Get Adobe Flash player

انتخابی اصلاحات کمیٹی میں الیکشن بل کی منظوری

خدا خدا کرکے دو سال کے عرصہ میں یہ اچھی خبر آئی ہے کہ انتخابی اصلاحات کمیٹی نے الیکشن بل منظور کرلیا ہے جس میں تمام قوانین کو یکجا کرکے ایک قانون بنایا گیا ہے اور انتخابات کو مزید شفاف اور منصفانہ بنانے کے لئے اقدامات کئے گئے ہیں یہ امر غور طلب ہے کہ تحریک انصاف نے اگرچہ 2013ء کے الیکشن کے بعد یہ کہنا شروع کر دیا تھا کہ انتخابی قوانین میں مزید بہتری کی ضرورت ہے اور ناقص قوانین کے باعث الیکشن کو شفاف نہ بنایا  جاسکا چنانچہ بقول اس کے الیکشن میں دھاندلی کی گئی ہے لیکن اس کے برعکس  جب انتخابی اصلاحات کے ضمن میں پارلیمانی کمیٹی قائم کی گئی تو اس میں تحریک انصاف نے زیادہ دلچسپی نہ لی اور اس نے زیادہ  وقت اجلاسوں کے بائیکاٹ میں گزرا اس تاخیر کی زیادہ تر ذمہ داری محض اس ہی پر عائد ہوتی ہے اگر وہ باقاعدگی سے اجلاسوں میں شریک ہوتی تو اب تک بہت سا کام مکمل ہوچکا ہوتا اور نیا قانونی مسودہ منظوری کے  مراحل طے کر چکا ہوتا سرکاری حلقوں کے مطابق آج جمعہ کے روز پارلیمانی کمیٹی کے اراکین کے دستخطوں کے بعد ایک مرحلہ مکمل ہو جائے گا جبکہ دستوری ترامیم پر سب کمیٹی اپنا کام جاری رکھے گی۔پارلیمانی کمیٹی کے دستخطوں کے بعد انتخابی قوانین کا بل پارلیمنٹ میں منظوری کے لئے پیش کر دیا جائے گا وزیر خزانہ اسحاق ڈار جو پارلیمانی کمیٹی کے سربراہ ہیں ان کی صدارت میں منعقدہ اجلاس میں گزشتہ روز کمیٹی نے کام مکمل کیا تاہم تحریک انصاف نے اس اجلاس سے بھی واک آئوٹ کیا اور یہ موقف اختیار کیا کہ الیکشن کمیشن کی تشکیل نو کی جائے ۔ نگران حکومت کے قیام پر اس کی تجویز منظور کی جائے' الیکٹرانک اور بائیو میٹرک مشینوں کے استعمال اور سمندر پار پاکستانیوں کو ووٹ کی سہولت دینے  کے معاملے میں بھی اس کی بات مانی جائے ورنہ وہ اجلاس میں نہیں آئے گی۔ پارلیمانی کمیٹیوں کے فیصلے ہوں یا دونوں ایوانوں کے فیصلے یہ اکثریت کی بنیاد پر ہوتے ہیں اس میں کسی واحد جماعت کی ضد یا اس کے انفرادی مطالبہ کو کوئی اہمیت نہیں ہوتی الیکشن کمیشن کی تشکیل نو کا مطالبہ تحریک انصاف کا انفرادی مطالبہ ہے اور یہ آئینی معاملہ ہے آئینی مدت کی تکمیل سے قبل الیکشن کمیشن کو تحلیل نہیں کیا جاسکتا۔ الیکٹرانک اور بائیو میٹرک مشینوں کے استعمال کے معاملے میں ابھی تک ہم اپنے ووٹر کی تربیت نہیں کر سکے ان فنی معاملات کے لئے الیکشن کمیشن کو وقت چاہیے یہ تجربہ عام انتخابات کے موقع پر نہیں کیا جاسکتا البتہ اسے ضمنی انتخابات کے موقع پر بتدریج استعمال کرکے ووٹروں کو اس طرف لایا جاسکتا ہے اور الیکشن کمیشن بھی اپنے عملے کو اس کے استعمال کی تربیت دے سکتا ہے بہرحال مجموعی طور پر پارلیمانی کمیٹی نے  اپنا کام مکمل کرلیا ہے جو خوش آئند ہے جبکہ افسوسناک بات یہ ہے  کہ تحریک انصاف نے دانستہ ایسے ایشو چھوڑے ہیں جن کی بنیاد پر آئندہ بھی اپنی شکست کے لئے آسانی سے جواز تلاش کر سکے۔