ٹورنٹو کی عالمی کشمیر کانفرنس اور بھارت کی طرف سے کشیدگی میں اضافہ

 ٹورنٹو میں منعقدہ عالمی کشمیر کانفرنس میں دنیا کے مختلف خطوں سے کشمیری قائدین اور انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں کے بیشتر نمائندوں نے شرکت کی کانفرنس میں منظور کی جانے والی قرارداد مقبوضہ کشمیر کی صورتحال کا ایک جامع حل پیش کرتی ہے جس میں مطالبہ کیا گیا  ہے کہ بھارت مقبوضہ کشمیر سے فوجی انخلاء کرے اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا سلسلہ ختم کرے تاکہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق استصواب رائے کے لئے ماحول بن سکے قرارداد میں اسلامی تعاون تنظیم سے بھی مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ مقبوضہ کشمیر میں انسانی  حقوق کی خلاف ورزیوں کے بارے میں رپورٹ مرتب کرے جبکہ اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے ادارے سے بھی مطالبہ کیاگیا ہے کہ وہ حالات کا بچشم خود جائزہ لے کر رپوڑت مرتب کرے اور اسے اقوام متحدہ کے اجلاس میں پیش کرے ہم سمجھتے ہیں مذکورہ قرارداد مسئلہ کے حل کا ایک مناسب راستہ وضع کرتی ہے مقبوضہ کشمیر سے بھارتی فوجیوں کے انخلاء سے مسئلہ کے حل کی جانب پیش رفت کی جاسکتی ہے گزشتہ چھ دہائیوں سے بھارتی فوجیں مقبوضہ کشمیر میں ڈیرہ ڈالے ہوئے ہیں دوسرے لفظوں میں انہوں نے تسلط جما رکھا ہے فوجی طاقت کے زور پر بھارت نے کشمیریوں کی سرزمین پر قبضہ کیا ہوا ہے یہ بھارت ہی تھا جو کشمیر کا مسئلہ لے کر اقوام متحدہ میں گیا تھا اور وہاں اس نے تسلیم کیا تھا کہ کشمیریوں کو استصوب رائے کے ذریعے اپنے  مستقبل کا فیصلہ کرنے کا موقع ملنا چاہیے کہ وہ بھارت کے ساتھ رہنا چاہتے ہیں یا پاکستان کے ساتھ مگر وقت کے ساتھ بھارت ان قراردادوں  سے انحراف کرنے لگا۔ بھارت ایک طرف کشمیر کا معاملہ لے کر اقوام متحدہ میں گیا اور  اس نے قراردادوں کو تسلیم کیا دوسری طرف اپنی فوجیں کشمیر میں اتاردیں اور جارحیت کے ذریعرے اس پر قبضہ کرلیا مسئلہ کا حل یہی ہے کہ سب سے پہلے مقبوضہ کشمیر کی اس حیثیت کو بحال کیا جائے جو بھارتی فوجی تسلط سے قبل تھی جارحیت کے خاتمہ کے بعد ہی اقوام متحدہ کی قراردادوں کے تحت استصواب رائے کی جانب پیش رفت کی جاسکتی ہے اس تناظر میں دیکھا جائے تو ٹورنٹو کی عالمی کشمیر کانفرنس نے مسئلہ کے حل کی کلید کی جانب اشارہ کیا ہے اور کہا ہے کہ بھارتی فوج کا مقبوضہ کشمیر سے انخلاء ہونا چاہیے۔اقوام متحدہ سمیت عالمی برادری کو مسئلہ کشمیر  آج کے سیاق و سباق میں دیکھنا چاہیے آج کا منظر نامہ یہ ہے کہ پاکستان اور بھارت دونوں ایٹمی طاقتیں ہیں مسئلہ کشمیر کے باعث کشیدگی ماضی کی طرح ان کے درمیان تصادم کا رخ اختیار کر سکتی ہے اور یہ تصادم ایٹمی تصادم کا رخ اختیار کر سکتا ہے اس سے پہلے کہ حالات اس نہج پر پہنچ جائیں عالمی برادری کو کشیدگی میں کمی لانے اور تنازعہ  کے حل کی کوشش کرنی ہوں گی ایل او سی اور ورکنگ بائونڈری پر بھارت دانستہ سیز فائر کی خلاف ورزی کرکے کشیدگی کو بڑھاوا دے رہا ہے اس سے قبل کہ صورتحال مزید بگڑ جائے عالمی برادری کو اس طرف توجہ دینی ہوگی۔ حال ہی میں ایل او سی پر بھارت نے بلااشتعال فائرنگ کرکے پاک فوج کے چار جوانوں کو شہید کر دیا اس صورتحال پر پاک فوج کے ڈائریکٹر جنرل ملٹری آپریشنز میجر جنرل ساحر شمشاد مرزا نے بھارتی ہم منصب جنرل اے کے بھٹ سے ہاٹ لائن پر رابطہ کیا اور بھارت سے شدید احتجاج کیا اور وارننگ دی آئی ایس پی آر کے مطابق ڈی جی ایم او نے بھارتی ڈی جی ایم او  کو باور کرایا کہ بھارتی فورسز کی جانب سے جان بوجھ کر پاک فوج کی گاڑی کو فائرنگ کا نشانہ بنایا گیا اس قسم کے  واقعات کسی بڑے سانحہ کا سبب بن سکتے ہیں اور کشیدگی میں اضافہ کرکے خطے میں امن  و سلامتی کو نقصان پہنچا سکتے ہیں بھارت لائن آف کنٹرول پر سیز فائر معاہدے کی خلاف ورزی بند کرے ورنہ پاک فوج کسی بھی جارحیت پر جوابی کارروائی کا حق محفوظ رکھتی ہے میجر جنرل ساحر شمشاد مرزا نے خبردار کیا کہ پاکستان اس حد تک نہیں جانا چاہتا جہاں پر ایک دوسرے کی سپلائی لائنز بند کر دی جائیں بھارت نے اس قسم کی خلاف  ورزیاں نہ روکیں تو پاکستان بھرپور اور سخت جواب دے گا۔ پاکستان کی طرف سے بھارت کو مذکورہ وارننگ اس کے تحمل کی علامت ہے اس کی طرف سے مسلسل یہ کوشش کی جارہی ہے کہ معاملات کو مزید بگڑنے سے بچایا جائے لیکن آخر کب تک ؟ پاکستان کو خلاف ورزیوں  اور بلااشتعال فائرنگ کو روکنے کے لئے مجبوراً سخت اقدامات کرنے پڑیں گے عالمی برادری کو ان بھارتی رویوں کا نوٹس لینا چاہیے۔