Get Adobe Flash player

حکومت کی طرف سے آئینی و قانونی آپشن استعمال کرنے کا فیصلہ

اطلاعات کے مطابق وزیر اعظم نواز شریف کی صدارت میں پاکستان مسلم لیگ (ن) کے مشاورتی اجلاس میں یہ فیصلہ کیا گیا ہے کہ سیاسی مخالفین کا سیاسی میدان میں بھرپور مقابلہ کیا جائے گاور ان کے لئے میدان خالی نہیں چھوڑا جائے گا ضرورت پڑنے پر سپریم کورٹ سے نظر ثانی کا آپشن بھی استعمال کیا جاسکتا ہے یہ بھی طے پایا کہ جمہوری نظام کے استحکام کیلئے اپوزیشن جماعتوں سے رابطے کئے جائیں گے اجلاس میں طے پایا کہ پانامہ لیکس پر جے آئی ٹی کی رپورٹ آنے کے بعد ضرورت پڑی تو تمام آئینی وقانونی آپشن استعمال کئے جائینگے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم نواز شریف نے کہا کہ ہم احتساب سے خوفزدہ نہیں ہیں لیکن صحیح معانوں میں احتساب ہونا چاہیے ہمارے ہاتھ صاف ہیں ہم نے سرکاری خزانے کی ایک پائی کا غلط استعمال نہیں کیا انہوں نے کہا کہ پاکستان کی ترقی کا راستہ روکنے والی سیاسی قوتوں کا پوری قوت سے مقابلہ کیا جائے گا آئندہ انتخابات میں عوام کارکردگی کی بنیاد پر سیاسی جماعتوں کو ووٹ دینگے مسلم لیگ (ن) کو ہی اسکی کارکردگی کی بناء پر کامیاب کرینگے انہوں نے کہا کہ چند عناصر مسلسل ہماری حکومت کے خلاف سازشیں کررہے ہیں اور ہمیں ترقی کے راستے سے ہٹانے کی کوشش کررہے ہیں مگر ہم عوام سے کئے گئے وعدوں کی تکمیل کرینگے۔ برسر اقتدار مسلم لیگ(ن) کا یہ فیصلہ قابل تحسین ہے جس کے تحت اس نے آئینی و قانون جنل کا عزم واضح کیا ہے ہم یہ سمجھتے ہیں کہ تمام سیاسی جماعتوں کو ہر معاملے آئین اورقانون کو ہی پیش نظر رکھنا چاہیے اور ملک میں محاذ آرائی اور افراتفری پیدا کرنے سے گریز کرنا چاہیے سپریم کورٹ کا جو  بھی فیصلہ ہو سب کو قبول ہونا چاہیے موقع کی مناسبت سے ہم سپریم کورٹ کے چیف جسٹس سے یہ استدعا کرینگے کہ احتساب کے عمل کو محض شریف فیملی تک محدود نہ رکھا جائے بلکہ پانامہ لیکس میں جن بھی پاکستانیوں کے نام آئے ہیں ازخود نوٹس کے تحت ان سب کے معاملات پر ایکشن ہونا چاہیے اگر اس معاملے کو محض شریف فیملی تک محود رکھا گیا اور وسعت نہ دی گئی تو عدلیہ کے فیصلہ کو شاید وقار اور اہمیت حاصل نہ ہوسکے بلکہ اس پر اعتراضات اٹھتے رہیں گے حکومتی جماعت کا دیگر پارلیمانی جماعتوں سے رابطے مستحکم کرنے کا فیصلہ بھی اہم ہے جماعتوں کی باہمی رابطے انتشار کی سیاست کی حوصلہ شکنی کا باعث ہوتے ہیں۔