متحدہ مجلس عمل کی بحالی کا فیصلہ

میڈیا رپورٹوں کے مطابق دینی جماعتوں نے متحدہ مجلس عمل کی بحالی کا اصولی فیصلہ کرلیا ہے اور اس ضمن میں جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمن کو مذاکراتی کمیٹی کی رپورٹ پیش کردی گئی ہے مذاکراتی کمیٹی نے اپنے دو روزہ اجلاس میں متحدہ مجلس عمل کی بحالی کا فیصلہ کیا ہے تفصیلات کے مطابق مولانا فضل الرحمان کو اتحاد کا سربراہ مقرر کیا جائے گا جبکہ سیکرٹری جنرل کا منصب جماعت اسلامی کے حصے میں آئے گا جمعیت علمائے اسلام (ف) پہلے ہی مجلس عمل کی بحالی کی حمایت کرچکی ہے۔ اس وقت جبکہ الیکشن قریب آرہے ہیں متحدہ مجلس عمل کی بحالی کا فیصلہ بے حد اہم ہے بادی النظر میں یہی معلوم ہوتا ہے کہ یہ مذاکرات اور اتحاد مل کر الیکشن میں حصہ لینے کی خواہش کا نتیجہ ہے۔ انتخابی مقاصد کیلئے دینی جماعتیں بہت جلد متحد ہوجاتی ہیں کاش وہ ملک میں فرقہ وارانہ یکجہتی کے قیام اور انتہا پسندی کے خاتمہ کیلئے بھی عقیدے اور مسلک سے بلند ہوکر سوچیں اور اسلام کی حقیقی اصولوں کو ا پنے پیش نظر رکھیں مولانا فضل الرحمان محض ایک دیتی جماعت کے قائد ہی نہیں وہ ایک سیاسی دانشور اور لیڈر بھی ہیں جمہوریت کیلئے ان کی اور ان کے مرحوم والد محترم کی خدمات کو قطعاً نظر انداز نہیں کیا جاسکتا اس لئے ہم سمجھتے ہیں کہ ان کی سربراہی میں جو اتحاد بھی قائم ہوگا وہ مثبت سیاست اور مثبت مقاصد کے حصول میں اہم کردار ادا کرے گا۔لیکن وہ جماعتیں جو دینی مقاصد کو ہمیشہ اپنے پیش نظر رکھتی ہیں اور یہ چاہتی ہیں کہ ملک میں اسلامی اقدار کو رائج و مستحکم کیا جائے انہیں اپنے سیاسی امور اور دیگر سیاسی جماعتوں کے ساتھ قربتوں میں بھی اس نصب العین کو اپنے پیش نظر رکھنا چاہیے اگر کوئی جماعت ایک وقت میں کسی مغرب زدہ یا سیکولر فکر کی حامل جماعت کے ساتھ ہاتھ میں ہاتھ ڈھال کر محبت کی پینگیں بڑھاتی ہے اور اس کے ساتھ شریک اقتدار ہوکر اس کے نظریات کو تقویت دینے میں معاونت کرتی ہے تو اس سے کوئی کیسے توقع کرسکتا ہے کہ وہ کسی دینی اتحاد میں شامل ہوکر اعلیٰ دینی مقاصد کیلئے بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کرسکے گی خیبر پختونخواہ میں جماعت اسلامی ، تحریک انصاف کے ساتھ شریک اقتدار ہے اور سوائے اقتدار کے اس شرکت کی اور کوئی قدر نہیں ہے دونوں جماعتوں میں فکری اور نظریاتی ہم آہنگی کی دور دور تک کوئی علامت موجود نہیں ہے مولانا فضل الرحمان تحریک انصاف اور اس کے قائد کے بارے میں نہایت سنجیدگی اور تشویش کے ساتھ جو گفتگو کرتے ہیں اس سے بھی جماعت اسلامی کے قائدین سمیت سب ہی آگاہ ہیں جماعت اسلامی اگر متحدہ مجلس عمل کی بحالی میں سنجیدہ ہے تو اسے تحریک انصاف کے ساتھ اپنی اس غیر فطری شراکت سے علحیدگی اختیار کرنی ہوگی بصورت دیگر متحدہ مجلس عمل پہلے کی طرح عوام کا اعتماد حاصل نہیں کرسکے گی نظریات کو ایک طرف رکھ کر معمولی سے اقتدار کیلئے کسی بھی ٹولے میں شامل ہوجنا دینی مقاصد کے علمبرداروں کو زیب نہیں دیتا۔