Get Adobe Flash player

کشمیر و فلسطین کے مسائل کی وجہ مسلم دنیا کا باہمی انتشار

اسلامی تعاون تنظیم کے وزرائے خارجہ کے 44ویں اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے مشیر خارجہ سرتاج عزیز نے کشمیر و فلسطین کے مسائل کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ان مسائل کے حل تک امن قائم نہیں ہوگا انہوں نے کہا کہ پاکستان نے امت مسلمہ کے امن و ترقی اور خوشحالی کے لئے کام کرنے کا عزم کر رکھا ہے ان کا کہنا تھا کہ عالمی برادری کشمیر و فلسطین کے دیرینہ مسائل کو حل کرنے میں ناکام رہی تو امن اور ترقی کا خواب شرمندہ تعبیر ممکن نہیں مشیر خارجہ نے کہا کہ امت مسلمہ کو دوستانہ تعلقات اور باہمی تعاون کو مضبوط بنانے کے لئے اپنی کوششوں کو بڑھانا ہوگا تاکہ امن' یکجہتی اور ترقی کو یقینی بنایا جاسکے۔ مشیر خارجہ نے درست سمت اشارہ کیا ہے بنیادی بات مسلم ممالک کے درمیان دوستانہ تعلقات اور باہمی تعاون کو مضبوط بنانے کی ہے یہ المیہ نہیں تو اور کیا ہے کہ دنیا میں جو دو بڑے مسئلے حل طلب ہیں ان کا تعلق امت مسلمہ سے ہے کشمیر و فلسطین میںدونوں طرف مسلمان مارے جارہے ہیں اور ہنود و یہود نے ان کے علاقوں پر نہ صرف غاصبانہ قبضہ جما رکھا ہے بلکہ ان پر مظالم بھی ڈھا رہے ہیں' ہماری دانست میں اس کی وجہ امت مسلمہ میں یکجہتی کا فقدان ہے مسلمان ممالک وسائل سے مالا مال ہیں جو غیر مسلم دنیا کے لئے تجارتی منڈی کی حیثیت رکھتے ہیں اور ان کے وسائل سے استفادہ کرتے ہیں اگر اسلامی کانفرنس تنظیم کے پلیٹ فارم سے  تمام اسلامی برادری بھارت اور اسرائیل کا سماجی و معاشی بائیکاٹ کریں تو کوئی وجہ نہیں کہ دونوں خطوں میں غاصب قوتیں مسائل حل کرنے پر آمادہ نہ ہوں اس قسم کے اقدام سے امریکہ سمیت مغربی دنیا بھی ان دونوں تنازعات کے حل کے سلسلے میں سنجیدگی اختیار کرے گی مگر بدقسمتی سے مسلم دنیا گروہوں میں بٹی ہوئی ہے اور اس کے دشمن اس صورتحال سے فائدہ اٹھا رہے ہیں ہم سمجھتے ہیں  اگر اسلامی تعاون تنظیم کے پلیٹ فارم سے سماجی و معاشی بائیکاٹ کے سلسلے میں محض مشترکہ دھمکی اور الٹی میٹم بھی دے دیا جائے تو اس کے زبردست اثرات مرتب ہوں گے کاش مسلم ممالک اپنے گروہی اور دیگر اختلافات کو بھلا کر ایک ہو جائیں ان کی اپنی سلامتی بھی ان کی یکجہتی سے ہی ممکن ہے انہیں معلوم ہونا چاہیے کہ ان کے دشمن ہی ان میں انتشار کا باعث ہیں اور باہمی اختلافات و انتشار سے وہ اپنے دشمنوں کے ہاتھ مضبوط کر رہے ہیں۔