اس سے کسی کو انکار نہیں جن کا احتساب کیا جارہا ہے انہیں بھی اعتراض نہیں لیکن یہ ضرورت ہے کہ کسی مرحلے پر بھی تعصب اور '' ذاتیات'' کا تاثر پیدا نہ ہو ہمیں یہ کہنے میں کوئی عار نہیں کہ بلا تخصیص احتساب اور انصاف سے جہاں ملک مضبوط ہوتے ہیں وہاں اگر انصاف و احتساب کے نام پر غلط فیصلے کئے جائیں تو انتشار و ابتری پھیلتی ہے اور قومی یکجہتی کو نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہوتا ہے اس لئے انصاف کو بہرصورت یقینی بنایا جائے۔ ہم سمجھتے ہیں پانامہ لیکس کے حوالے سے احتساب کے عمل کو آگے بڑھایا جائے اگرچہ سپریم کورٹ کی موجودہ کارروائی وزیر اعظم اور ان کے خاندان کے بعض افراد کے خلاف دائر کی جانے والی درخواست کا نتیجہ ہے لیکن یہ ضروری ہے کہ سپریم کورٹ از خود نوٹس لے کر پانامہ لیکس میں جن پاکستانیوں کے نام آئے ہیں ان کے خلاف بلا تخصیص کارروائی کرے فہرست میں ایک جج صاحب کا نام بھی شامل ہے جنہوں نے آف شور کمپنی قائم کی جبکہ دیگر افراد بھی ہیں اگر پانامہ لیکس کے حوالے سے احتساب کا عمل شروع ہوا ہے تو اسے محض شریف فیملی تک محدود نہیں رہنا چاہیے بلکہ آگے بڑھنا چاہیے اگر اسے محض شریف فیملی تک ہی محدود رکھا گیا تو شاید مورخ اسے احتساب کا نام نہ دے سکے ملک و قوم کا مفاد اسی میں ہے کہ سپریم کورٹ اپنے پرائے کی تمیز کئے بغیر پانامہ لیکس میں شامل تمام پاکستانیوں کے خلاف کارروائی کرے یہ نازک اور فیصلہ کن لمحات ہیں انصاف پل صراط عبور کرنے کے مترادف ہے ہمارے نزدیک اسے شخصیات اور سیاسی جماعتوں سے بالا تر ہونا چاہیے اور بلا تخصیص ہونا چاہیے اگر ہم  نے ان نازک لمحات میں درست فیصلے نہ کئے اور انصاف کو یقینی نہ بنایا تو یہ آئین و قانون اور مملکت سے ناانصافی ہوگی مقام شکر ہے کہ آج عدلیہ انتظامیہ سے مکمل طورپر آزاد ہے اور اس کے فیصلے بھی آزادانہ ہیں چنانچہ اسکی یہی خوبی اس سے قوم کی توقعات میں اضافے کا باعث ہے اس لئے اسے قوم کی توقعات پر پورا اترنا ہوگا۔