اسلامی نظریاتی کونسل کے سربراہ کی تقرری میں تاخیر کیوں؟

موجودہ حکومت کو اس کے ناقدین کی طرف سے اکثر و بیشتر اس بات پر تنقید کا نشانہ بنایا جاتا ہے کہ یہ اہم اداروں کے سربراہوں کی تقریروں کے سلسلے میں بروقت فیصلے کرنے کی صلاحیت سے عاری ہے چنانچہ متعدد اداروں میں قائمقام سربراہوں سے کام چلایا جارہا ہے جبکہ بعض اداروں میں تو قائمقام افرادکا بھی تقرر نہیں کیا جاسکا ہم سمجھتے ہیں  اس قسم کے اعتراضات درست ہیں یہ صورتحال وزیراعظم آفس میں موجود وزیراعظم کے ان معاونین کی انفرادی کمزوریوں کا نتیجہ ہے جن کے فرائض  میں شامل ہے کہ وہ سربراہوں کے بغیر اداروں میں سربراہوں کے چنائو کے لئے وزیراعظم کو قواعد کے مطابق افسروں کا پینل بھیجیں تاکہ متعلقہ ادارے میں جلد از جلد تقرری کی جاسکے گٹھ گورننس کا تصور فعال' مستعد اور باصلاحیت و دیانتدار مشینری کے بغیر ممکن نہیں ہے اور اس کے لئے یہ لازم ہے کہ باصلاحیت اور متحرک شخصیات کو متعلقہ اداروں کی سربراہی سونپی جائے مگر بدقسمتی سے موجودہ حکومت کے معاملے میں صورتحال اس کے برعکس ہے۔ اس ضمن میں اسلامی نظریاتی کونسل کے چیئرمین کے منصب پر عدم تقرری کی مثال دی جاسکتی ہے نظریاتی کونسل کے چیئرمین کا منصب گزشتہ سات ماہ سے خالی پڑا ہے جمعیت علمائے اسلام (ف) کے رہنما مولانا محمد خان شیرانی کی آئینی مدت مکمل  ہونے کے بعد اس عہدے پر تاحال کسی کا تقرر نہیں کیا جاسکا۔ سربراہ نہ ہونے کے  باعث سات ماہ سے ادارے کا اجلاس بھی منعقد نہیں ہوسکا چنانچہ بہت سے فیصلے نہیں کئے جاسکے یاد رہے کہ مولانا محمد خان شیرانی تین سالہ آئینی مدت کے بعد دسمبر 2016ء میں ریٹائر ہوچکے ہیں لیکن کونسل ابھی تک نئے چیئرمین سے محروم ہے معلوم ہوا ہے کہ مولانا محمد خان شیرانی نے اپنی ریٹائرمنٹ سے قبل دس ممبران کی ایک فہرست وزیراعظم کے دفتر کو منظوری کے لئے بھجوائی تھی لیکن تین دفعہ بھجوائی جانے والی فہرست کی اب تک منظوری نہیں دی جاسکی چیئرمین کا منصب خالی ہونے کے باعث کونسل کے انتظامی امور شدید مسائل سے دوچار ہیں۔ یہاں اس امر کا ذکر بھی ضروری ہے کہ آئین کے تحت کونسل کے کم سے کم ارکان کی تعداد آٹھ ہے جبکہ زیادہ سے زیادہ بیس ہے اس وقت اس کے موجودہ ارکان کی تعداد آٹھ ہے اور بارہ کی تقرری ہونی ہے اس مقصد کے لئے وزیراعظم کو سمری بھجوائی جاچکی ہے یہ لازمی ہے کہ نہ صرف بارہ ارکان کی فوری طور پر تقرری کی جائے بلکہ کونسل کے چیئرمین کی تقرری کے بارے میں بھی جلد فیصلہ کیا جائے نظریاتی کونسل جیسے ادارے کی عدم فعالیت حکومت کی نیک نامی کے لئے دھبہ ہے نظریاتی کونسل کی رپورٹوں  پر نہ صرف پارلیمنٹ میں بحث ہونی چاہیے بلکہ حکومت کو ان سے استفادہ بھی کرنا چاہیے۔