Get Adobe Flash player

خیبرپختونخواہ کی حکومت انسداد دہشت گردی کے سلسلے میں اپنی ذمہ داری پوری کرے

پشاور میں دہشت گردی کی تازہ ترین واردات میں ایف سی کی گاڑی پر خودکش حملہ کیا گیا جس کے نتیجے میں ایک میجر شہید جبکہ چار اہلکاروں سمیت دس افراد زخمی ہوئے کالعدم تحریک طالبان پاکستان نے اس واقعہ کی ذمہ داری قبول کرلی ہے۔ آئی ایس پی آر کے مطابق ایف سی کی گاڑی حیات آباد کے علاقہ میں معمول کی گشت پر تھی کہ موٹر سائیکل سوار خودکش حملہ آور گاڑی سے آ ٹکرایا دھماکہ کے نتیجے میں میجر جمال شیران شہید ہوگئے جبکہ زخمی اہلکاروں میں سے دو کی حالت تشویش ناک بتائی جاتی ہے ایس پی کنٹونمنٹ عمران ملک کے مطابق دھماکہ سے سیکورٹی فورسز کی دو گاڑیاں بری طرح متاثر ہوئیں خودکش حملہ آور کے جسم کے اعضاء مل گئے ہیں زخمیوں میں سے دو راہگیر خواتین بھی شامل ہیں بم ڈسپوزل سکواڈ کا کہنا ہے کہ حملہ آور نے خودکش جیکٹ پہن رکھی تھی جبکہ دھماکہ میں دس سے بارہ کلو تک بارودی مواد استعمال کیا گیا اس واقعہ کے تناظر میں اہم سوال یہ ہے کہ مختلف علاقوں میں ناکوں پر موجود پولیس اہلکار کیا کردار ادا کررہے ہیں یہ بات واضح ہے کہ اب دہشت گرد متعدد وارداتوں میں موٹرسائیکل کا استعمال کرتے ہیں جب سے دہشت گردوں کی کمر توڑی گئی ہے اوران کے مضبوط ٹھکانے ختم کئے گئے ہیں اس وقت سے وہ  بارود سے بھری ہوئی گاڑیوں کو  دہشت گردی کے مقاصد کے لئے استعمال کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہیں چنانچہ وہ وارداتوں کے لئے موٹر سائیکل کا استعمال کرتے ہیں اس صورتحال کا تقاضا تھا کہ پشاور کنٹونمنٹ کے علاقوں میں بالخصوص اور شہر کے دیگر علاقوں میں بالعموم ناکوں پر پولیس اہلکاروں کو چوکس کر دیا جاتا مگر واقعات یہی ثابت کرتے ہیں کہ ایسا نہیں ہوا دہشت گردی کے سدباب کے لئے تمام اداروں کو بیک وقت اپنا فعال کردار ادا کرنا ہوتا ہے جس میں پولیس سے لے کر مقامی اور صوبائی  انٹیلی جنس ایجنسیوں کا کردار بھی شامل ہے کسی ایک بھی ادارے کی غفلت اور سستی دہشت گردوں کو فائدہ دے جاتی ہے اور وہ واردات کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں خیبرپختونخواہ میں تحریک انصاف کی حکومت کی تمام تر توجہ اس وقت وفاقی حکومت کو گرانے پر مرکوز ہے اور اس کے وزیراعلیٰ و وزراء کا زیادہ وقت اسلام آباد میں گزرتا ہے جس کے باعث صوبے کی انتظامی مشینری کمزور ہوچکی ہے اگر انتظامی مشینری اور پولیس فعال ہوتی ناکوں پر سخت اقدامات ہوتے اور سخت ہدایات دی جاتیں تو گزشتہ روز کا سانحہ پیش نہ آتا ہم اپیل کرتے ہیں کہ دہشت گردی کے سدباب کے سلسلے میں خیبرپختونخواہ کی حکومت کو کسی قسم کی کوتاہی نہیں کرنی چاہیے۔ یہ ملکی سلامتی کا معاملہ ہے اور اس کے لئے اپنے حصے کا موثر کردار  اس کی قومی ذمہ داری بھی ہے۔