کیا امریکی ایجنسیاں افغانستان میں فضل اللہ گروپ کے ٹھکانوں سے بے خبر ہیں؟

لاہور میں دہشت گردی کا واقعہ نہ صرف انتظامیہ اور سیکورٹی فورسز کے لئے ایک چیلنج ہے بلکہ یہ اس اعتبار سے دعوت فکر بھی ہے کہ قوم کو اگر دہشت گردی سے مکمل طور پر چھٹکارا حاصل کرنا ہے تو اسے اتحاد و یکجہتی کے جذبے کوبرقرار رکھنا ہوگا پانچ ماہ کے عرصہ میں بڑے صوبے کے دارالحکومت میں یہ دوسرا واقعہ تھا اس واقعہ میں نو پولیس اہلکاروں سمیت 26 افراد شہید ہوئے جبکہ 57افراد کے زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں واقعہ اس وقت پیش آیا جب ارفع کریم ٹاور کے قریب پرانی عمارتوں کو گرایا جارہا تھا سہ پہر چار بجے  کے قریب عملہ اپنا کام کر رہا تھا اور پولیس اہلکار ایک درخت کے نیچے موجود تھے کہ اچانک ایک موٹر سائیکل پر سوار خودکش حملہ آور نے ان کے قریب جا کر اپنے آپ کو اڑا دیا اس دھماکہ کے بعد ہر طرف تباہی پھیل گئی جہاں26افراد شہید اور 57زخمی ہوئے وہاں متعدد موٹر سائیکلوں اور گاڑیوں کو بھی شدید نقصان پہنچا پولیس حکام کے مطابق دہشت گرد کا ہدف پولیس اہلکار تھے تاہم یہ سوال اپنی جگہ موجود ہے کہ ریڈ زون کے اس علاقے میں جہاں قریب ہی وزیراعلیٰ پنجاب کی رہائش گاہ بھی ہے موٹر سائیکل پر سوار خودکش حملہ آور کیسے پہنچا اگر علاقے میں ناکوں پر پولیس مستعد ہوتی تو اسے بہت پہلے کہیں روکا جاسکتا تھا یہ درست ہے کہ خودکش حملہ آور کا کوئی توڑ نہیں ہے جس نے اپنے آپ کو اڑانا ہے اس نے دوسری قیمتی جانوں کو بھی ہلاک کرنا ہے تاہم سخت چیکنگ کے ذریعے اسے اس کے ہدف تک پہنچنے سے ضرور روکا جاسکتا ہے اگر اس واقعہ میں ناکوں اور دیگر مقامات پر سخت چیکنگ کی جاتی ہے تو خودکش حملہ آور کی ہدف تک رسائی نہیں ہوسکتی تھی یہ امر غور طلب ہے کہ دہشت گردوں نے اب موٹر سائیکل کے ذریعے وارداتوں کا سلسلہ شروع کیا ہے  جبکہ ماضی میں جب جنوبی وزیرستان سمیت بعض قبائلی علاقوں میں انہوں نے اپنے ٹھکانے قائم کر رکھے تھے وہ دھماکہ خیز بارود سے بھری گاڑیوں کو ہدف سے ٹکرا کر بہت زیادہ تباہی پھیلاتے تھے مگر اب چونکہ ان کی کمر ٹوٹ چکی ہے اس لئے موٹرسائیکل کے ذریعے خودکش حملہ آور واردات کرتے ہیں یقینا دہشت گردی کے خاتمے کی جانب قوم نے زبردست کامیابیاں حاصل کی ہیں وارداتوں میں نوے فیصد سے زائد کمی واقع ہوئی ہے لیکن قوم کو اس جنگ میں مزید اپنا کردار ادا کرنا ہے اب بھی پنجاب سمیت ملک کے بعض علاقوں میں دہشت گرد اور ان کے سہولت کار موجود ہیں جو وطن عزیز میں دشمن کے ایجنٹوں کا کردار ادا کر رہے ہیں ہم سب جانتے ہیں کہ ہماری ترقی خوشحالی اور یکجہتی کا دشمن کون ہے کس نے اعلانیہ سی پیک کو سبوتاژ کرنے کے مذموم عزائم ظاہر کئے ہیں اور کون بلوچستان کو عدم استحکام سے دوچار کرنے کی باتیں کر رہا ہے ؟ کون ہے جس نے تخریب کاری کے لئے نیٹ ورک قائم کرنے کی کوششیں کیں اور اپنے جاسوس بھیجے ہیں؟ اس صورتحال میں جبکہ پوری قوم اپنے دشمن اور اس کے  عزائم سے باخبر ہے اس کے لئے اپنے اتحاد اور یکجہتی کو برقرار رکھنا بے حد ضروری ہے۔ کالعدم تحریک طالبان پاکستان نے لاہور کے واقعے کی ذمہ داری قبول کی ہے  اس  دہشت گرد گروہ کے سربراہ ملا فضل اللہ ہے سوات سے فرار ہونے کے بعد اب تک افغانستان میں ٹھکانے قائم کر رکھے ہیں جبکہ افغانستان میں موجود ایک درجن سے زائد بھارتی قونصلیٹ جو درحقیقت ''را'' کے دفاتر کی حیثیت سے کام کر رہے ہیں وہ پاکستان مخالف ان عناصر کے ذریعے دہشت گردی کرواتے ہیں انہیں اسلحہ' سرمایہ  اور اہداف دیتے ہیں۔ یہ سوال اپنے اندر زبردست معنویت رکھتا ہے کہ اب تک افغان فورسز' امریکی اور نیٹو فورسز نے ملا فضل اللہ کے خلاف کارروائی کیوں نہیں کی؟ اس کے پاکستان مخالف دہشت گرد گروہ کو ختم کرنے کے لئے کوئی بھی موثر آپریشن کیوں نہیں کیا جاسکا' امریکہ جو پاکستان پر حقانی نیٹ ورک کو تحفظ دینے کے الزامات عائد کرتا ہے ابھی تک پاکستان کی سرزمین پر اس کا وجود ثابت نہیں ہوسکا اس کے برعکس فضل اللہ گروپ کے افغانستان میں موجودگی کو تو افعان حکومت بھی تسلیم کرتی ہے تاہم یہ عذر پیش کرتی  ہے کہ وہ اس کے ٹھکانے سے لاعلم ہے امریکہ جس نے دنیا سے دہشت گردی کے خاتمے کا پرچم اٹھا رکھا ہے درحقیقت بہت سے علاقوں میں اپنے مخصوص مفادات کے لئے دہشت گردی کی حوصلہ افزائی کر رہا ہے اور دہشت گردوں کو استعمال کر رہا ہے افغانستان میں ملا فضل اللہ گروپ کے محفوظ ٹھکانے اس کا بہت بڑا ثبوت ہیں۔