Get Adobe Flash player

دہشتگردوں کو مالی وسائل کی فراہمی روکنی ہوگی

 برطانوی تھنک ٹینک کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ برطانیہ میں اسلامی انتہا پسندی پھیلانے کی معاونت میں سعودی عرب سرفہرست ہے نہری جیکسن سوسائٹی نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ اسلامی تنظیموں کے بیرون ملک سے فنڈز لے جانے، نفرت انگیزی پھیلانے والوں اور شدت پسندی کو فروغ دینے والوں کے درمیان بڑھتا ہوا ایک واضح تعلق ملا ہے خارجہ امور سے متعلق اس برطانوی تھنک ٹینک نے مطالبہ کیا ہے کہ سعودی عرب اور دیگر خلیجی ممالک کے کردار کے بارے میں عوامی سطح پر تحقیقات کی جائیں تاہم برطانیہ میں سعودی سفارتخانے نے اس دعوے کو منطقی طور پر غلط قرار دیا ہے وزراء اس رپورٹ جو کہ برطانیہ میں موجود اسلامی شدت پسند گروپ سے متعلق ہے کی اشاعت کے حوالے سے دبائو میں ہیں۔عالمی سطح پر اس وقت سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ دہشتگردوں کو فنڈز کی فراہمی کو کیسے روکا جائے اگرچہ بیشتر ممالک نے اس سلسلے میں نئے قوانین بنائے ہیں اور اپنی خفیہ ایجنسیوں کو بھی فعال کیا ہے لیکن اس کے باوجود کسی نہ کسی طریقے سے دشتگردوں کو فنڈز فراہم کئے جارہے ہیں البتہ یہ امر اطمینان کا باعث ہے کہ فنڈز کی فراہمی میں بڑی حد تک کمی واقع ہوئی ہے۔یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ اسامہ بن لادن کا تعلق سعودی عرب سے تھا اور وہ اس کی ایک بااثر اور امیر شخصیت تھے سعودی عرب سے ان کی روانگی کے بعد بھی کئی برسوں تک انہیں ان کے چاہنے والوں یا احباب کی طرف سے بھرپور مالی معاونت ہوتی رہی دیگر خلیجی ممالک سے بھی خفیہ طور پر انہیں مالی مدد ملتی رہی امریکہ میں اس حوالے سے کئی بار سی آئی اے کی رپورٹیں بھی منظر عام پر آئیں ہم یہ تسلیم نہیں کرسکتے کہ فنڈز کی فراہمی میں سعودی حکومت کا کوئی کردار ہوسکتا ہے بعض شیوخ ذاتی طور پر معاونت کرسکتے ہیں لیکن یہ ضرورت ہے کہ سعودی حکومت اس قسم کے تمام غیر قانونی راستے بند کرنے کیلئے اقدامات کرے سخت قانون بنائے جائیں اور ان کا سختی سے نفاذ کیا جائے تو اس مسئلے پر قابو پایا جاسکتا ہے۔بعض دیگر خلیجی ممالک سے بھی انفرادی طور پر معاونت کی اطلاعات اکثر سننے میں آتی رہتی ہیں فنڈز کی فراہمی چونکہ بنکوں یا مصدقہ مالیاتی اداروں سے نہیں کی جاتی اس لئے اس بارے تحقیقات کرنا یا معلومات کا حصول انتہائی مشکل کام ہے تاہم متعلقہ ممالک کی حکومتیں اور ان کے ٹیکسوں کی وصولی کے ادارے اگر چاہیں تو سراغ لگانے میں حکومتی اداروں کی مدد کرسکتے ہیں بہرحال اقوام متحدہ سمیت عالمی برادری کواگر دہشتگردی کا مکمل خاتمہ کرنا ہے تو دہشتگرد تنظیموں کو مالی وسائل کی فراہمی کے آگے بند باندھنے ہونگے۔