جے آئی ٹی عدالت ہے نہ اس نے کسی استعفیٰ کی بات کی

جے آئی ٹی کی رپورٹ میںسفارش کی گئی ہے کہ وزیراعظم ان کے دو بیٹوں حسین نواز' حسن نواز اور صاحبزادی مریم نواز کے خلاف نیب میں ریفرنس بھیجا  جائے جبکہ سپریم کورٹ کے حکم کے تحت جے آئی ٹی کی رپورٹ کی کاپیاں متعلقہ فریقوں کو فراہم کی گئی ہیں اور انہیں پیر 17جولائی کو سماعت کے موقع پر رپورٹ کے حوالے سے اپنے تحفطات پیش کرنے کے لئے کہا گیا مگر دوسری طرف حکومت کی مخالف سیاسی جماعتوں کی طرف سے وزیراعظم سے استعفےٰ کا مطالبہ کیا جارہا ہے تحریک انصاف نے تو وزیراعظم کے ساتھ وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف اور وزیر خزانہ اسحاق ڈار کے استعفےٰ  کا  بھی مطالبہ کر دیا ہے پیپلزپارٹی کے سربراہ بلاول زرداری اور جماعت اسلامی کے امیر سراج الحق بھی استعفےٰ کے مطالبے میں پیش پیش ہیں جبکہ اے این پی کے سربراہ اسفند یار ولی کا موقف ہے کہ جے آئی ٹی عدلیہ نہیں ہے اس نے سپریم کورٹ کے حکم کے تحت تحقیقاتی رپورٹ مرتب کی ہے اس رپورٹ کی صورتحال کیا ہے سپریم کورٹ اس کا جائزہ لے گی اس کے بعد عدالت عظمیٰ جو فیصلہ کرے گی وہ سب کے لئے قابل قبول ہونا چاہیے۔اسفند یار ولی نے درست موقف اختیار کیا استعفےٰ کا مطالبہ کرنے والوں کو اتنی جلدی اور بے چینی کس بات کی ہے وہ سپریم کورٹ کے فیصلے کا انتظار کیوں نہیں کرتے آئین و قانون کے تحت جب تک وزیراعظم کے خلاف عدالت کا فیصلہ نہیں آجاتا ان کی آئینی و قانونی حیثیت برقرار رہے گی اور وہ ملک کے وزیراعظم کی حیثیت سے کام کرنے کے مجاز رہیں گے۔ اگر سیاسی صورتحال اور اس کے پس منظر کا جائزہ لیا جائے تو اپوزیشن کی طرف سے وزیراعظم کے استعفےٰ کے مطالبے کی کوئی قانونی حیثیت نہیں ہے یہ محض سیاسی مطالبہ ہے یہ پانامہ لیکس سے بھی پہلے سے موجود ہے 2014ء کے دھرنوں کے دوران بھی عمران خان کی پارٹی کی طرف سے وزیراعظم کے استعفےٰ کا مطالبہ کیا گیا تھا نفاذ اسلام کی دعویدار اور صوبے میں ان کی شریک اقتدار جماعت اسلامی بھی ان کی آواز کے ساتھ آواز ملا رہی تھی اپوزیشن کا یہ مطالبہ نیا نہیں یہ بہت پرانا ہے جب تک سپریم کورٹ وزیراعظم کے خلاف فیصلہ نہیں دیتی ان کے عوامی مینڈیٹ اور ان کی آئینی حیثیت کو کسی قسم کا خطرہ نہیں یہ سوال بے حد اہم ہے کہ آئین و قانون کی بالادستی کی بات کرنے والے کس قانون کے تحت وزیراعظم سے استعفےٰ کا مطالبہ کر رہے ہیں دراصل جے آئی ٹی اگرچہ حکومت کے نزدیک متنازعہ ہے مگر اپوزیشن بھی اس لئے اس سے مطمئن نہیں کہ اس کی طرف سے تحقیقات کی روشنی میں محض نیب کو ریفرنس بھیجنے کی بات کی گئی ہے جبکہ وہ تو اس سے حکومت کو گھر بھیجنے کی توقع لگائے بیٹھی تھی۔ادھر وزیراعظم نواز شریف نے مشاورتی اجلاس کے بعد فیصلہ کیا ہے کہ وہ مستعفیٰ نہیں ہوں گے اور سپریم  کورٹ میں جے آئی ٹی کے تضادات اور جھوٹ کو چیلنج کریں گے یقینا  وزیراعظم کا یہ آئینی حق ہے اور سپریم کورٹ نے بھی جے آئی ٹی کی رپورٹ کی کاپیاں فریقین کو فراہم کرنے کے  حکم کے ساتھ اس کو تسلیم کیا ہے کہ اس کی روشنی میں وہ رپورٹ کے خلاف اپنے تحفظات پیش کر سکتے ہیں۔ ملک اور قوم کے مفاد کا یہ تقاضا ہے کہ جس طرح آئین و قانون کے تحت اس سے قبل معاملات چلتے رہے ہیں اسی طرح انہیں آئندہ بھی چلنے دیا جائے اور وزیراعظم کے استعفےٰ کے نام پر ہنگامہ آرائی کی سیاست سے اجتناب کیا جائے اگر اپوزیشن لوگوں کو سڑکوں پر لائی تو جوابی طور پر حکومتی پارٹی اور اس کے اتحادی بھی لوگوں کو سڑکوں پر لائیں گے اس طرح انتشار اور محاذ آرائی بڑھے گی کسی کو بھی اپنی خواہش اور فیصلہ عدلیہ پر مسلط کرنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی عدلیہ کے فیصلے کو ہی بالادستی حاصل ہوگی وہ کسی کو پسند ہو یا ناپسند سب کے لئے قابل قبول ہوگا اور قابل قبول ہونا چاہیے۔ اگر حکومت اور اپوزیشن  دونوں نے ساٹھ دنوں تک جے آئی ٹی کی رپورٹ کا انتظار کیا ہے تو مزید چند دنوں تک سپریم کورٹ کے فیصلے کا انتظار بھی کرلینا چاہیے۔