آرمی چیف کی طرف سے افغانستان کو تعاون کی پیشکش

کور ہیڈ کوارٹرز لاہور میں ایک اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا کہ علاقائی ایکٹرز اور دشمن ایجنسیاں دہشتگردی میں ملوث ہیں ہم افغانستان کے سرحدی علاقوں میں دہشتگردوں کے محفوظ ٹھکانے ختم کرنے کیلئے مدد کرنے کو تیار ہیں جب تک افغان سرزمین دہشتگرد استعمال کرتے رہیں گے دونوں ملک مشکلات کا شکار رہیں گے تاہم ایسے واقعات دہشتگردی کے خلاف ہمارے عزم کو کمزور نہیں کرسکتے آئی ایس پی آر کے مطابق آرمی چیف نے کہا کہ دہشتگردی کے خلاف ہمھ سب متحد ہیں اس جنگ میں کامیابی کیلئے عوام کا تعاون ضروری ہے عوام مشکوک نقل و حرکت سے سکیورٹی فورسز کو آگاہ کریں انہوں نے کہا کہ پاک فوج پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنیوالوں اداروں کی کارکردگی کے حوالے سے عوام کے ساتھ کھڑی ہے آرمی چیف نے کہا کہ ماسٹر مائنڈ ، سہولت کاروں اور حملہ کرنیوالے دہشتگردوں کا گٹھ جوڑ توڑنے کے حوالے سے ہمیں کامیابی مل رہی ہے ہم دہشتگردوں اور ان کے سہولت کاروں کے تمام ذرائع اور روابط ختم کردینگے علاقائی عناصر اور دشمن انٹیلی جنس ایجنسیاں دہشتگردی کو پالیسی ٹول کے طور پر استعمال کررہی ہیں دشمن ممالک کی خفیہ ایجنسیاں پاکستان میں دہشتگردی کی کارروائیوں میں ملوث ہیں کابل اور لاہور میں یکے بعد دیگرے دھماکوں سے یہ بات واضح ہے کہ دونوں ممالک دہشتگردی سے یکساں طور پر متاثر ہیں جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا کہ جیسے پاکستان نے اپنی سرحدوں پر دہشتگردوں کی پناہ گاہوں کا خاتمہ کیا ویسے ہی افغانستان کے سرحدی علاقوں سے دہشتگردوں کی پناہ گاہیں ختم کرنے کیلئے ہم کابل کی مدد کرنے کیلئے تیار ہیں۔ آرمی چیف کی محولہ پیشکش اس امر کا ثبوت ہے کہ پاکستان افغانستان میں دہشتگردی کے خاتمے اور امن کے قیام میں بے حد سنجیدہ ہے یہ اٹل حقیقت ہے کہ دہشتگردی پاکستان اور افغانستان دونوں کا مشترکہ مسئلہ ہے اور اس میں کامیابی حاصل کرنے کیلئے دونوں کا ایک دوسرے سے تعاون بے حد ضروری ہے بارڈر مینجمنٹ اور انٹیلی جنس تعاون سے ہی دونوں ممالک اس امر کو یقینی بنا سکتے ہیں کہ ان کی سرزمین ایک دوسرے کے خلاف استعمال نہ ہوسکے صورتحال کا یہ پہلو بے د اہم ہے کہ بعض دہشتگرد گرہوں نے افغانستان کی سرحد سے ملحقہ علاقوں میں اپنے ٹھکانے قائم کررکھے ہیں کابل انتظامیہ کا ان علاقوںپ ر کنٹرول نہیں ہے جبکہ ان علاقوں کے دہشتگرد آسانی سے سرحد پار آتے جاتے اور اپنی مذموم کارروائیاں جاری رکھتے ہیں اس پس منظر میں پاکستان کی پیشکش بے حد اہمیت کی حامل ہے کہ وہ افغان سرحد سے ملحقہ دہشتگردوں کے ٹھکانوں کے خلاف کابل انتظامیہ کی مدد کیلئے تیار ہیں پاکستان نے اپنی سرحد سے ملحقہ تمام علاقوں کو کلیئر کرلیا ہے اور ان میں موجود دہشتگردوں کے ٹھکانے تہس نہس کردئیے ہیں لیکن اس کے برعکس افغانستان کی حکومت اس نوع کی کارروائی نہیں کرسکتی اب اسے پاکستان کی محولہ پیشکش کو قبول کرنے میں کوئی عار محسوس نہیں کرنا چاہیے پاکستان نے ہر معاملہ میں ہمیشہ افغانستان کے ساتھ تعاون کیا ہے ماضی کی طرح دہشتگردی کے خلاف جنگ میں بھی اس سے تعاون کرسکتا ہے تاہم اسے اپنے طرز عمل پر بھی نظر ثانی کرنی چاہیے کابل کی طرف سے اسلام آباد پر بے بنیاد الزامات نے دونوں ملکوں کے درمیان فاصلے پیدا کئے ہیں الزامات کشیدگی کا باعث بنتے اور فاصلے پیدا کرتے ہیں یہ مسائل کو حل کرنے یا باہمی تعاون کا وسیلہ نہیں بنتے بھارتی گرمجوشی سے سرشار کابل حکومت کو ٹھنڈے دل کے ساتھ یہ سوچنا چاہیے کہ بھارت اسکی سرزمین کو پاکستان کے خلاف استعمال کرکے اپنے مقاصد تو حاصل کررہا ہے لیکن اسکی اس مہم جوئی سے افغانستان کو کیا حاصل ہورہا ہے وہ مسلسل دہشتگردی اور تباہی سے دو چار ہے اور اس کے بیشتر شہر و گائوں کھنڈر بن چکے ہیں اشرف غنی حکومت کو امن کی جانب پیش رفت کرنی چاہیے اور اس حقیقت کو فراموش نہیں کرنا چاہیے کہ ہمسایہ پاکستان اس کیلئے ناگزیر ہے اس کا مستقبل پاکستان سے جڑا ہے بھارت سے نہیں ، بھارتی رویوں کا جائزہ لینے کیلئے بھارت کے مسلمانوں کی حالت زار کا جائزہ لینا بھی ضروری ہے۔