بلاول زرداری کو اعلیٰ درجے کے سیاسی اتالیق کی ضرورت ہے

پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول زرداری نے اسلام آباد میں میٹ دی پریس پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ وزیراعظم نواز شریف کا استعفےٰ اب پوری قوم کی آواز بن چکا ہے مولانا فضل الرحمان اور دیگر حکومتی اتحادی عنقریب اپنا موقف تبدیل کرکے حکومت کا ساتھ چھوڑ دیں گے شریف خاندان قانون کی حکمرانی تسلیم نہیں کرے گا تو قومی اسمبلی سے استعفوں سمیت تمام آپشن استعمال کریں گے ان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم کے استعفےٰ پر ہم سب ایک بنچ پر ہیں۔بلاول زرداری اس پارٹی کے قائد ہیں جس کی قیادت کبھی شہید ذوالفقار علی بھٹو اور شہید بے نظیر بھٹو کے پاس تھی اس لئے اس منصب پر بیٹھ کر ان کی گفتگو اس لے شایان شان ہونی چاہیے یہ درست ہے کہ وہ ابھی سیاست میں  نو آموز ہیں اور وقت کے ساتھ ساتھ ان میں پختگی آجائے گی موروثی قیادت تو فوراً مل سکتی ہے مگر سیاست کا علم' تجربہ اور اس کے طور طریقے حاصل ہونے میں وقت لگتا ہے یہ سب کچھ سرمائے سے بھی حاصل نہیں ہوسکتا اس لئے بلاول زرداری کو اپنے اعلیٰ درجے کے سیاسی اتالیق مقرر کرنے چاہئیں اور سطحی سیاسی سوچ رکھنے والے  لیڈروں اور کارکنوں سے فاصلہ رکھنا چاہیے کیونکہ ان کے دئیے ہوئے اسباق بعض اوقات ان کے لئے ندامت کا باعث بن جاتے ہیں اس سے قبل وہ شدت سے اپنے چار نکات کا ذکر کرتے ہوئے رہے کہ اگر حکومت نے تسلیم نہ کئے تو قیامت آجائے گی مگر کیا ہوا ان کے چار نکات کہاں گئے ؟ جب آپ زمینی حقائق سے برعکس مطالبات کریں گے تو ایسا ہی ہوگا آپ کو خود ان سے پیچھے ہٹنا پڑے گا۔ اب آپ کہتے ہیں کہ وزیراعظم کا استعفےٰ قوم کی آواز بن چکا ہے آپ کے یا کسی دوسرے کے پاس کیا پیمانہ ہے جس سے یہ نتیجہ اخذ کیا جائے کہ اس مطالبے کے پیچھے پوری قوم کھڑی ہے۔ اگر آپ سیاسی جماعتوں کے حوالے سے بھی تجزیہ کریں تو یہ بہت کمزور ہے اس مطالبے کی حامی جماعتوں کو اپنی عوامی طاقت کیا ہے پیپلزپارٹی خود کتنی سکڑ چکی ہے اس کا شاید آپ کو درست اندازہ نہیں ہے تحریک انصاف خیبرپختونخواہ میں ہے وہ بھی جماعت اسلامی کی معاونت کے ساتھ شیخ رشید یا چوہدری شجاعت حسین کی پارٹی کے پیچھے جتنی قوم  ہے اس کا اندازہ 2013 کے الیکشن میں سب کو ہوچکا ہے۔ یہ تاثر بھی مضحکہ خیز ہے کہ استعفےٰ کے حوالے سے سیاری جماعتیں ایک صفحے پر ہیں مسلم لیگ (ن) جس کو الیکشن میں عوام نے اقتدار کا مینڈیٹ دیا اور سب سے زیادہ ووٹ دئیے' جمعیت علمائے اسلام' اے این پی' پختونخواہ ملی عوامی پارٹی' آفتاب شیرپائو کی قومی وطن پارٹی' جمعیت اہلحدیث' مسلم لیگ (ضیائ) پاکستان نیشنل پارٹی سمیت متعدد جماعتیں استعفےٰ کے خلاف ہیں اس پس منظر میں یہ ضروری  ہے کہ بلاول زرداری اپنی گفتگو اور تجزیوں میں پختگی  لائیں اور سطحی سیاسی سوچ رکھنے والوں کی محفل سے باہر نکلیں' کم کم بولیں اور پختگی اور سنجیدگی ان کی گفتگو سے ظاہر ہو' ان کے سیاسی قد میں اضافہ کے لئے یہ ضروری ہے  بے نظیر بھٹو کے نام کا سیاسی فائدہ جتنا حاصل ہونا تھا وہ آصف علی زرداری نے حاصل کرلیا ہے اس لئے اب بلاول کو سیاست میں خود محنت کرنی ہوگی جبکہ اپنے ڈیڈی کی ''کارکردگی'' کا بوجھ بھی اٹھانا ہوگا۔