کراچی کے ضمنی الیکشن میں پیپلزپارٹی کی کامیابی

کراچی میں پی ایس 114پر ہونے والے ضمنی الیکشن میں پاکستان پیپلزپارٹی نے نمایاں کامیابی حاصل کی ہے اس کے امیدوار سعید غنی نے 23ہزار 840ووٹ حاصل کئے جبکہ ایم کیو ایم کے کامران ٹیسوری نے 18ہزار106ووٹ حاصل کرکے دوسری پوزیشن حاصل کی مسلم لیگ (ن) یہاں تیسرے اور تحریک انصاف چوتھے نمبر پر رہی جبکہ ایم کیو ایم لندن نے ضمنی الیکشن کا بائیکاٹ کیا تھا مجموعی طور پر پولنگ کی شرح 32 فیصد رہی۔ یہ امر قابل ذکر ہے کہ ماضی میں 1988ء سے 2013ء کے عام انتخابات تک پیپلزپارٹی نے اس حلقے سے کبھی کامیابی حاصل نہیں کی۔ ماضی میں اس حلقے سے پیپلزپارٹی  کے امیدواروں نے کبھی بھی ساڑھے تین ہزار سے زائد ووٹ حاصل نہیں کئے جبکہ اس بار 23ہزار840ووٹ حاصل کئے اگرچہ پیپلزپارٹی کے بعض مخالفین اس کامیابی کے پیچھے حکومتی سپورٹ بھی قرار دیتے ہیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ کسی بھی حلقے میں کسی امیدوار کی کامیابی کو محض اس کی پارٹی کی مقبولیت نہیں قرار دیا جاسکتا اس کے بعض دیگر عوامل   بھی ہوتے ہیں جن میں مدمقابل امیدوار کی کمزوری بھی اہم ہوتی ہے ایم کیو ایم کی تقسیم  نے بھی پیپلزپارٹی کے امیدوار کی کامیابی میںاہم کردار ادا کیا اگر ایم کیو ایم متحد ہوتی تو کامران ٹیسوری کے ووٹوں کی تعداد بہت زیادہ بڑھ سکتی تھی بہرحال پیپلزپارٹی نے کراچی میں نئی صورتحال سے فائدہ ضرور اٹھایا ہے تحریک انصاف کی حالت یہاں بہت پتلی تھی اس کا امیدوار چوتھے نمبر پر رہا جبکہ جماعت اسلامی کے امیدوار کو حاصل کردہ ووٹوں کی تعداد تین ہزار سے بھی کم تھی جو ملک بھر میں اس کی گرتی  مقبولیت کی تائید کرتی ہے۔ کراچی کے مذکورہ ضمنی الیکشن میں بعض علاقوں میں جو ہنگامہ آرائی ہوئی وہ افسوسناک ہے سیاسی جماعتوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے کارکنوں کی جمہوری تربیت کریں اب میڈیا کا دور ہے ہنگامہ آرائی اور دھاندلی کے زمانے گئے جو کوئی ذرا سی  بھی غیر قانونی حرکت یا انتخابی دھاندلی کا ارتکاب کرتا ہے کیمرے کی آنکھ میں محفوظ ہو جاتا ہے اور اسے اس کا حساب  دینا پڑتا ہے اس لئے سیاسی جماعتوں اور کارکنوں کو فرسودہ انداز سیاست کو ترک کرنا ہوگا اور صاف ستھری سیاست کو پروان چڑھانے کے لئے اپنا اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔