Get Adobe Flash player

وزیر اعظم کا اٹل فیصلہ اسمبلیاں ٹوٹیں گی نہ استعفےٰ دوں گا

وزیر اعظم نواز شریف نے ایک بار پھر اپنے اس موقف کا اعادہ کیا ہے کہ وہ اپنے منصب سے استعفے دیں گے نہ اسمبلیاں توڑنے کا ان کا کوئی ارادہ ہے اپنی اتحادی جماعتوں کے سربراہوں مولانا فضل الرحمان اور اعجاز الحق سے ملاقاتوں کے دوران انہوں نے کہا کہ انہیں سپریم کورٹ کا فیصلہ قبول ہے ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ وہ کسی بھی قسم کی محاذ آرائی کے خلاف نہیں تاہم انہوں نے کہا کہ ان کے خلاف فیصلہ سیاسی نہیں قانونی ہونا چاہیے وزیر اعظم نے دو ٹوک انداز میں کہا کہ اسمبلی میں مدت پوری کرے گی اور اسے تحلیل نہیں کیا جائے گا۔ ملاقات میں دونوں اتحادی جماعتوں کے رہنمائوں نے وزیر اعظم کے فیصلے کی تائید کی اور واضح کیا کہ وہ عوام کے مینڈیٹ کے مطابق حکومت کے ساتھ بھرپور تعاون کریں گے اور استعفے نہ دینے اور اسمبلیاں نہ توڑنے کے ان کے فیصلے کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔یہ صورتحال مضحکہ خیز ہے کہ جے آئی ٹی کی تحقیقات کے بعد معاملہ سپریم کورٹ میں آچکا ہے اس کے باوجود شریف فیملی کے خلاف درخواست دہندگان وزیر اعظم کے استعفےٰ کا مطالبہ کررہے ہیں اس سے بڑا تضاد اور کیا ہوسکتا ہے کہ ان کے وکلا تو سپریم کورٹ میں وزیر اعظم اور ان کی فیملی کے خلاف دلائل دے رہے ہیں مگر عدالت عظمیٰ سے باہر مسلسل ان کی طرف سے استعفےٰ کا مطالبہ کیا جارہا ہے سوال یہ ہے کہ کیا انہیں اپنے وکلاء کے دلائل پر اعتماد نہیں ہے یا جے آئی ٹی کی رپورٹ کو اپنے مقاصد کی تکمیل کیلئے موافق نہیں سمجھتے یا پھر انہیں عدلیہ پر اعتماد نہیں ہے  اور یہ محسوس کرتے ہیں کہ فیصلہ وزیراعظم کے حق میں اور ان کے خلاف آئے گا اس لئے تو اس میں استعفےٰ کا مطالبہ کر رہے ہیں وزیراعظم نے سپریم کورٹ میں قانونی جنگ لڑنے اور استعفےٰ نہ دینے کا درست فیصلہ کیا استعفےٰ دینے کا مطلب یہی ہوتا کہ ان کے پاس اپوزیشن کے بے بنیاد الزامات اور غیر مستند شواہد کا دفاع کرنے کے لئے کچھ نہیں ہے اس لئے مستعفیٰ ہو رہے ہیں گویا انہوں نے اپنے خلاف تمام الزامات تسلیم کرلئے ہیں اپوزیشن مخصوص حکمت عملی کے تحت اسی لئے انہیں استعفےٰ پر لانے کے لئے دبائو ڈال رہی تھی مگر انہوں نے ببانگ دہل استعفےٰ نہ دینے  اور اپوزیشن کے غلط موقف کو چیلنج کرنے کا فیصلہ کیا اور جے آئی ٹی پر اپنے اعتراضات پیش کرتے ہوئے سپریم کورٹ پر اعتماد کا اظہار کیا لیکن اپوزیشن نے پانامہ لیکس کے معاملے کو اس حد تک سیاسی بنا دیا ہے کہ وزیراعظم کو یہ کہنا پڑا ہے کہ وہ سپریم  کورٹ کے فیصلے کو قبول کریں گے مگر فیصلہ سیاسی نہیں قانونی ہونا چاہیے یقینا آئین اور قانون کے فیصلوں کی بنیاد بہت مضبوط ہوتی ہے اور نہ صرف ملک کے اندر اور باہر کی  تمام عدالتیں اور قانونی ماہرین ایسے فیصلوں کو تحسین کی نگاہ سے دیکھتے ہیں بلکہ مستقبل کی عدلیہ ان مضبوط قانونی فیصلوں کی نظیر پیش کرتی اور ان سے رہنمائی حاصل کرتی ہیں اس کے برعکس سیاسی بنیادوں اور مقاصد کے تحت دئیے جانے والے فیصلے بہت جلد اپنی افادیت کھو بیٹھتے ہیں اور ان کی سیاہی خشک ہونے سے پہلے ہی قانونی اور سنجیدہ حلقوں کی آراء اور تجزیے ان کی اصلیت آشکار کر دیتے ہیں اگر ہم اپنی ماضی کی تاریخ کو دیکھیں تو  ہمیں بخوبی معلوم ہو جائے گا کہ عدلیہ کے سیاسی فیصلوں کا کیا حشر ہوا اور قانونی فیصلوں کو کس طرح عوام نے دل میں  جگہ دی مقام شکر ہے کہ آج ماضی کے برعکس عدلیہ آزاد اور خودمختار ہے اور قوم اس سے منصفانہ فیصلوں کی زیادہ توقعات رکھتی ہے ہم سمجھتے ہیں آزاد اور خودمختار عدلیہ کو کسی سیاسی جماعت یا وکلاء تنظیموں کی طرف سے حمایتی بیانات کی ضرورت نہیں ہوتی اس کی طاقت آئین اور قانون ہوتے ہیں حمایتی بیانات اس کے لئے اچھا تاثر پیدا نہیں کرتے اس لئے اس قسم کے رحجانات کی حوصلہ شکنی ہونی چاہیے ہم وزیراعظم نواز شریف کے اس موقف کی بھی تعریف کرتے ہیں کہ وہ کسی قسم کی محاذ آرائی نہیں چاہتے اور فیصلے کو خوش دلی سے قبول کریں گے مسئلہ ایک وزیراعظم کی نااہلیت یا اہلیت کا نہیں بلکہ قانون کی بالادستی اور غیر جانبدارانہ اور منصفانہ فیصلے کا ہے قوم قانون کی بالادستی اور منصفانہ فیصلے کی  خواہاں ہے۔