وزیراعظم کے خلاف بے بنیاد الزامات کی دھند چھٹ گئی

سپریم کورٹ نے بدھ کی سماعت کے دوران اپنے ریمارکس میں یہ واضح کیا کہ وزیراعظم پر کرپشن اور عہدے کے غلط استعمال کا الزام نہیں ہے جبکہ وزیراعظم نواز شریف نے گزشتہ روز  سیالکوٹ میں وفاقی وزیر خواجہ محمد آصف کی رہائش گاہ پر کارکنوں کے ایک اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے اسی حوالے سے سوالات اٹھائے تھے کہ ان پر کرپشن بدعنوانی اور کسی معاملہ میں کمیشن کے حصول کا کوئی الزام نہیں ہے اس کے باوجود ہمیں ملوث کیا جارہا ہے ہمیں بتایا جائے کہ ہم پر الزام کیا ہے ہمارا قصور کیا ہے وزیراعظم کا کہنا تھا کہ مجھ پر بہتان اور الزام تراشی کرنے والوں' گالیاں دینے  اور گندی زبان استعمال کرنے والوں کو قوم اگلے سال عام انتخابات میں اس کا جواب دے گی۔ استعفےٰ مانگنے والوں کو قوم نے بار بار ٹھکرایا ہم نے پاکستان کو ایٹمی قوت بنایا اب ہم اسے معاشی طاقت بنائیں گے ترقی کے مخالف ہماری ٹانگیں نہ کھینچیں پاکستان کو آگے بڑھنے دیں ہمیں بتائیں تو سہی ہمارا قصور کیا ہے؟ سرکاری پیسے کا تو کوئی احتساب نہیں ہو رہا  میرے خاندانی کاروبار کا احتساب ہو رہا ہے۔ ہمیں لوٹنے والے ہی ہم سے منی ٹریل مانگ رہے ہیں کوئی ہے جو ان کا گریبان پکڑے اس احتساب کو کوئی نہیں مانے گا ان کا ہدف مجھے ہٹانا ہے دھرنا تھری کے حالات پیدا کئے جارہے ہیں آج میرا احتساب ہو رہا ہے کل ان کا بھی ہوگا خدا خدا کرکے میری حکومت نے پہلے چار سال مکمل کئے ہیں ہمارا تین نسلوں کا حساب لیا جارہا ہے مجھے اس کی فکر نہیں نواز شریف کا احتساب ضرور کرو مگر یہ تو بتائو کس چیز کا احتساب کر رہے ہو یہ بتایا جائے کہ نواز شریف نے کہاں سے ناجائز مال کمایا ہے  تین دفعہ وزیراعظم اور دو دفعہ وزیراعلیٰ رہا میرے ان ادوار میں کوئی بدعنوانی نہیں ہوئی ہمیں بتایا جائے کہ کہاں سے پیسہ لوٹا' کہاں کمیشن کھایا کس منصوبے سے پیسہ کمایا ہم نے کہاں قومی خزانے میں خیانت کی ہم نے تو اس ملک کا سرمایہ بچایا' احتساب سرکاری خزانہ کا نہیں بلکہ میرے خاندانی کاروبار کا ہو رہا ہے وزیراعظم نے موثر استدلال کے ساتھ قوم کے سامنے تمام حقائق رکھے اور اپنی پوزیشن واضح کی کسی حکمران سے احتساب یہ ہوتا ہے  کہ اس کے عرصہ حکمرانی میں اس نے کہاں کہاں اپنے انفرادی مفادات کو قوم کے مفادات پر ترجیح دی' کن منصوبوں سے رشوت لی' پیسہ کمایا اور کمیشن حاصل کئے' کہاں کہاں ٹھیکوں اور فنڈز میں شفافیت کو ملحوظ نہیں رکھا گیا اور مالی فضلت کے باعث غلط فیصلے کئے گئے مگر جیسا کہ وزیراعظم نے کہا کہ وہ تین دفعہ وزیراعظم اور دو  دفعہ وزیراعلیٰ رہے ان میں کسی دور میں بھی ان کے خلاف بدعنوانی اور کمیشن کے الزامات لگے نہ ثبوت سامنے آئے اب جو کچھ ہو رہا ہے اور جسے احتساب کا نام دیا جارہا ہے یہ بحیثیت وزیراعظم ان پر کسی بدعنوانی یا کمیشن کے الزامات کے تحت نہیں بلکہ ان کے خاندانی کاروباری معاملات کا احتساب ہو رہا ہے دوسرے لفظوں میں وزیراعظم کی حیثیت سے ان کا کوئی فعل اور عمل ان پر کرپشن یا کمیشن کو ثابت  نہیں کرتا اور ان کے مخالفین بھی اس سلسلے میں کسی ایک واقعہ کی بھی نشاندہی نہیں کر سکے اس پس منظر میں سپریم کورٹ کے یہ ریمارکس وزیراعظم کے خلاف بے بنیاد الزامات کی گرد کو ختم کرتے ہیں کہ ان پر کرپشن اور کمیشن کے حصول کے الزامات نہیں ہیں گویا وزیراعظم کے اس موقف کی تائید کی گئی کہ شریف فیملی کے کاروباری معاملات کے حوالے سے احتساب ہو رہا ہے۔ ہم سمجھتے ہیں  سپریم کورٹ کے ریمارکس کے ذریعے بہت سی دھند چھٹ چکی ہے اور حسن نواز' حسین نواز اور مریم نواز کے وکلاء کی طرف سے مزید دستاویزات پیش کرنے اور دلائل دینے کے بعد مزید حقائق واضح  ہو جائیں گے۔ قوم انصاف چاہتی ہے اور توقع کرتی ہے کہ عدالت عظمیٰ اس کے منتخب وزیراعظم اور ان کی حکومت سے انصاف کرے گی۔