جے آئی ٹی کی رپورٹ پر حکومت کے اعتراضات اور اس کا احتجاج

برسراقتدار مسلم لیگ (ن) کی طرف سے دو ٹوک انداز میں یہ موقف سامنے آیا ہے کہ قطری شہزادے کے بیان کی عدم موجودگی میں جے آئی ٹی کو تسلیم نہیں کیا جائے گا چار وفاقی وزراء نے کہا ہے کہ ایسے حالات پیدا ہوگئے ہیں کہ انصاف ہوتا نظر نہیں آرہا یہ سوال بھی اٹھایا گیا کہ جے آئی ٹی کو کس قانون کے تحت فون ٹیپ کرنے کی اجازت دی گئی حکومتی جماعت نے حساس اداروں کی شمولیت پر بھی اعتراض کیا اور مطالبہ کیا کہ جے آئی ٹی کی تمام آڈیو ویڈیو ریکارڈنگ کو عوام  کے لئے ریلیز کیا جائے وفاقی وزراء نے کہا کہ ایک اخباری خبر میں کہا گیا کہ جے آئی ٹی کا کنٹرول حساس ادارے کے سپرد ہے اس اطلاع کی تردید نہیں کی گئی اگر اس بارے میں عدالت نے حکم دیا ہے  تو ہمیں بتایا جائے انہوں نے کہا کہ فاضل جج صاحبان کے ریمارکس کو سیاسی مخالفین ہمارے خلاف پیش کر رہے ہیں یہ الزام بھی لگایا گیا کہ جے آئی ٹی میں لوگوں پر بیان بدلنے کے لئے دبائو ڈالا گیا طارق شفیع کے وزیراعظم  ہائوس  جانے پر  بھی اعتراضات سامنے آئے انہوں نے  جے آئی ٹی کے ایک رکن عامر عزیز پر بھی اعتراضات کئے اور کہا کہ مشرف دور میں انہیں شریف فیملی کے پیچھے لگایا گیا تھا حکومتی رہنمائوں نے کہا کہ گاڈ مافیا کے دور میں عدالتیں لگتی ہیں نہ حکمرانوں کے بچے جے آئی ٹی کا سامنا کرتے ہیں ہم قانون کی حکمرانی پر یقین رکھتے ہیں قطری شہزادے کے بیان کی ریکارڈ کا حصہ نہ بنانا ناانصافی ہوگی۔حکومت کی طرف سے جو اعتراضات اٹھائے گئے ہیں جے آئی ٹی کی طرف سے ان پر صورتحال واضح ہونی چاہیے حکومت کی حیثیت چونکہ مدعاعلیہ اور جواب دہندہ کی ہے اس لئے یہ ضروری ہے کہ اس کے تحفظات دور کئے جائیں جہاں کہیں کوئی غلط فہمی ہے اسے بھی دور کیا جانا چاہیے' جے آئی ٹی پر حساس اداروں کے کنٹرول یا اس کی معاونت کے معاملے میں بھی حقائق سامنے آنے چاہئیں قطری شہزادے کا خط حکومتی موقف کی تائید میں سامنے آیا ہے اس لئے یہ ضروری تھا کہ ان کے موقف اور ان سے ملاقات کو اولیت اور اہمیت دی جاتی مگر ساٹھ دنوں کے دوران محض خط و کتابت پر  وقت ضائع کیا گیا اور ان کا بیان لینے کی کوئی سنجیدہ کوشش نہ کی گئی یہ جانتے ہوئے بھی کہ وہ پاکستان کے قوانین کے پابند نہیں ہیں انہیں کہا گیا کہ وہ قطر کے پاکستانی سفارتخانے میں آکر بیان ریکارڈ کرائیں اس قسم کا رویہ وقت گزاری کے سوا کچھ نہیں ہوسکتا حکومتی موقف کے حق میں اس اہم شہادت کو نظرانداز کرکے اناصف کے تقاضے پورے نہیں کئے جاسکتے' اس لئے عدالت عظمیٰ کے بنچ کو اس طرف توجہ دینی ہوگی سپریم کورٹ کو یہ پیش نظر نہیں رکھنا کہ جے آئی ٹی اس کی تشکیل کردہ ہے بلکہ اسے اس امر کا جائزہ لینا ہے کہ اس نے کہا کہاں غلطیاں کیں اور جانبداری کا مظاہرہ کیا ہے یہ امر قابل ذکر ہے کہ اس سے قبل ہر پندرہ دنوں کے بعد جے آئی ٹی اپنی رپورٹ سپریم کورٹ کو پیش کرتی رہی ہے اس نے قبل ازیں تین رپورٹیں پیش کیں آخری رپورٹ 10جولائی کو پیش کی گئی۔فیصلہ سپریم کورٹ نے کرنا ہے مشترکہ تحقیقاتی ٹیم نے محض مختلف شخصیات سے سوالات کے ذریعے حقائق تک پہنچنے کی کوشش کی یا ان سے حاصل کردہ دستاویزات کو رپورٹ کا حصہ بنایا ہے اب سپریم کورٹ کو اس رپورٹ کی روشنی میں آگے بڑھنا ہے قانونی ماہرین کے مطابق درخواست دہندگان اور جواب دہندگان کو  رپورٹ کی کاپی فراہم کی جائے گی اور ان کے وکلاء رپورٹ کے مندرجات اور ان کی قانونی جہت کا جائزہ لیں گے حکومتی حلقوں کا موقف ہے کہ قطری شہزادے کی اہم شہادت کو جے آئی ٹی نے خوفزدہ کرنے کی کوشش کی حسین نواز کی فوٹو لیک ہونے کے بعد قطر کے سابق وزیراعظم اور شاہی خاندان کے اہم رکن کو خدشات تھے کہ ان کی تصویر لیک کرکے ان کے وقار کو بھی نقصان پہنچایا جاسکتا ہے قطری شہزادے کو خط کے ذریعے یہ غلط تاثر دیا گیا کہ خط لکھ کر وہ پاکستان کے قانون اور سپریم کورٹ کے دائرہ کار کو پہلے ہی تسلیم کر چکے ہیں جس کے بعد انہیں پھر سے یہ کہنا پڑا کہ وہ پاکستان کے شہری ہیں نہ اس کے قوانین کے پابند ہیں درحقیقت اگر کوئی غیر ملکی شہری رضاکارانہ طور پر بعض معلومات فراہم کرتا ہے تو اس کا یہ مطلب نہیں ہوتا کہ  اس نے پاکستانی قوانین کو قبول کرلیا ہے اس سلسلے میں جے آئی ٹی نے قطری شہزادے کے نام اپنے خط میں جو موقف اختیار کیا وہ سراسر غلط تھا پاکستانی شہریت حاصل کرنے کے بعد ہی کوئی غیر ملکی پاکستان کے آئین و قانون کا پابند ہوتا ہے یا پاکستان میں قیام کے دوران اس پر پاکستان کے قوانین کی پابندی لازم ہوتی ہے اس قسم کی غلطیاں وکلاء کی بحث کے ذریعے ہی سامنے آئیں گی ہرحال پاکستان کی یہ واحد جے آئی ٹی ہے جس کے روبرو وزیراعظم سمیت حکومتی شخصیات اور ان کے خاندان کے افراد پیش ہوئے ہیں اب بال عدلیہ کی کورٹ میں ہے اس کے انصاف پر سب کی نظریں لگی ہیں۔