جے آئی ٹی کے اراکین کو دوحہ جانے میں اعتراض کیوں؟

قطر کے سابق وزیراعظم شہزادے شیخ محمد جاسم نے جے آئی ٹی کے تازہ ترین خط کے جواب میں کہا ہے کہ وہ اب بھی اپنے اس موقف پر قائم ہیں کہ وہ اپنے خط کی تصدیق کرنے کے لئے تیار ہیں جے آئی ٹی اپنے اراکین کے نام اور ملاقات کی تاریخ دے وہ اسے اپنے گھر یا دفتر میں خوش آمدید کہنے کے لئے تیار ہیں انہوں نے جے آئی ٹی کی اس دلیل کو مسترد کر دیا ہے کہ پاکستانی قوانین اور عدالت کا دائرہ اختیار ان پر لاگو ہوتا ہے انہوں نے کہا کہ میں پاکستانی نہیں ہوں اس لئے پاکستانی قوانین اور عدالتوں کے دائرہ اختیار کو تسلیم نہیں کرتا ان کے تابع نہیں ہوں انہوں نے جے آئی ٹی سے کہا ہے کہ وہ دائرہ اختیار کے سوال پر مزید بحث اور تبادلہ خیال نہ کرے ان کا کہنا تھا کہ ان کے جو دو خطوط سپریم کورٹ میں جمع کرائے گئے تھے مخصوص حقائق کی معلومات فراہم کرتے ہیں اس سے طاہر نہیں ہوتا کہ انہوں نے دائرہ اختیار کو تسلیم کرلیا ہے انہوں نے کہا کہ وہ اپنے خطوط اور ان کے موقف پر بدستور قائم ہیں اور ان کی تصدیق پر بھی رضا مند ہیں اور دوحہ میں جے آئی ٹیم کی ملاقات میں ایک بار پھر تصدیق کرنے پر رضا مند ہیں۔قطری شہزادے کے بیان اور موقف میں کوئی تضاد نہیں ہے خرابی  محض یہ ہوئی کہ جے آئی ٹی دوحہ میں ان کے دفتر یا گھر جا کر ان کا بیان حاصل کرنے کی بجائے کبھی انہیں پاکستانی سفارتخانے میں اور کبھی پاکستان  آنے کے لئے کہا اور ان کے وقار کے منافی طرز عمل اختیار کیا اس کا یہ بھی مضحکہ خیز موقف ہے کہ خطوط لکھ کر انہوں نے پاکستانی عدالت اور قانون کے دائرہ اختیار کو تسلیم کرلیا ہے اگر کوئی غیر ملکی رضا کارانہ طور پر ہمارے کسی ادارے کو حقائق فراہم کرتا ہے تو اس کا یہ ہرگز مطلب نہیں کہ اس نے ہمارے قوانین کو تسلیم کرلیا ہے ہمیں تو اس کا شکر گزار ہونا چاہیے کہ اس نے ہمارے اداروں کو حقائق تک پہنچنے میں مدد کی ہے بادی النظر میں یہی محسوس ہوتا ہے کہ جے آئی ٹی نے قطری شہزادے سے ان کے خطوط کی تصدیق حاصل کرنے میں دانستہ لیت و لعل سے کام لیا ہے اور اس کے برعکس ان کے عدم تعاون کا تاثر دینے کی کوشش کی ہے ہم سمجھتے ہیں بار بار ان کی طرف سے اپنے خطوط اور ان کے نفس مضمون کی تائید و تصدیق کے بعد مزید کسی تصدیق کی ضرورت نہیں اس کے باوجود اگر جے آئی ٹی  ضرورت محسوس کرتی ہے تو اسے قطر جانے میں کوئی عار محسوس نہیں کرنی چاہیے اس اہم شہادت کو جو کیس کا مرکزی نکتہ ہے کسی صورت نظرانداز نہیں ہونا چاہیے۔