قطر نے مطالبات کو غیر حقیقی قرار دے کر مسترد کر دیا

بعض عرب ممالک کی طرف سے قطر کو دئیے جانے والے مطالبات کی ڈیڈ لائن ختم ہوچکی ہے جبکہ دوسری طرف قطر کا موقف ہے کہ تمام تر مطالبات ناقابل عمل ہیں قطر کے وزیر  خارجہ شیخ محمد بن عبدالرحمان الثانی نے اپنے جرمن  ہم منصب کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ سارے مطالبات غیر حقیقی ہیں ان کا کہنا تھا کہ یہ مطالبات دہشت گردی کے حوالے سے نہیں بلکہ ان کے ذریعے ہماری آزاری اطہار اور خودمختاری پر قدغن لگانے کی کوشش کی جارہی ہے انہوں نے کہا کہ ہم نے سرکاری طور پر ان مطالبات کا جواب دے دیا ہے ہم مذاکرات سے مسائل حل کرنا چاہتے ہیں اس موقع پر جرمنی کے وزیر خارجہ نے بھی کہا ہے کہ تمام فریق مل کر اس تنازعے کا حل تلاش کریں۔اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے قطر سے کہا ہے کہ وہ خلیجی ممالک کے ساتھ اختلافات کو خود ہی بات چیت کے ذریعے حل کرے رواں ماہ سلامتی کونسل کے صدر کی حیثیت سے فرائض سرانجام دینے والے چین کے سفیر نے کہا کہ بحران کے خاتمے کا بہترین راستہ یہ ہے کہ تنازعہ کے فریق ممالک آپس میں مکالمے اور مشاورت سے مسئلے کا کوئی حل تلاش کریں اس کے سوا تنازعے کو حل کرنے کا  کوئی متبادل راستہ موجود نہیں ہے۔قطر کے وزیر خارجہ کا ردعمل سو فیصد درست ہے قطر پر انتہا پسندی اور دہشت گردی کے الزامات لگائے جاتے ہیں لیکن اسے جو مطالبات پیش کئے گئے ہیں وہ اس کی آزادانہ خارجہ پالیسی اور خودمختاری پر قدغن کے مترادف ہیں ان میں دہشت گردی کے حوالے سے کوئی بات نہیں ہے مثلاً اس سے یہ مطالبہ کیاگیا ہے کہ ایران کے ساتھ تعلقات میں سرد مہری پیدا کرے اپنے ہاں سے ترکی کا فوجی بیس ختم  کرے' الجزیرہ ٹی وی کو بند کر دے اسی نوعیت کے دیگر مطالبات بھی کئے گئے ہیں اور اقوام متحدہ کے چارٹر کو پیش نظر رکھا جائے تو بہت سے مطالبات قطر کے داخلی امور میں سراسر مداخلت ہیں ہر ملک کی اپنی خارجہ پالیسی ہوتی ہے اور وہ اپنے عوام کے مفاد میں دیگر ممالک سے  تعلقات اور قربتوں کی نوعیت کا فیصلہ کرتا ہے اس سلسلے میں کسی دوسرے ملک کو ڈکٹیشن کا حق نہیں پہنچتا۔ ایران کے ساتھ قطر کے تعلقات کی کیا نوعیت ہو  اس کا فیصلہ قطر کی حکومت اور عوام ہی کر سکتے ہیں کوئی دوسرا نہیں اسی طرح ترکی کو اگر قطر نے فوجی بیس قائم کرنے کی اجازت دے رکھی ہے تو یہ دونوں کے معاہدے کا نتیجہ ہے قطر اپنے دفاع کے سلسلے میں اسے بہتر سمجھتا ہے دیگر ممالک اسے اپنے دفاع کے حق میں فیصلہ کرنے سے کیونکر روک سکتے ہیں۔جہاں تک مذاکرات کی اہمیت کا معاملہ ہے اس سے کوئی انکارنہیں کر سکتا لیکن ہم سمجھتے ہیں خارجہ پالیسی کے  بہت سے امور ایسے  ہیں جن پر بات چیت نہیں ہوسکتی یہ متعلقہ ملک کا ذاتی معاملہ ہے خارجہ پالیسی میں ردوبدل یقینا اسی کی صوابدید ہے اسے دبائو یا مطالبے کے ذریعے تبدیل نہیں کروایا جاسکتا  اگر قطر کے خلاف دہشت گردی کی سرپرستی کے شواہد متعلقہ عرب ممالک کے پاس موجود ہیں تو ان کی روشنی میں اس سے مذاکرات ہوسکتے ہیں اور اسے سرپرستی سے باز رکھا جاسکتا ہے مگر اب تک یہی صورتحال سامنے آئی ہے کہ دہشت گردی کی آڑ میں دبائو ڈال کر اس سے بعض دیگر مطالبات پورے کروانے کی کوششیں کی جارہی ہیں جو سردست کامیاب نہیں ہوسکیں۔