Get Adobe Flash player

قطر کا غیر منصفانہ شرائظ کو تسلیم کرنے سے سلسلے انکار

خلیجی ریاستوں اور قطر کے معاملات مزید کشیدگی کی طرف جارہے ہیں چنانچہ سعودی عرب ، متحدہ عرب امارات ، مصر اور بحرین نے قطر پر پابندیاں جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے ان ممالک نے انسداد دہشتگردی کے تناظر میں قطر اور امریکہ کے مابین طے پانے والے معاہدے کو ناکافی قرار دیا ہے دوھا اور واشنگٹن نے دہشتگردی  کیلئے مالی تعاون کو مل کر روکنے پر اتفاق کیا تھا ایک سعودی نیوز ایجنسی میں شائع ایک بیان کے مطابق یہ اقدام ناکافی ہے بیان میں کہا گیا ہے کہ چاروں عرب ریاستیں قطر کی جانب سے دہشتگردی میں مالی تعاون اور اس کے فروغ کے خلاف دوھا حکومت کے اقدامات کا بے حد سنجیدگی سے جائزہ لے رہی ہیں عرب ریاستوں کے مشترکہ بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ قطری یقین دہانیوں پر بھروسہ نہیں کیا جاسکتا کیونکہ ماضی میں اس نے معاہدوں پر عمل درآمد نہیں کیا مذکورہ ریاستوں نے دوھا کی سخت نگرانی کا مطالبہ کیا تاکہ اسے اس کے حقیقی راستے پر واپس لایا جاسکے بیان کے مطابق جب تک قطر تیرہ شرائط پر وسیع پیمانے پر عمل نہیں کرتا اس کے خلاف پابندیوں کا سلسلہ جاری رہے گا دوسری طرف ترکی کی جانب سے ابک تک ضروری سازوسامان کے 197کارگو جہاز 16ٹرک اور ایک بحری جہاز قطرپہنچ چکے ہیں جن کے باعث اس نے پابندیوں کا احسن طریقے سے مقابلہ کیا ہے۔ یہ امر غور طلب ے کہ قطر کی طرف سے مسلسل اس موقف کا اظہار کیا گیا کہ وہ بات چیت پر آمادہ ہے اور مذاکرات کے ذریعے تمام مسائل حل کرنے کو تیار ہے لیکن اپنی خود مختاری کے معاملے پر کوئی سودے بازی نہیں کرسکتا تیرہ شرائط میں یہ بھی شامل تھا کہ قطر ایران کے ساتھ اپنے تعلقات میں گرمجوشی ختم کرے گا اور ترکی کے فوجی بیس کو بھی ختم کرے گا اسی نوعیت کی بعض دیگر شرائط بھی تھیں جو قطر کی خارجہ پالیسی اور اس کے دفاع کے معاملے میں دوسروں کی ڈکٹیشن کو ظاہر کررہی تھیں یہ شرائط اس حد تک غیر حقیقی تھیں کہ عالمی سطح پر بھی انہیں سنجیدگی سے نہیں لیا گیا مبصرین اور تجزیہ کاروں کی رائے ہے کہ ایر یہی شرائط مذکورہ چاروں ممالک قبول کرنے پر آمادہ ہوں تو قطر سے وہ ان کا مطالبہ کرنے میں حق بجانب ہیں مگر کوئی بھی عرب ملک یہ نہیں چاہے گا کہ کوئی دوسرا اسے خارجہ پالیسی کے معاملے میں ڈکٹیٹ کرے یا اس کے دفاعی معاہدوں پر انگلی اٹھائے اقوام متحدہ کا چارٹر بھی ممبر ممالک کی خود مختاری کے تحفظ کی بات کرتا ہے اور دوسروں کو ان کے معاملات میں مداخلت سے روکتا ہے یہ ہر ملک کے عوام اور ان کی حکومت کا معاملہ ہے کہ وہ دوسروں کے ساتھ کس نوعیت کے تعلقات استوار کرتے ہیں یا اپنے دفاع کو یقینی بنانے کیلئے کس ملک سے عسکری تعاون کے معاہدے کرتے ہیں اس تناظر میں دیکھا جائے تو قطر سے کی جانے والی شرائط غیر حقیقی اور غیر منصفانہ ہیں۔