Get Adobe Flash player

ایران کی حکومت اور جمہوریت امریکہ کیلئے ناقابل قبول کیوں؟

امریکی وزیر دفاع جمس بیٹس نے ایک غیر ملکی نیوز ایجنسی سے بات چیت میں کہا ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان تعلقات کی بہتری سے قبل تہران میں نظام کی تبدیلی عمل میں آنی چاہیے انہوں نے یہ انکشاف بھی کیا کہ ایران پاکستان اور امریکہ میں سفیروں کو قتل کرنے کیلئے ایجنٹوں کو بھیج رہا ہے ان کا کہنا تھا کہ تہران اور امریکہ کے درمیان تعلقات بہتر ہوسکتے ہیں مگر ایسا صرف ایران میں نظام کی تبدیلی کے راستے سے ہوگا امریکی وزیر دفاع کے مطابق ایران نے گزشتہ برسوں کے دوران موثیوں کو بیلسٹک میزائل فراہم کئے انہوں نے کہا کہ ایران میں رشد اعلےٰ علی خمنیائی یہ فیصلہ کرتے ہیں کہ انتخابات میں کون حصہ لے گا یہ کوئی جمہوریت نہیں ہے انہوں نے کہا کہ جب وہ امریکی مرکزی کمان کے کمانڈر تھے اس وقت بھی ایران اور اس کا نظام ان کو درپیش سب سے بڑا مسئلہ تھا۔ ہم سمجھتے ہیں ایران کی جمہوریت میں متعدد نقائص دریافت کئے جاسکتے ہیں لیکن بہر صورت اس کا موازنہ امریکہ یا برطانیہ کی جمہوریت سے نہیں کیا جاسکتا اور یہ موازنہ ہونا بھی نہیں چاہیے جس ملک میں برسا برس ایک مضبوط بادشاہت رہی ہے اس میں ایک مثالی جمہوریت کی تلاش ہرگز دانمشندی نہیں امریکہ نے ماضی میں کبھی ایران کی بادشاہت اور آمریت پر تو اعتراض نہیں کیا تھا اس لئے کہ یہ بادشاہت اس کے مفادات پورے کررہی تھی گویا امریکہ کو جمہوریت سے نہیں اپنے مخصوص مفادات سے سروکار ہے مغربی دنیا کو اس حوالے سے ایران کی تحسین کرنی چاہیے کہ بادشاہت کے خالمہ کے بعد اسلامی حکومت کے قائدین نے جمہوری نظام قئم کیا ایک ہی دھماکے میں پارلیمنٹ کی بلڈنگ کے زمین بوس ہونے سے وزیر اعظم سمیت درجنوں پارلیمنٹیر ین شہید ہوگئے مگر حکومت نے دہشتگردی کی آڑ میں انتخابات کو ملتوی کرنے کی کوشش نہیں کی بلکہ جمہوری تسلسل کو جاری رکھا۔ یہ درست ہے کہ ایران کے روحانی قائد سید علی خامنہ ای کی منظوری سے ان کی پارٹی کے امیدواروں کا فیصلہ ہوتا ہے لیکن یہ کوئی نئی بات نہیں ہے ہر سیاسی جماعت قائد اور اس کا پارلیمانی بورڈ امیدواروں کے بارے میں فیصلے کرتا ہے ایران میں حکومت اور اپوزیشن کے امیدواروں میں سخت مقابلہ ہوتا ہے اور اسمبلی میں ایک مضبوط اپوزیشن بھی موجود ہوتی ہے  اس لئے یہ تاثر درست نہیں کہ وہاں محض ایک پارٹی ہی کی حکومت ہوتی ہے اور انتخابات عمل برائے نام ہوتا ہے۔ لیکن اس موقع پر امریکی جمہوریت کے علمبرداروں سے یہ سوال ضرور کیا جاسکتا ہے کہ جمہوریت کا یہ کون سا اصول ہے کہ دوسرے ملک میں نظام کی تبدیلی کیلئے اعلانیہ یہ کہا جائے کہ اس کی اپوزیشن کی مدد اور حوصلہ افزائی کرکے حکومت اور نظام کی تبدیلی کیلئے کوششیں کی جائیں گی امریکہ کی طرف سے اس نوع کا اعلان اقوام متحدہ کے چارٹر کی نفی ہے امریکہ کو یہ حق کسی نے نہیں دیا کہ وہ نظام کی تبدیلی کی آڑ میں دوسرے ملکوں میں مداخلت کرکے وہاں اپنی تابع فرمان حکومتیں قائم کرے آمریت ہے یا جمہوریت اور جمہوریت میں سقم کیسے دور ہوں گے یہ متعلقہ ملک کے عوام کا مسئلہ ہے امریکہ یا کسی دوسرے ملک کا مسئلہ نہیں ہے اگر ایران میں آج جمہوریت کے باوجود بعض پابندیاں ہیں تو ایرانی حکومت ان کیلئے معقول جواز رکھتی ہے تاہم ان کے خاتمہ کی کوشش کرنا ایرانی عوام کا حق ہے کسی دوسرے ملک کو اسکی اجازت نہیں ہے کہ وہ اسکے داخلی معاملات میں مداخلت کرکے وہاں سرمائے اور دہشتگردی کے ذریعے حکومت تبدیل کرکے اپنے حامیوں کو اقتدار میں لانے کی کوش کرے امریکہ اگر ایران سے تعلقات نہیں رکھنا چاہتا تو یہ اس کی مرضی ہے لیکن تعلقات قائم کرنے کیلئے اپنی مرضی کی حکومت لانے کا حق اسے کسی نے نہیں دیا اس قسم کی کوششیں اقوام متحدہ کے قوانین کے تحت جرم کے زمرے میں آتی ہیں۔