سندھ حکومت کی طرف سے قومی احتساب آرڈیننس کی منسوخی

سندھ اسمبلی نے قومی احتساب آرڈیننس1999ء کو منسوخ کرنے سے متعلق بل کو منظور کرکے محکموں اور افسروں پر نیب کا اختیار ختم کر دیا اپوزیشن کی طرف سے بل کی شدید مخالفت کی گئی اور یہ موقف اختیار کیا گیا کہ اگر نیب کے قانون میں کوئی مسقم تھا تو اسے دور کرنے کی کوشس ہونی چاہیے تھی اسے ختم کرنے کا جواز نہ تھا وزیر قانون ضیاء الحسن کا کہنا تھا کہ نیب قانون میں بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی کی گئی ہے ہم سندھ میں نیب کی طرز پر صوبائی اینٹی کرپشن ادارہ بنا رہے ہیں اس سلسلے میں مطلوبہ ہوم ورک مکمل کرلیا گیا ہے ہم چاہتے ہیں کہ صوبے میں شفاف اور ایماندارانہ طریقے سے احتساب کے عمل کو یقینی بنایا جائے اس موقع پر ایم کیو ایم کے رکن اسمبلی سردار احمد نے کہا کہ ایسا کوئی بھی قانون نہیں بنایا جاسکتا جو بنیادی حقوق اور فیڈریشن سے متصادم ہو نیب آرڈیننس کرپشن  کے خاتمے کے لئے موثر ثابت ہوسکتا ہے بشرطیکہ اسے ختم کرنے کی بجائے اسے موثر بنایا جائے۔وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے تنسیخی بل کی منظوری کے بعد اپنے پالیسی بیان میں کہا  کہ یہ صوبہ سندھ کا حق ہے کہ وہ آمرانہ دور میں بنائے جانے والے اس قانون کو منسوخ کردے کابینہ نے صوبے میں اینٹی کرپشن قانون کو حتمی شکل دینے کے لئے اعلیٰ اختیاراتی کمیٹی قائم  کر دی ہے جو 30دن کے اندر اپنی سفارشات پیش کرے گی جس کے بعد نیب آرڈیننس سے بہتر قانون سندھ میں لایا جائے گا نیب کا قانون1992ء میں بنایا گیا اس کے بعد 2008ء میں مرکز اور  سندھ میں پیپلزپارٹی کی حکومت قائم ہوئی اگر  آمرانہ دور کے مذکورہ قانون میں اتنی ہی خرابی تھی تو اسے بہتر بنانے کی کوشش کیوں نہیں کی گئی اس کی جگہ احتساب کا بہتر نظام کیوں نہیں لایا گیا اب اچانک سندھ حکومت پر  نیب قانون کی خامیاں عیاں ہوئی ہیں اور اسے یہ بنیادی انسانی حقوق کے خلاف محسوس ہوا ہے ہم سمجھتے ہیں  سندھ حکومت مذکورہ قانون کی منسوخی کا کوئی بھی ٹھوس جواز دینے میں ناکام رہی ہے سندھ میں اہم شخصیات کی کرپشن کو تحفظ دینے کے لئے نیب کے قانون کو منسوخ کیا گیا ہے۔ نیا انٹی کرپشن بل بھی صوبے کی اہم شخصیات کو لوٹ کھسوٹ کی کھلی چھوت دینے کے لئے بنایا جائے گا۔ پیپلزپارٹی جس قسم کے احتساب پر یقین رکھتی ہے اس سے قومی حلقے بخوبی واقف ہیں پرویز مشرف کے نیب قانون کو آمرانہ قانون قرار دینے والی پیپلزپارٹی نے ان ہی کے ساتھ این آر او کے معاملے میں معاہدہ کرکے اپنے  مقدمات واپس کروائے تھے۔ ہم سمجھتے ہیں وفاقی حکومت کے نافذ کردہ قوانین کی صوبوں کی طرف سے اس انداز سے منسوخی درست نہیں ہے اس طرح کوئی بھی صوبہ کسی بھی جواز کے تحت اپنے ہاں وفاقی قانون کے دائرہ کار کو ختم کر سکے گا' سندھ حکومت کی نیب قانون کی منسوخی کے سلسلے میں وفاقی حکومت کے ساتھ مشاورت ضروری تھی۔