Get Adobe Flash player

افغان صدر کی افغان طالبان کو دھمکیاں

افغان صدر ڈاکٹر اشرف غنی نے ایک بار پھر طالبان کو امن عمل میں شامل ہونے کی دعوت دی ہے لیکن ساتھ ہی خبردار بھی کیا ہے کہ اگر گروپ نے تشدد کا راستہ نہ چھوڑا تو اسے عالمی دہشت گرد قرار دیا جائے گا ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ طالبان کو سمجھنا چاہیے کہ وقت ان کا انتظار نہیں کر رہا طالبان دل و جان سے امن عمل کو قبول کریں یا پھر وہ عالمی سطح پر دہشت گرد نامزد ہونے اور دہشت گردوں کی بین الاقوامی فہرست میں شامل ہونے کے لئے تیار ہو جائیں۔افغان صدر جس انداز سے افغان طالبان کو امن عمل میں شریک کرنے  کے خواہاں ہیں یہ طریقہ کار درست نہیں ہے طالبان کو وہ دھمکیاں دے کر مذاکرات کی میز پر نہیں لاسکتے اگر ان کی پوزیشن مضبوط ہوتی اور وہ طالبان پر حاوی ہوتے تو ان کی دھمکی کسی حد تک درست قرار دی جاسکتی تھی مگر حالات تو یہ ہیں کہ افغانستان کے متعدد علاقوں میں افغان حکومت کی رٹ نہیں ہے یہاں تک کہ دارالحکومت کابل بھی محفوظ نہیں ہے ایسے میں افغان صدر کا دھمکی آمیز لہجہ مضحکہ خیز محسوس ہوتا ہے۔ افغانستان میں قیام امن کے لئے چین' پاکستان' افغانستان اور امریکہ کی طرف سے مشترکہ کوششوں کا فیصلہ کیا گیا ہے اس سلسلے میں چین امریکہ سے زیادہ سنجیدہ محسوس ہتا ہے اس کی یہ خواہش ہے کہ افغانستان میں جلد از جلد امن قائم ہو اس کے ون بیلٹ ون روڈ کے وژن کا یہ تقاضا ہے کہ  خطے میں امن و استحکام ہو تاکہ تمام ممالک ایک دوسرے کی کامیابیوں سے استفادہ کریں اور اپنے اپنے عوام کے لئے خوشحالی کو یقینی بنائیں جبکہ پاکستان کا یہ واضح موقف ہے کہ افغانستان کا امن اور اس کا استحکام ا کی ترقی اور خوشحالی کے لئے ضروری ہے اس پس منظر میں افغان صدر اشرف غنی کی طرف سے افغان  طالبان کو دھمکیاں انہیں مشتعل کرنے اور امن کوششوں کو سبوتاژ کرنے کے مترادف ہیں حزب اسلامی کے سربراہ گلبدین حکمت یار کی کابل میں موجوگی کا یہ تقاضا ہے کہ طالبان سے رابطوں کے لئے  ان کی خدمات سے استفادہ کیا جائے طالبان کے حلقوں میں ان کے اثرورسوخ کی موجودگی سے انکار نہیں کیا جاسکتا۔