تاریخی فیصلے کے دوررس اثرات مرتب ہونگے

 ملک کے ممتاز ماہر قانون ایس ایم ظفر نے پانامہ لیکس اور جے آئی ٹی کے حوالے سے قانونی نکات پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا ہے کہ جے آئی ٹی شواہد جمع کرنے کے بعد رپورٹ خصوصی عدالت میں جمع کرائے گی انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ نے جے آئی ٹی کو شواہد جمع کرنے کا کام دیا تھا لہٰذا اسے اس سے تجاوز نہ کرنا ہوگا جے آئی ٹی کسی معاملے میں اپنی رائے دینے کی مجاز نہیں ہے کیونکہ یہ اس کے دائرہ اختیار سے باہر ہے اسکی رائے کیس میں شامل لوگوں پر اثر انداز ہوسکتی ہے ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ چونکہ سپریم کورٹ کے پانچ رکنی بنچ کے دو جج صاحبان پہلے ہی وزیر اعظم نواز شریف کو نااہل قرار دے چکے ہیں لہٰذا ممکن ہے کہ وہ مزید عدالتی کارروائی کا حصہ نہیں ہوں گے اور باقی تین جج صاحبان جے آئی ٹی رپورٹ پر مزید کارروائی کرینگے انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ جے آئی ٹی کی جانب سے پیش کی جانے والی رپورٹ کی کاپیاں درخواست دہندگان اور جواب دہندگان کو پیش کرکے انہیں اپنے دلائل اور اعتراضات کیلئے مدعو کرے گی اس کیس میں شامل افراد کے دلائل سننے کے بعد وزیر اعظم نواز شریف کی نااہلی کی صورت میں عدالت اس کیس کا حتمی فیصلہ دے سکتی ہے یا پھر عدالت عظمےٰ وزیر اعظم کو کیس سے الگ بھی کرسکتی ہے یا پھر عدالت اس کیس کے ریفرنس کو احتساب عدالت جیسے مناسب فورم پر بھیج سکتی ہے جے آئی ٹی کے شواہد کے مطابق اگر وزیر اعظم نواز شریف ایماندار نہیں پائے گئے تو سپریم کورٹ انہیں نااہل قرار دے سکتی ہے یا پھر اس معاملے کو الیکشن کمیشن کے سپرد کرسکتی ہے ایس ایم ظفر کے مطابق جواب دہندگان کی طرف سے درخواست کی صورت میں چیف جسٹس نئے لارجر بنچ کی تشکیل بھی کرسکتے ہیں جو جے آئی ٹی کی روشنی میں کارروائی کو آگے بڑھائے گا۔ یہ امر خوش آئند ہے کہ ملک میں اس وقت عدلیہ انتظامیہ کے تابع نہیں ہے وہ آزادانہ طور پر آئین ، قانون کی روشنی میں فیصلے کررہی ہے عدلیہ کے خود مختاری کے معاملات پر انتظامیہ اثر انداز ہونے کی پوزیشن میں نہیں ہے ہم سمجھتے ہیں ان حالات میں جب عدلیہ آزاد اور خود مختار ہو اس پر انصاف کے معاملے میں بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے اس کے فیصلوں سے اگرچہ دوسروں کو فائدہ یا نقصان ہوتا ہے لیکن نیک نامی یا بدنامی اسی کے حصے میں آتی ہے اس لئے عدلیہ کو آئین و قانون کے تحت ، انصاف فراہم کرتے ہوئے اس امر کو ہرگز اپنے پیش نظر نہیں رکھنا چاہیے کہ کون اس کے فیصلوں سے اور کیسے متاثر ہوتا ہے تاریخ میں وہی فیصلے زندہ رہتے ہیں جو انصاف کا پرچم بلند رکھتے ہیں جن فیصلوں میں انصاف کا پرچم سرنگوں ہوتا ہے قوموں اور تاریخ کے نزدیک ان کی کوئی اہمیت نہیں ہوتی پاکستان کی عدلیہ کے سامنے یہ ایک بڑا کیس ہے جس میں وزیر اعظم اور ان کے پورے خاندان سے تحقیقات کی گئی ہے جبکہ ان کا یہ دعویٰ ہے کہ اس سے قبل فوجی آمر پرویز مشرف کے دور میں ان کا احتساب کیا گیا لیکن ان کے خلاف کسی قسم کی بدعنوانی ثابت نہ کی جاسکی یہ بھی ریکارڈ کی بات ہے کہ وزیر اعظم افسروں کی اس جے آئی ٹی میں خوش پیش ہوئے جسے عدالت عظمےٰ نے تشکیل دیا تھا ان کی یہ پیشی سپریم کورٹ پر ان کے اعتماد اور اس کے احترام کی مظہر ہے انہوں نے استثنےٰ کے حق کو استعمال کرنے کی بجائے پیش ہوکر ہر سوال کا جواب دیا ہے قومی تاریخ میں کئی حوالوں سے یہ کیس مختلف اور منفرد ہے اس کے فیصلے کا ملک کے اندر اور ملک سے باہر ہر جگہ انتظار ہورہا ہے یقیناً اس کے دورس اثرات مرتب ہونگے۔