Get Adobe Flash player

بھارت کو تجارتی راہداری مسئلہ کشمیر کے حل سے مشروط

تاجکستان کے دار الحکومت دو شنبے میں چار فریقی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ بھارت مظلوم اور نہتے کشمیریوں پر پیلٹ گننر کا استعمال کررہا ہے ایسے میں ہم اسے تجارتی راہداری کیسے دے سکتے ہیں یہ ممکن نہیں ہے اجلاس کے دوران افغان صدر نے بھارت کو بھی تجارتی راہداری میں شامل کرنے کا مطالبہ کیا تھا وزیر اعظم نواز شریف نے کہا کہ بھارت مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں کررہا ہے کشمیریوں پر پیلٹ گننر کا استعمال ہورہا ہے مسئلہ کشمیر کے حل ہونے تک بھارت کو تجارتی راہداری نہیں دی جاسکتی تاہم انہوں نے افغانستان کو راستہ دے رکھا ہے اس کے سامان کی ترسیل کو نہیں روکا جائے گا اس موقع پر وزیر اعظم نے کہا کہ کاسا 1000منصوبہ پاکستان اور افغانستان کیلئے بے حد اہمیت کا حامل ہے اس سے تاجکستان کو ریونیو حاصل ہوگا منصوبے سے خطے میں تجارت میں اضافے ، سماجی و اقتصادی ترقی ، توانائی کی قلت دور کرنے اور روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنے میں مدد ملے گی یہی نہیں اس سے علاقائی ہم آہنگی کو بھی فروخ ملے گا منصوبے کی تکمیل سے پاکستان اور افغانستان کو تاجکستان اور کرغزستان سے موسم گرما میں بالترتیب ایک ہزار میگا واٹ اور تین سو میگا واٹ بجلی حاصل ہوگی وزیر اعظم نے کاسا پاور پروجیکٹ کو خطے کیلئے اہم قرار دیا انہوں نے کہا کہ اس منصوبے سے نہ صرف کرغزستان اور تاجکستان کو ریونیو ملے گا بلکہ پاکستان اور افغانستان میں بجلی کی قلت میں بھی کمی ہوگی اور ترقی کے امکانات میں اضافہ ہوگا افغانستان کو بھی راہداری کے محصولات ملیں گے وزیر اعظم نے کہا کہ مجھے بتایا گیا کہ کرغزستان سے تاجکستان اور تاجکستان سے افغانستان تک ٹرانسمیشن لائنوں کیلئے ٹینڈر پیش کر دئیے گئے ہیں اب ان کا جائزہ لیا جارہا ہے جلد ہی ٹرانسمیشن لائن پر کام شروع کردیا جائے گا۔ 2.1ارب ڈالر کا کاسا 1000منصوبہ پاکستان اور افغانستان دونوں کیلئے اہم ہے اور یقینا چاروں ملکوں کے درمیان ہم آہنگی کو فروغ دے گا لیکن یہ بھی ایک اٹل حقیقت ہے کہ ملکوں کے درمیان تنازعات نہ ہوں تو وہ ایک ایک دوسرے کی صلاحیت اور کامیابیوں سے استفادہ کرکے اپنے ترقی کے عمل کو تیز کرسکتے ہیں اگر پاکستان اور بھارت کے درمیان کشمیر کا تنازعہ نہ ہوتا تو دونوں ملک تجارت سمیت مختلف شعبوں میں ایک دوسرے کیلئے مفید ثابت ہوسکتے تھے لیکن اس تنازعہ نے نہ صرف دو طرف تعاون کا راستہ روکا بلکہ کشیدگی کا باعث بن گیا بھارت کو سنجیدگی سے اس بارے میں سوچنا اور مسئلہ کشمیر کے حل کیلئے عالمی برادری کی طرف سے مذاکرات کی تجویز کو قبول کرنا چاہیے افغانستان کیلئے بھارت کو تجارتی راہداری دینے کے معاملے میں پاکستان کا انکار اصولوں پر مبنی ہے بھارت ایک طرف نہتے کشمیریوں پر مہلک ہتھیاروں کا استعمال کررہا ہے دوسری طرف ورکنگ بائونڈری اور ایل او سی پر اسکی طرف سے سیز فائر کی مسلسل خلاف ورزی کی جارہی ہے جبکہ جنگ کی دھمکیاں تک دی جارہی ہیں ایسے میں پاکستان اسے افغانستان کیلئے تجارتی راہداری کیسے دے سکتا ہے وزیر اعظم کا یہ موقف پاکستان اور کشمیر کے عوام کی امنگوں کے عین مطابق ہے جس میں کہا گیا ہے کہ مسئلہ کشمیر کے حل تک بھارت کو تجارتی راہداری نہیں دی جاسکتی دونوں ملکوں کے عوام کی ترقی اور خوشحالی تنازعات اور مسائل کی نذر نہیں ہونی چاہیے بلکہ ان مسائل کو حل کرکے ترقی اور خوشحالی کو یقینی بنایا جانا چاہیے۔