Get Adobe Flash player

بھارت کی طرف سے خطے میں دہشتگردی اور انتہا پسندی کی حوصلہ افزائی

دفتر خارجہ کے ترجمان نے لائن آف کنٹرول پر بھارتی فوج کی طرف سے مسلسل بلا اشتعال فائرنگ کی مذمت کی ہے اور کہا ہے کہ بھارتی رویہ خطے کے امن کیلئے خطرہ بن چکا ہے بھارت کی طرف سے جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزیاں مقبوضہ کشمیر کی سنگین صورتحال سے عالمی برادری کی توجہ ہٹانے کیلئے ہیں ترجمان نے کہا کہ ہم پاکستانی سرزمین سے دہشتگردی کے مکمل خاتمے کیلئے پرعزم ہیں اور ہم بھارت کی طرف سے کنٹرول لائن کی خلاف ورزیوں کی سختی سے مذمت کرتے ہیں ترجمان نے کہا کہ گزشتہ روز بھی بھارت کی بلا اشتعال فائرنگ سے ہمارا ایک فوجی جوان شہید ہوا اور دو دشدید زخمی ہوئے جبکہ دو شہری شہید اور پانچ زخمی ہوئے ہم شہریوں کو نشانہ بنانے کے واقعات کی بھی مذمت کرتے ہیں اور بھارت رویے کو خطے کیلئے خطرناک قرار دیتے ہیں ترجمان نے واضح کیا کہ بھارتی مظالم کے باعث مقبوضہ کشمیر میں 138کشمیری زخمی جبکہ 54نوجوانوں کو بھارتی فورسز نے گرفتار کیا ترجمان کے مطابق رواں برس بھارت نے 580بار سیز فائر کی خلاف ورزیاں کیں جن میں 21پاکستانی شہید اور  30زخمی ہوئے ترجمان نے کہا کہ پاکستان نے دہشتگردی کے خلاف بھرپور اور کامیاب جنگ شروع کی ہے اور اس کامیابیوں کا عالمی سطح پر اعتراف کیا گیا ہے لیکن بھارت پاکستان میں دہشتگردی کیلئے افغانستان کی سرزمین استعمال کررہا ہے کلبھوشن نے پاکستان میں بھارت کی تحریب کاریوں سمیت دیگر منصوبوں اور عزائم کا اعتراف کیا ہے ترجمان نے مختصراًبھارت کی ورکنگ بائونڈری اور ایل او سی پر جنگ بندی کی خلاف ورزیوں اور افغانستان کے ذریعے پاکستان میں دہشتگردی کی حوصلہ افزائی اور معاونت کا ذکر کیا ہے۔ہم سمجھتے ہیں بھارت اپنے طرز عمل سے نہ صرف خطے کے امن واستحکام کیلئے خطرہ بن رہا ہے جبکہ خطے میں دہشتگردی کو فروغ دے رہا ہے سوال یہ ہے کہ ملکوں کے درمیان جنگ بندی کے معاہدے کیوں طے پاتے ہیں؟ ہر کوئی اس سوال کا جواب جانتا ہے کہ اس قسم کے معاہدے اس لئے معرض وجود میں لائے جاتے ہیں کہ ملکوں کے درمیان امن رہے اور وہ عوام کی ترقی اور خوشحالی کے ضمن میں یکسوئی سے اپنا کردار ادا کرسکیں گویا بنیادی ہدف اور متعلقہ امن کا قیام ہے جو ترقی اور خوشحالی کیلئے ناگزیر ہے کسی بھی ریاست کا اولین فریضہ اپنے شہریوں کو تحفظ اور انہیں زندگی کی بنیادی ضرورتوں اور سہولتوں کی فراہمی ہے جو امن کے بغیر ممکن نہیں ہے اس تناظر میں غور کیا جائے تو بھارت کا طرز عمل خطے کے امن و استحکام کیلئے خطرے کا باعث تو ہے ہی یہ اس کے اپنے عوام کو بھی خوشحالی کی منزل سے دور کرتا ہے پاکستان دشمنی میں وہ اپنے عوام کو معاشی بدحالی کے گڑھے میں پھینک رہا ہے اس کی نام نہاد جمہوریت بھی اس کے عوام کو زندگی کی بنیادی سہولتیں فراہم کرنے میں اس لئے ناکام رہی کہ اس نے جمہوریت کے کلیدی اصولوں کو پسن پشت ڈال کر توسیع پسندی کو اپنا شعار بنا لیا ہے۔ بھارت جنگ بندی کی مسلسل خلاف ورزیوں کے ذریعے جس طرح کشیدگی کو بڑھاوا دے رہا ہے اور جارحیت کیلئے راستہ ہموار کررہا ہے یہ صورتحال کا ایک پہلو ہے جبکہ دوسرا پہلو یہ ہے کہ پاکستان جو اس خطے میں دہشتگردی کے خلاف کامیاب جنگ لڑرہا ہے  وہ اس کی توجہ بھی اس جنگ سے ہٹانے کی مذموم کوششوں میں مصروف ہے پاکستان کے مشرقی اور مغربی بارڈر پر جنگی جنون پیرا کرکے وہ پاکستان کی تمام تر توجہ اس کے دفاع کی طرف مبذول کروانے کا خواہاں ہے یہ ایک بہت خطرناک منصوبہ ہے جو دہشتگردوں اور انتہا پسندوں کیلئے تقویت کا باعث ہوسکتا ہے وہ یہی چاہتے ہیں کہ انہیں کچلنے کی کوشش دم توڑ دیں اور وہ اپنے مخصوص ایجنڈے کی تکمیل کریں بھارت کے اندر بھی جس تیزی سے انتہا پسندی پروان چھڑ رہی ہے اور بی جے پی کے انتہا پسند گروپ حکومت کو ڈکٹیٹ کررہے ہیں اور ان کی من مانی پر کوئی انہیں پوچھنے والا نہیں یہ اس کا ثبوت ہے کہ انتہا پسندی کی حوصلہ افزائی نریندر مودی حکومت کی حقیقی پالیسی ہے اسی پالیسی کے تحت افغانستان میں اس کے درجنوں قونصلیٹ کام  کررہے ہیں جو پاکستان مخالف طالبان کو اسلحہ ،تربیت اور اہداف فراہم کررہے ہیں جب تک بھارت کے اس طرز عمل کا عالمی سطح پر محاسبہ نہیں کیا جاتا اس وقت تک خطے سے دہشتگردی کا خاتمہ کیا جاسکتا ہے نہ ہی امن و استحکام کو یقینی بنایا جاسکتا ہے۔